اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا پکارا تھا کہاں
روکتے کس طرح وہ شخص ہمارا تھا کہاں
تھی کہاں ربط میں اس کے بھی کمی کوئی مگر
میں اسے پیارا تھا پر جان سے پیارا تھا کہاں 🥀
بے سبب ہی نہیں مرجھائے تھے جذبوں کے گلاب
تو نے چھو کر غم ہستی کو نکھارا تھا کہاں
بیچ منجھدار میں تھے اس لیے ہم پار لگے
ڈوبنے کے لیے کوئی بھی کنارا تھا کہاں 🍁
آخر شب مری پلکوں پہ ستارے تھے کئی
لیکن آنے کا ترے کوئی اشارا تھا ��ہاں
یہ تمنا تھی کہ ہم اس پہ لٹا دیں ہستی
عیش اس کو مگر اتنا گوارا تھا کہاں
ہوا ایک مرتبہ پھر سے سمجھوتہ نہیں ہونا
اسے کہنا ، میری آنکھوں سے پوشیدہ نہیں ہونا
ہمیں کھو کر بہت دن بعد سمجھو گے کہ کیا کھویا
خسارے کا تمہیں فی الحال اندازہ نہیں ہوتا
یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے
سمجھتے ہیں مجھے کر دیں گے بد گماں تجھ سے
مرے شجر مجھے بازو ہلا کے رُخصت کر
کہاں ملیں گے بھلا مجھ کو مہرباں تجھ سے
خدا کرے کہ ہو تعبیر خواب کی اچھی
ملا ہوں رات میں پھولوں کے درمیاں تجھ سے
بدن کے جام میں کھلتے گُلاب جیسی ہے
سُنا ہے اُس کی جوانی شراب جیسی ہے
کنول کنول ہے سراپا، غزل غزل چہرہ
وہ ہو بہو کِسی شاعر کے خواب جیسی ہے
اندھیرے دور کرے سب کی پارسائی کے
وہ ایک شکل کہ جو ماہتاب جیسی ہے
قتیلؔ میں نے کیا پیار اک ستمگر سے
یہ وہ خطا ہے جو کارِ ثواب جیسی ہے