ہاکستانی شوبز کی اداکارہ سعدیہ امام نے روتے ہوے اک ویڈیو مسیج بیان ریکارڈ کرایا ۔انتہای جذباتی کر دینے والا بیان ۔یہ الفاظ نہی اس ملک کے نظام کا نوحہ ہے
میں مر گئی۔ یہ الفاظ کسی نے یونہی نہیں لکھے ہیں۔ یہ الفاظ اس وقت نکلے ہیں جب شوبز سٹار سعدیہ امام ایک ماں نے اپنی سکرین پر وہ رپورٹ پڑھی جس میں ایک معصوم بچی کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کتنا وحشی ہوگا وہ انسان جس نے یہ کیا۔ کتنا جانور ہوگا وہ جسم جو انسان کہلاتا ہے مگر انسانیت اس میں کہیں باقی نہیں بچی۔
گجرات میں ایک چار سالہ بچی۔ بھکر میں ایک معذور بچی۔ چکوال میں ایک پیر کے ہاتھوں ایک کمسن بیٹی۔ راولپنڈی میں بارہ برس کی ایک زندگی۔ میاں چنوں میں آٹھ برس کی ایک مسکراہٹ۔ منڈی بہاؤالدین میں ایک سولہ سالہ بیٹا۔
یہ صرف نام نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو صبح سکول جانے کے لی�� تیار ہوتے تھے۔ یہ وہ بچیاں ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ لپٹ کر سوتی تھیں۔
اور ہم کہتے رہے کہ ریاست ماں ہے۔ ریاست ہمیں بچائے گی۔ مگر ریاست کہاں ہے۔
پمز ہسپتال میں آگ بھڑکی۔ بچے جل کر مر گئے۔ اور کسی ڈاکٹر کسی نرس کو ایک آنچ تک نہ آئی۔ یہ سوال میڈیا پوچھتی رہی۔ یہ سوال ایک ماں کا دل پوچھتا رہا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔
زینب سے نور مقدوم تک۔ آیت النور سے ان گنت گمنام بچیوں تک۔ کتنے مجرموں کو سزا ملی۔ کوئی گنتی نہیں۔ کوئی فیصلہ وقت پر نہیں ہوتا۔ کوئی سزا سرعام نہیں ہوتی۔ اور مجرم جانتا ہے کہ اسے سزا نہیں ملنی۔ پیسہ چلے گا تو راستہ نکل آئے گا۔ تو وہ پھر وہی کرے گا۔
میں ایک ماں ہوں۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ میرا دل اس وقت پھٹ رہا ہے۔اس ماں پر کیا گزرتی ہو گی جو اپنی بچی کا خون سے لت پت پمپر دیکھا ہو گا کسی نے ٹوٹی ہوی ہڈیاں دیکھی ہو گی ۔
دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہے گی۔ ایوارڈ شوز چلیں گے۔ محفلیں سجیں گی۔ مگر ایک بات ہمیں کہنی ہوگی۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے کسی کی بیٹی ہیں۔ کسی کی بہن ہیں۔ کسی کی ماں ہیں۔
اور خاموشی اب گناہ بن چکی ہے۔ جو خاموش ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ جس نے دیکھا اور کچھ نہ بولا وہ بھی شریک ہے۔ جس نے چھپایا وہ سب سے بڑا مجرم ہے۔
آج ایک پولیس افسر کی بیوی ڈمبل اٹھا کر ایک کمزور عورت کو مارتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ نظام میرا ہے۔ طاقت میری ہے۔ قانون میرے ہاتھ میں ہے۔ قانون کہاں چلا گیا۔ انصاف کہاں چلا گیا۔
ہمارے حکمران اپنے علاج کے لیے لندن جاتے ہیں۔ جرمنی جاتے ہیں۔ امریکہ جاتے ہیں۔ اور عام آدمی سرکاری ہسپتال کی دہلیز پر دم توڑ دیتا ہے۔
اگر ایک ق��نون بن جائے کہ ہر وزیر اپنے ہی شہر کے سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے۔ ہر وزیر کے بچے اسی ہسپتال میں پیدا ہوں۔ تو شاید ہسپتال بھی بدل جائیں۔ شاید نظام بھی بدل جائے۔
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی بیٹی کو سکھایا کہ غلط کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ کیا ہم نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ کسی لڑکی کو تکلیف میں دیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ یا ہم نے صرف موبائل نکالنا اور ویڈیو بنانا سکھایا ہے۔
آج کسی اور کی بیٹی کا ذکر آسان لگتا ہے۔ مگر یہ آگ کسی کے بھی گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ اللہ نہ کرے یہ درد کسی اور ماں کے حصے میں آئے۔
جس ماں نے اپنی بچی کا پیمپر کھولا اور خون میں لتھڑا جسم دیکھا۔ جس ماں نے اپنی بیٹی کی ٹوٹی ہوئی پسلیاں دیکھیں۔ اس دل پر کیا گزری ہوگی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہم کون ہیں۔
خدا کے واسطے اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ خدا کے واسطے مجرموں کو سزا دیں۔ سرعام سزا دیں۔ ایک ہفتے میں انصاف ہو۔ ورنہ لوگ خود انصاف کرنے نکلیں گے۔ اور جب لوگ خود انصاف کرنے نکلتے ہیں تو وہاں سے فساد شروع ہوتا ہے۔
یہ ملک لا الہ الا اللہ کہہ کر بنا تھا۔ اس کی بنیاد میں انصاف تھا۔ ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔ جان کے بدلے جان۔ آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ اصول کہاں کھو گئے۔
سوشل میڈیا کھلا ہے۔ بغیر کسی حد کے۔ بغیر کسی عمر کی قید کے۔ پوری دنیا میں اس پر قانون ہے۔ ہمارے یہاں کیوں نہیں۔
اب بس۔ اب مزید برداشت نہیں۔ ایک ماں کے ہاتھ جڑے ہیں۔ ایک قوم کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔
خدا کے واسطے اب کوئی تو جاگے۔ خدا کے واسطے اب کوئی تو بولے۔ کیونکہ خاموشی اب سب سے بڑا گناہ بن چکی ہے ۔
پمز ہسپتال میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی بھابھی بتیجھے تین عورتوں اور ایک نومولود بچے کی زندگی بچانی والی راولپنڈی کی پندرہ سالہ منیبہ جب سب لوگ عملے سمیت بھاگ رہے تھے تب منیبہ نے اندر جاکر اپنی بھابھی بتیجھے اور تین عورتیں اور آخری لمحے میں جب سب کچھ ناممکن تھا ہرطرف دھواں تھا نومولود بچے کو اٹھا کر صیح سلامت باہر لے آئی۔
یہ ہے قومی ہیرو تمغہ ہلال امتیاز سے ایسے ہیروز کو نوازنا چاہئیے ناچنے والوں کو نہیں
بشری جی، "ستلج" کہانی ہے پنجاب کی۔ چڑھدے اور لہندے دونوں پنجاب کی۔ کہانی ہے بلوچستان کی۔ کہانی ہے کشمیر کی۔
دوسرا آپ نے پوچھا کہ "ستلج" کے ہیرو جیسے لوگ اب کہاں ہیں؟ عرض ہے کہ اس سے کہیں بڑا ہیرو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جمہوریت، اور عوام کے حقوق کا ایسا چیمپین ہندوستان کے حالیہ اہتہاس میں نہيں ملتا۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کا�� کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو ��س بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ ��وگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
🚨عمران خان کی ایسی ویڈیو اپ نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی شہزادہ ایسی زندگی گزارنے والے شخص نے ہمارے لئے سب کچھ قربان کر دیا آج ہمارے لئے کن حالات میں پڑا ہوا ٹکے ٹکے کے لوگ اٹھ کر بھونک لیتے ہیں مگر افسوس ہم پر
عمران خان کا سنہری دور بہت یاد اتا ہے
بریکنگ نیوز 🚨جین زی چھا گئی، کمال ہوگیا۔ عمران خان پر ڈاکومنٹری بنا ڈالی 🔥🔥
بڑے بڑے دانشور سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ دس سالہ بچے نے 78 سالہ نظام کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے، سب آخر تک دیکھو اور وائرل کردو۔ تُم ہار چکے ہو وہ اگلی تین نسلیں تیار کرچکا ہے۔