اطلاعات کے مطابق آج رات سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات متوقع ہے
بتایا جارہا ہے کہ سہیل آفریدی کی محسن نقوی اور شہباز شریف سے منت سماجت اور بار بار درخواستیں کرنے کے باوجود مختصر وقت یعنی 10، 15 منٹ کیلئے ملاقات کی اجازت دی جائے گی
ملاقات کی اجازت جن باتوں سے مشروط کر دی گئی ہے
سہیل آفریدی انہی باتوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملاقات کرینگے
یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ملاقات کے بعد سہیل آفریدی پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس بھی کرینگے
جبکہ پریس کانفرنس میں بھی تمام لوازمات کا خاص خیال رکھا جائے گا
اس پریس کانفرنس میں ناراض ارکان سے متعلق کوئی سخت فیصلے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے
تاہم ایک اور ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ تاحال ملاقات کرانے یا نہ کرانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے
خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر آج پشاور سمیت خیبر پختونخوا بھر میں کارکن صحافیوں،اور دیگر میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ، جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے،اس سلسلے میں مرکزی احتجاج پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں بھی صحافی برادری نے احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور احتجاجی اجتماعات میں بھرپور شرکت کی،پشاور پریس کلب کے سامنے ہونے والے مرکزی احتجاج میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت مردو خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر میڈیا ورکرز کے حقوق، تنخواہوں کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے، جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ اور آزادیٔ صحافت کے حق میں نعرے درج تھے،احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں، ہراسانی اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف شدید نعرے بازی کی،مقررین نے کہا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،مقررین نے کہا کہ صحافی برادری کو معاشی دباؤ کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو صحافی برادری ہر فورم پر بھرپور مزاحمت کرے گی،احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں،انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ متعدد میڈیا اداروں میں کارکنوں کو جبری طور پر فارغ کیا جا رہا ہے،مقررین نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں کے بقایا جات کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا استحصال کر رہے ہیں،مقررین نے جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے فوری نفاذ اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا،انہوں نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات اور نوٹسز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کالے قوانین کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کرنا آزادیٔ اظہار پر حملہ ہے،احتجاجی مظاہروں میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو دو دن کے لئے خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوسکے،خیبر یونین آف جرنلسٹس نے پورے صوبہ کے تمام پریس کلبز اور صحافتی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر پورے صوبہ میں جس طرح صحافیوں نے اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھے گی، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا ورکرز کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے، بقایا جات ادا نہ کیے گئے اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا،مقررین نے واضح کیا کہ صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول، بقایا جات کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی تحریک مسلسل جاری رہے گی اور اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور متحد ہو کر ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائےگی،دوسری جانب خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے،مختلف اضلاع میں منعقد مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا ورکرز کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے، بقایا جات ادا نہ کیے گئے اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔
سچی صحافت صرف وہاں فروغ پا سکتی ہے جہاں عدلیہ اور پارلیمنٹ آزاد ہو ۔جہاں صحافت کسی کی غلام بن جائے تو سمجھ جائیے کہ وہاں عدلیہ اور پارلیمینٹ بھی کسی کی غلام ہیں ایسی ریاست میں جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی اورجمہوریت کے دشمن کبھی عوام کے دل نہیں جیت سکتے https://t.co/KmFKkqgBV8
#UAE authorities should refrain from such actions against Pakistanis. I think Pakistani authorities will take notice of it and will to solve this issue by exploiting the relevant influential channels.
#حافظ_صاحب_چھا_گئے
امارات میں پاکستانیوں کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پاکستانیوں کو دس دس دن جیل میں رکھا جاتا ہے اور ان کی بے توقیری کی جارہی ہے۔ امارات اتنی دشمنی پر کیوں اتر آیا ہے؟ کل ائرپورٹ پر میرے ساتھ بہت سے لوگ ملے جو یہی کہہ رہے تھے کہ ان کے ساتھ بھی ظلم ہوا ہے۔ ہماری وزارتِ خارجہ کیا کر رہی ہے؟
جس طریقے سے امارات نے پیسے واپس مانگے ہیں اور پاکستان کے خلاف اقدامات اٹھائے ہیں، اس پر غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا جائے۔ یہ پاکستانی ہیں اور ایک آزاد ملک کے شہری ہیں یہ جانوروں کی طرح سلوک کے حقدار نہیں ہیں"
شیر افضل خان مروت
@realDonaldTrump administration should keep fast moving steps towards what was agreed in Islamabad between #Iran and #US . Delaying tactics in inking peace deal will further complicate the situation for both Iran and the US.
SECRETARY RUBIO: President Trump raised the issue of Iran with China and it was important.
The Chinese side said they are not in favor of militarizing the Strait of Hormuz and are not in favor of a tolling system, and that's our position.
@TararAttaullah I think everything was agreed between #Iran and #US but there was unnecessary delay that paved the way for activating the opponent sleeping cells. Further delay will harm @realDonaldTrump party in the upcoming US elections.
"There is no difference between Delhi and Kabul at the moment". This statement of #Pakistan defence minster khwaja Asif suggests that there will be more tension between the two neighboring countries.
#Afghanistan#حافظ_صاحب_چھا_گئے
🚨 A New Dawn is About to Break in the Region | Expansion of the Mutual Defense Treaty to Include the "Golden Square" 🇸🇦🇵🇰🇹🇷🇶🇦
In rapid historical steps, talks are underway regarding the development of the Mutual Defense Agreement between the Kingdom of Saudi Arabia 🇸🇦 and Pakistan 🇵🇰 to strategically expand and include Turkey 🇹🇷 and Qatar 🇶🇦, establishing an integrated strategic alliance that redraws the map of international balances. 🌐
God willing, this quartet alliance will serve as a shield and a fortress, a striking regional force capable of confronting the most complex challenges with a unified decision. It will not merely be military coordination, but a comprehensive integration project for exchanging expertise and building a secure and stable future, proving to the world that the region's security is forged by its own sons, and it will remain open to both East and West in a manner that serves the alliance's interests and goals.
#SBP has received about US$1.3 billion under the IMF’s EFF and RSF programs
The IMF Executive Board completed third review under the Extended Fund Facility (EFF) in its meeting held on 08 May 2026, and approved disbursement of SDR 760 million for Pakistan. Furthermore, the IMF Executive Board has also approved disbursement of second tranche of SDR 154 million under the Resilience and Sustainability Facility (RSF).
Accordingly, SBP has received SDR 914 million (equivalent to about US$ 1.3 billion) under the EFF and RSF in value 12 May 2026 from the IMF.
The amount would be reflected in SBP’s foreign exchange reserves for the week ending on 15 May 2026.
خیبر یونین آف جرنلسٹس نے سنئیر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے،خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی سمیت دیگر عہدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان کی آواز دبانے کیلئے پیکا جیسے قوانین کا استعمال انتہائی قابلِ افسوس اور غیر جمہوری عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان خان ایک ذمہ دار، پیشہ ور اور بااصول صحافی ہیں جنہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حقائق سامنے لانے کیلئے کردار ادا کیا ہے،انہوں نے کہا کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کیلئے صحافیوں کے خلاف مقدمات، نوٹسز اور دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کا استعمال ناقابلِ قبول ہے،خیبر یونین آف جرنلسٹس ایسے تمام اقدامات کو آزادیٔ اظہار اور آئین پاکستان میں دی گئی بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی سمجھتی ہے،کے یو جے رہنماؤں نےصوبائی اور وفاقی حکام سے مطالبہ کیا کہ عرفان خان کو جاری کردہ نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے،انہوں نے واضح کیا کہ خیبر یونین آف جرنلسٹس اپنے ساتھیوں کے خلاف کسی بھی انتقامی کارروائی پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔ #khuj #PFUJ @Afzalbutt01
بیوروکریسی سے معذرت کیساتھ
خیبرپختونخوا میں اہم ترین عہدے پر بیٹھے ایک کرپٹ اور کمزور بیوروکریٹ کی جانب سے مجھے دوسری بار پیکا ایکٹ کے تحت نوٹس موصول ہوا
تم بزدلوں کی طرح چھپ کر مجھے جتنا دبانے کی کوشش کروگے اس سے کہیں زیادہ شدت کیساتھ میں سامنے آونگا
تم نے پہلے بھی عہدے کا ناجائز استعمال کرکے ہمارے خلاف اداروں کا استعمال کیا تم اب بھی دوسروں کا کندھا استعمال کرکے اپنی نیچ حرکتوں سے باز نہیں آ رہے
بھیج دو ایک اور نوٹس مجھے، ایف آئی آر کیلئے اپنے ماتحت اداروں کو استعمال کرو اور اپنے عہدے کا مزید ناجائز استعمال کرکے سرکاری اداروں کو مزید استعمال کرو
In respectful compliance of the orders of my leader, and Founding Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan, it is my honour to tender my resignation from the Office of the Chief Minister, Khyber Pakhtunkhwa.
When I took over as Chief Minister, the province was faced with a dual challenge of financial ruin and menace of terrorism. Over the last one and a half year, with the support of my cabinet, our party members and workers, my team of bureaucracy and above all, guidance of Imran Khan, we steered the province to financial stability and countered the menace of militancy with resolute courage and unwavering decision-making. We initiated mega projects of nation-building in a province that was militarily categorised as a warzone.
I thank all my cabinet colleagues, members of the Assembly - both from PTI as well as opposition - and all officers of KP bureaucracy who helped me face extraordinary challenges of governance in KP. I may not be able to claim with certainty that I did well on all those challenges but one thing that I can say with utmost certainty is that I served with absolute sincerity to the people of KP and always acted in the best interest of Pakistan.
Pakistan Zindabad
Pakistan Tehreek-e-Insaf Paindabad.