تھریڈ 🧵
دنیا میں ایک اور جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ اور یہ جنگ اپنے ححجم کے اعتبار سے منفرد ہے، یہ کئی دہائیوں بعد ایسا موقع لے کر آئی ہے، شاید یہ جنگ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ اس جنگ میں فریقین کی جانب سے کئی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔
ان ہتھیاروں پر ایک نظر:
@aijazmehboob@saeedimrankhan جلسے ملک کی تقدیر طے نہیں کرتے ۔۔۔ پیپلز پارٹی لاہور میں بڑا جلسہ نہ کرسکی تو سندھ کھو بیٹھے گی؟ یا پی پی امیدوار وں کی قومی اسمبلی نشستوں پر ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی؟
آزادی ہے صاحب ۔
ہر جملے کسنے والے کو۔
نفرت کی آزادی ہے
ہر محبت والے کو
آزادی ہے صاحبہ
آزادی ہے
جنس کو تاک کے
ٹٹولنے کو
اپنے حصے
سے بڑھ کر
چھین کے کھانے کو
آزادی ہے جناب
آزادی ہے!!!
آئیے مردوں پر جملے کسیں
سعدیہ مظہر
کالم
میں اپنی آنکھوں کے چیک اپ کے لیے ایک اسپیشلسٹ کے پاس گئی۔ اس کے اسسٹنٹ نے مجھے ڈیٹا اینٹری کے لیے بلایا۔ عمر پوچھنے پر جب میں نے اپنی عمر بتائی تو وہ صاحب لکھتے لکھتے ایک دم میری طرف متوجہ ہوئے اور صدیوں کی شناسائی آنکھوں میں سمیٹے گویا ہوئے،'' ماشاءاللہ آپ اتنی عمر کی لگتی تو نہیں ہیں۔ بہت اچھا مینٹین رکھا ہے آپ نے خود کو۔‘‘ میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں اور پھر اس صاحب کو اچھی طرح انکھیں دیکھا کر کلینک سے نکل آئی۔
یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ مردوں کی برتری والے اس معاشرے میں عورت ان کے لیے چلتا پھرتا آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا سامان رہی ہے۔ ''باجی دوپٹا اوپر کر لیں‘‘، تہذیب کے دائرے میں کہا جانے والا ایک عام سا جملہ ہے ۔ یہ ریت صدیوں سے رائج ہے شاید۔ گو اس رویے کا تعلق کسی مذہب ، ذات پات سے بھی نہیں بلکہ اقبال کے شعر کا وہ مصرع یہاں سب سے مکمل فٹ آتا ہے'' ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز‘‘۔ یعنی جملہ بازی کی اس فطرت کا تعلق جنس سے وابستہ ہے، مرد کی جنس سے اور یہاں محمود و ایاز کا فرق بھی مٹ جاتا ہے ۔ اپ اسکول کی بچیوں سے لے کر کام کے لیے جانی والی خواتین، یہاں تک کے چار بچوں کی ماں سے بھی پوچھیے تو پاس سے گزرتے ایک عام سا جملہ، ''ماشاءاللہ‘‘ یا ''سبحان اللہ‘‘ آنکھوں میں ایسی گندگی اتار کر انہیں بولا جاتا ہے کہ ایک بار مخالف سمت پر کپکی ضرور طاری ہوتی ہے۔
کیا کبھی کسی عورت نے کسی مرد کو دیکھ کر سیٹی بجائی؟ پان کی پچکاری ماری ؟ یا با آواز بلند جملہ کسا ؟ اور اس پر زور دار قہقہہ بلند کیا؟
تصور کیجیے اس سال میں صرف ایک دن عورت کی حکمرانی کا ہو۔ سڑکوں پر ٹھیلے عورتوں کے لگے ہوں، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور عورتیں ہوں ، ہسپتال، آفس ہر جگہ عورت کی حاکمیت ہو اور مرد اقلیت دکھائی دیں۔ اب ذرا منظر کا لطف لیجیے گا کہ مرد بس اسٹاپ پر بس کا منتظر ہو اور پاس سے گزرتی خاتون سیٹی بجا کر ''اوے ہوئے‘‘ کہتی گزرے ۔ آفس میں مرد کو پروموشن ملے تو تمام خواتین اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہیں ''باس کے ساتھ سویا ہو گا‘‘۔
سبزی منڈی میں سبزی لینے جائے تو رش میں گزرتی عورت اسے کے جسم کو چھو کر کان میں کہہ کر گزرے ''ابے چکنے‘‘۔ بازار میں انڈر گارمنٹس لینے جائے تو عورت سائز پوچھتے پوچھتے اس کے وجود کا ایکسرے نکال کر کہے، ''بھائی بڑی جلدی سائز بڑھا رہا ہے‘‘، مرد یہاں لال شربت اور سائز زیرو سے استثناء رکھتا ہے۔
آدھی رات کو عورت کے رکشے میں بیٹھتے ہوئے مرد اتنا ہی غیر محفوظ تصور کرے جتنا ایک عورت محسوس کرتی ہے۔ کیا قانون قدرت میں وہ ایک دن نہیں آ سکتا؟ جب عورت مرد پر اسی انداز میں جملے بازی کرے، جیسے صدیوں سے مرد کرتا آیا ہے؟
عورت مارچ سے خائف یہ مرد،'' میرا جسم میری مرضی‘‘ کے نعرے پر تڑپتے تو ہیں مگر آج تک اتنی ہمت نہیں پیدا کر سکے کہ بتائیں اس تڑپ کی وجہ کیا ہے۔ بات تلخ ہے مگر سچائی پر مبنی ہے کہ یہ نعرہ اس لیے تکلیف کا باعث ہے کہ صدیوں سے عورت کے جسم پر مرد نے اپنا اختیار ہی تو سمجھا ہے، چاہے وہ عورت گھر کی چاردیواری میں ان کے قبضے میں ہو یا آفس میں ان کے ساتھ کام کرتی ہو۔ تو اس تسلط کے ختم ہونے کا خوف انہیں اتنا بے چین تو کرے گا۔
مردوں نے ہمیشہ سوال اٹھایا کہ عورت مارچ میں حقوق مانگتی یہ عورتیں بتائیں تو سہی کہ انہیں کون سے حقوق چاہیں ؟ تو ان کا سوال غلط نہیں ہے کہ مرد نے کبھی سڑک پر اپنے جسم کی بے توقیری نہیں سہی، مرد نے خود کو چادر میں یا برقعے میں چھپا کر بھی ان نگاہوں کو برداشت نہیں کیا جو روح تک کو زخمی کرتی ہیں۔ مرد نے کبھی جملے بازی کے وہ نشتر سہے ہی نہیں جسے ہر لڑکی جوانی میں قدم رکھتے ہی سہنا شروع کرتی ہے اور تا عمر سہتی ہے۔
اس لیے اب تاریخ بدلنے کی ضرورت ہے۔ دیجیے عورت کو اتنی اجازت کہ وہ مرد پر جملے کس سکے، وہ دوپٹے میں منہ چھپائے مرد کو، گندی نگاہوں سے دیکھتے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے، بدن کھجاتے ہوئے ''ماشاءاللہ‘‘ کہے ۔ وہ مرد کو اپنی سواری میں گھر چھوڑے تو فرنٹ شیشہ اس کی سمت سیٹ کر کے دوران سفر اس پر نگاہیں جما کر اسے غیر محفوظ ہونے کا احساس دلا سکے۔
صرف ایک دن ۔ آئیے ہم مردوں پر صرف اس لیے جملے کسیں تاکہ انہیں بتا سکیں کہ عورت کن حقوق کے لیے سڑکوں پر آ رہی ہے۔ بتا سکے کے ''میرا جسم ، میری مرضی‘‘ کا اصل مقصد کیا ہے ۔ صرف ایک دن۔۔!
@pakistanipeeeps ہمیں نوکری کیوں چاہیے ۔ کاروبار کو فروغ کیوں نہیں دے سکتے؟؟ اگر کاروبار کا رحجان ہوتا تو ملازمت کے کئی مواقع پیدا ہوجاتے اور ایسے کسی کو نہ کاروبار کی تشہیر کرنی پڑتی نہ لوگ اس کو بے چارگی کہہ رہے ہوتے ۔ کاروبار کو فروغ دو ۔ نوکریوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑو
@Micks_it سر اگر سب یہ سمجھنا شروع کردیں تو ہر فیلڈ میں کاروبار کے مواقع پیدا ہوتے جائیں گے۔ کئی نئے کاروبار متعارف ہونے سے ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ آپ بڑے ہیں بصد احترام عرض ہے بھائی۔
حضور ان کو بھی ڈانگ پھیریں۔ غریب عوام کتنا پستی ہے اور یہ 80000 بھی محترم میاں نوازشریف، جناب شہباز شریف ، مریم نواز صاحبہ اور خواجہ آصف صاحب آپ کے کھاتے میں ہی لکھتی ہے۔
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
@iffiViews مخالف پارٹی کون سا کوئی چجھ کی ہے۔ وہ کہیں گے بس خان آئے گی حلپ اُٹھائے گی ۔۔۔۔
کھبی کھبی میں سوچتا ہوں مراد سعید کا وزن اسی گانے پر تھا۔ آئے گی وہ آئے گی۔۔۔ نظریں ملائے گی۔۔۔اک دن وہ میری ہوجائے گی
@NaureenJanjua مزہ تو تب تھا آپ بھی شو کرتیں۔ کہاں ہے مہنگائی ۔ دادا بھی بیٹھ کر بتاتے دنیا میں کہاں کہاں پاکستان سے زیادہ مہنگائی ہے۔ یہ شاید ہمیں یوتھیا سمجھتے ہیں۔