راولپنڈی مری روڈ پر لگژری گاڑی کے مالک کی کھلی بدمعاشی۔موٹر سائیکل سوار کو گاڑی کے بونٹ پر بٹھا کر سڑک پر گھماتا رہا۔
گاڑی کا مالک موٹرسائیکل کو گاڑی آگے باندھ کر گھسیٹتا رہا۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
صوبے کا وزیراعلیٰ پہلے اپنے مہاتما کو رہا کروا لے, اسکے بعد شاید غریب کی بچی بازیاب کروانے کیلئے نوٹس لے سکے-
ویسے آپس کی بات ہے, وزیراعلیٰ سمیت ساڑھے چار کروڑ آبادی والے صوبے میں سب کچرا ہے- ورنہ کوئی ایک تو انسان کا بچہ ایسا ہوتا جو اس مظلوم کی بات سن لیتا.....!!!
سپر سی ایم محترمہ @MaryamNSharif صاحبہ
السلام علیکم
میڈم, ذرا پہلی اور دوسری وڈیو میں ملاحظہ فرمائیں کہ کیسے دیواروں میں سے رس کر سیوریج کا گندا پانی مذکورہ بہن کے گھر میں داخل ہو رہا ہے کہ انہیں اپنے کمرے کے اندر اس پانی کو پھیلنے سے روکنے کی غرض سے ایک نالی بنانی پڑی ہے- کیا اس سے پہلے آپ نے کہیں دیکھا ہے کہ سیوریج کے پانی کیلئے گھر کے اندر نالی بنائی جائے؟
میڈم, 2 ستمبر کو منسلکہ پوسٹ میں اس بہن کے گھر کے عقب والی گلی کی بوسیدہ سیوریج لائن کو زیادہ گنجائش والی لائن سے تبدیل کرنے کی گزارش آپکی خدمت میں بذریعہ @CMComplaintCell اور @SaimaFarooq صاحبہ پیش کی تھی جسکا نوٹس اسی دن لے لیا گیا تھا لیکن تاحال صورتحال جوں کی توں ہے-
مذکورہ بہن کے گھر کی بنیادیں اس ناکافی سیوریج لائن کے ابلتے گٹروں کے پانی (تیسری اور چوتھی ویڈیو) کے مسلسل بہاؤ کی وجہ سے دھنس رہی ہیں- اوپر کے فلور کی دیواروں میں پڑے کریک اسکی گواہی ہیں-
میں ایک مرتبہ پھر ملتمس ہوں کہ مذکورہ تنگ اور ناکافی سیوریج لائن کو نسبتاً زیادہ گنجائش والی سیوریج لائن سے تبدیل کروانے کے ہنگامی بنیادوں پر احکامات صادر فرمائیں, قبل اسکے کہ دیر ہو جائے-
جزاک الله - شکریہ
اچھا ہوا یہ سب کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا، ورنہ کسی کو یقین ہی نہ آتا کہ ٹریکٹر کے ساتھ ہوا کیا تھا۔
سڑک پر چلتے ہوئے ہمیشہ احتیاط برتیں کیونکہ ایک چھوٹی سی لاپرواہی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ 👇⚠️
صحافی: جناب آپ نے محسن نقوی سے ملاقات کی اور ہماری خبر کے مطابق استخارے کے بعد ایف ایٹ میں ملاقت کی-
ناصر عباس: جی نہیں, میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی-
صحافی: ہماری خبر کنفرم ہے اور ثبوت بھی ہیں-
ناصر عباس: دیکھیں میرا استخارہ عام نہیں, میرے استخارے میں یہ بات آئی کہ پاکستان کے مسائل کا حل محسن نقوی سے ملنے میں ہے-
(تو بات استخاروں تک لے آئے 🤣🤣🤣- ویسے بھی پاکستان میں عقیدت سے جڑی ہر مذہبی شعبدہ بازی/مفاد/دھندے کیلئے خواب, کشف, کرامت, بشارت, الہام اور استخارے کا ہی سہارا لیا جاتا ہے- یہ سب رانگ نمبرز ہیں)-
کردستان لبریشن ارمی بھی کئی سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ اور کردستان لبریشن ارمی کی فوجوں میں بہت بڑی تعداد میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔۔ یہ بلوچ لبریشن ارمی والے اسی کردستان لبریشن ارمی کی نقل میں اپنی صفوں میں اب عورتوں کو شامل کر رہے ہیں۔۔
ترک فوج ان کرد دہشت گرد عورتوں پر بالکل بھی رحم نہیں کرتی۔۔ ان کو بھی اسی طرح قتل کرتی ہے جیسے کردستان لبریشن ارمی کے مرد دہشت گردوں کو۔۔۔ اس ویڈیو میں دیکھیں۔۔
کردستان لبریشن ارمی کی کچھ لڑاکہ عورتوں کو ترک فوج نے گرفتار کیا۔ وہیں محاز جنگ پر ان کو کھڈوں میں پھینک کر قتل کر دیا۔ مسئلہ وہیں ختم کر دیا۔ کوئی ترس نہیں کھایا، کوئی عورت کارڈ سے متاثر نہیں ہوئے، کوئی قانونی ڈرامہ نہیں۔۔۔۔ میدان جنگ میں ہی فیصلہ۔
کو اب ان بلوچستان لبریشن ارمی کی دہشت گرد عورتوں کے ساتھ بھی یہی کرنا ہوگا۔ ہم ضرورت سے زیادہ رحم دل ہیں۔۔
پاک افغان بارڈر (اورکزائی) سیکٹر پر شدید فائرنگ کا تبادلہ-
زیارت پوسٹ, دوران پوسٹ-1, دوران پوسٹ-2, اتاسر پوسٹ, شاگا پوسٹ-1 اور شاگا پوسٹ-2 سے پاک فوج کا منہ توڑ جواب-
بڑی تعداد میں فتنہ الخوارج (طالبان) جہنم واصل ہونے کی اطلاعات-
اگر ان جاہلوں کا یہ خیال ہے کہ ایسی اشتعال انگیز باتوں سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل کر لینگے تو یہ انکی بھول ہے- ریاست ہر قسم کے دباؤ اور بدمعاشی کو مسترد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو چکی ہے-
ایسے بیانات دیکر یہ پارٹی کو مقتدرہ کی نظروں میں ملک دشمن بناتے چلے جا رہے ہیں- ایک جاہل طبقہ انکی ایسی باتوں سے متاثر ضرور ہوتا ہو گا لیکن سیاست کرنا انکے بس کی بات نہیں-
دوستوں کو یاددہانی کرواتا چلوں کہ یہ وہی اقبال آفریدی ہے جس کے دو بیٹوں نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے جبکہ یہ خود پاکستان-افغانستان کے منشیات کارٹل کا ایک سرگرم رکن ہے اور اسکی ایک ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی جس میں میں یہ خیبر پختونخواہ کی ایک سڑک پر کھڑا پولیس والوں کو ڈانٹ رہا تھا کہ آئندہ یہاں نظر مت آنا, یہاں سے ہمارے افغانی دوستوں کے سامان کے ٹرک گذرتے ہیں-
قطع نظر اسکے کہ حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کا قافلہ جوں جوں آگے بڑھتا رہا, پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی رہیں لیکن انکا مارچ عوام کے وسیع تر مفاد میں تھا اور اسکی ستائش کرنا بنتا ہے-
مسلم لیگ کی قیادت بھی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے لیکن معاملات کو عملی طور پر نبھانے اور اپوزیشن بینچز پر بیٹھ کر تنقید کرنے میں فرق ہوتا ہے-
لیکن وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی فہم و فراست کو سلام کہ انہوں نے امریکہ سے جماعت اسلامی کیساتھ رابطہ کیا اور واپس آ کر بات چیت کیلئے آمادگی ظاہر کی-
حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کا بھی بڑا پن کہ انہوں نے وزیراعظم کی کہی بات پر بھروسہ کیا اور اپنے مارچ کو موخر کیا-
میرے ذاتی خیال میں اپنی اتحادی پارٹی ایم کیو ایم کو ساتھ رکھتے ہوۓ اگر جماعت اسلامی کو انکی عوامی مہم کے سلسلے میں سیاسی فائدہ پہنچا کر انسے اپنے سیاسی تعلقات کو استوار کیا جائے تو یہ مستقبل قریب میں کراچی کی بہتری کیلئے ایک انتہائی دانشمندانہ قدم ثابت ہو سکتا ہے- ایسا کرنے میں کسی کی ہار نہیں, سب کی جیت ہے اور عوام کی فلاح بھی ہے-
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی, بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ ہم دونوں طواف آرزو کرتے
مگر پھر آرزوؤں کا بکھرنا بھی ضروری تھا
نبیل عباس نے کمال کر دیا....مگر آنسو....!!!
PJ
دوستوں, بہنوں اور بھائیوں...!!! 💞
بہاولپور سے ہماری پیاری اور لائق بیٹی حنا وحید @hinaw3013 نے "نور حنا بیوٹی سٹوڈیو" کے نام سے اپنا یوٹیوب چینل لانچ کیا ہے- حنا نے اپنے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود ایم فل تک تعلیم حاصل کی لیکن جنوبی پنجاب میں معاشی سرگرمیاں کم ہونے کی وجہ سے ابتک کوئی معقول جاب حاصل نہیں کر سکیں- ہمیں چاہیئے کہ انکے بیوٹی سٹوڈیو والے کام کو پروموٹ کرنے کیلئے اپنا اپنا حصّہ ضرور ڈالیں جس میں کوئی خرچہ بھی نہیں ہے-
میں اپنے تمام دوستوں, بہنوں اور بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ہماری قابل فخر حنا بیٹی کے اس یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب اور شیئر کریں-
آپ سب کا پیشگی شکریہ-
https://t.co/uRAIi4Xe9q
رحیم یار خان کی خواجہ فرید یونیورسٹی کی مبیّنہ طور پر ہراسگی کی شکار طالبہ کی طرف سے وائس چانسلر کو بھیجی گئی یہ ای میل, اسکا جواب اور جواب الجواب کل سے سوشل میڈیا پر وائرل ہیں-
چلیں میں کچھ دیر کیلئے تنقید کرنے والوں کی بات مان لیتا ہوں کہ یہ سارا مواد فیک ہے, تب بھی حکومت اور اداروں کیلئے اسکی تحقیق کرنا اور اسکے پیچھے کارفرما کرداروں تک پہنچنا ضروری ہے-
میں ایک مرتبہ پھر پنجاب حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ معاملے کی NCCIA کے ذریعے تحقیقات کیلئے احکامات جاری کیئے جائیں-
اگر طالبہ کیساتھ ہراسگی ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف ایک قبیح جرم ہے بلکہ سپر سی ایم کی خواتین کے خلاف جرائم کی لاگو کردہ ریڈ لائن کی کراسنگ بھی ہے-
اگر یہ فیک مواد کیساتھ کسی استاد کو بدنام کرنے کی کمپین ہے, تب بھی یہ ایک سنگین جرم ہے-
ہر دو صورتوں میں ذمہ دار افراد تک پہنچنا اور انہیں قرار واقعی سزا ہونا لازم ہے کیونکہ اس سکینڈل نے نہ صرف تعلیمی ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھا دیا ہے بلکہ ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچیوں اور انکے والدین کو ایک مسلسل خوف کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے-