خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا!!! بلوچ لیڈرشپ ان جاھل علیحدگی پسندوں کی سرکوبی کیلئے فوج اور اتھارٹیز کے ساتھ کھڑی ہو اور بلوچستان کو ان پاگل انتہا پسندوں سے بچائیں!! خدا مغفرت کرے۔۔ خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے۔۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے!!
اسفند یار خان، جوان اسی تیرے توں راضی آں!!
ایک غیرت مند پشتون ایسا ہی ہونا چاہئے، رب نے تجھے قوم کی بیٹیوں کی عزت کا نگہبان بنایا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ تم اپنی بیوی کی عزت کیلئے ڈٹ کر کھڑے نہ ہوتے؟؟
جو تم نے کیا ہر غیرتمند پاکستانی اس موقع پر کم از کم یہی کرتا.
مجھے فخر ہے اس بیٹے ، بھائی ، باپ اور شوہر پر جس نے اپنے گھر کی عزت کیطرف اٹھنے والے ہاتھ کو روکا
یونیفارم پہننے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیہودگی کے سامنے ہاتھ جوڑے خاموش تماشائی بنے رہیں
سرحدوں کے محافظ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرنا جانتے ہیں
نومبر 2025 میں Unilever کو ای میل کی ہے آئس کریم ایکسپائر ہو گئی ہے
سلمی بٹ ۔ ای میل پیدل جاتی ہے ؟ 😂
2000 کلو آئس کریم رکھ کر یہ بھی کہتے ہوں گے حکمران چور ہیں
یقین کریں بٹ صاحبہ جہاد کر رہی ہیں 🙌🏻🙌🏻
سلمی بٹ باجی نے یونیلیور جیسی انٹرنیشنل کمپنی کے گودام میں چھاپہ مارا ہے اور پوری دوہزار کلو ایکسپائری آئس کریم پکڑی ہے اس کو فنگس لگا ہوا تھا یعنی مہنگی ترین قیمت لے کر بھی بچوں کو زہر بیچ رہے تھے
آپ سب سلمیٰ بٹ صاحبہ کے کام کو بہت سپورٹ کریں
خالد باٹھ صاحب کی اطلاع کیلئے۔ یہ مل سینکڑوں کسانوں کا کروڑوں روپے گزشتہ تین چار سالوں سے گنے کی ادائیگیاں روک کر بیٹھی ہے۔ لگاتار کوشش کے باوجود کسانوں کا پیسہ نہیں دے رہی ۔ قانونی طور پر ان کے خلاف پچھلے سال سے ایکشن لیا گیا ہے۔ کسان کو ان کا پیسہ واپس دلوانے کیلئے ہر قانونی راستہ استعمال کریں گے۔
Whereas I agree with your opinion about the present state of cricket in our country, I disagree with the term "laughing stalk".
Pardon me, the correct phrase is "laughing stock".
نواز شریف کی عظمت کو سلام 🫡
"مجھے زمین پر سونے سے مسلہ نہیں مگر میرا بائی پاس ہوا ہے وزن بھی زیادہ ہے زمین پر سویا تو پھر اٹھا نہیں جائیگا"
یہ الفاظ تھے ایک 72 سالہ تین دفعہ وزیراعظم رہے شخص نواز شریف کے۔
سابق آئی جی جیلخانہ جات نے یہ انکشافات پی ٹی آئی دور میں نواز شریف کو جیل بھیجنے کے بعد پہلی رات کے واقعات سناتے ہوئے کیے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سے بار بار اس بات کی اجازت مانگی کہ ہمیں نواز شریف کے لیے ایک چارپائی کی اجازت دے دیں مگر کوئی فون ہی نہیں سنتا تھا آخر نواز شریف جو تین دن سے جاگے ہوئے تھے زمین پر ہی سو گئے۔
آج دیسی مرغے دیسی بکرے دیسی گھی میں کھانے والے مجنوں کے چیلے چمانٹے ہمیں گھڑی چور کی تکالیف کی کہانیاں سناتے ہیں جس نے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
نواز شریف کا کیا قصور تھا؟
نواز شریف نے اس ملک کے عوام کو ایک بہتر پاکستان دینے کی کوشش کی وہ کوئی انقلابی لیڈر نہیں تھا نہ اس نے کبھی یہ دعویٰ کیا ،وہ ایک ریفارمر تھا جو پاکستان کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتا تھا اور عوام کی زندگی بہتر بنانا چاہتا تھا مگر طاقتوروں کو یہ منظور نہ تھا اور اسے بار بار گھسیٹ کے مزاحمتی کردار کی جانب پھینکا گیا مگر اس نے اس کردار کے ساتھ بھی انصاف کیا اور عوام کو مایوس نہیں کیا۔
جب نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تو اسکے اس نعرے پر سب سے زیادہ پھبتیاں کسنے والے کون تھے؟ اور کون اسے مذاق کا نشانہ بنا رہا تھا یہ سب کو معلوم ہے
آج روتے ہو؟
انصاف کی دہائیاں دیتے ہو؟
ہمیں حق کی بات نہ کرنے کے طعنے دیتے ہو؟
تم کو رگڑ کے بھی رکھ دیا جائے تو تم لوگوں کے حق میں بات نہیں کریں گے کیونکہ تم انسان بن ہی نہیں سکتے اور ہمدردی انسانوں سے کی جاتی ہے سانپوں سے نہیں۔۔
نواز شریف اپنی پہچان اپنے کاموں سے بنانے آیا تھا تم نے اسے جیلیں کاٹنے پر لگا دیا اور اس ملک کو گھوڑے لگوا دیا۔
اب رونا نہیں ہے
کوئی مظلومیت کارڈ نہیں چلے گا
جو کیا ہے بھگتنا ہو گا۔
جنہیں کارکردگی کا میدان پسند نہیں وہ اب اپنی مرضی کے میدان میں مقابلہ کریں اور شہباز شریف اس میدان میں موجود ہے۔
پاس کر یا برداشت کر۔
As many as 19 foreign companies and 1,753 local companies closed their operations in Pakistan in the past three years. Meanwhile around 79 new foreign firms and 98,221 local companies have also been registered with the SECP.
سابق پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ آسٹریلیا کے جیسن گلپسی نے انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان ٹیم کی بدترین شکست پر کہنا ہے کہ جب میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنا میں نے پاکستان ٹیم کو آسٹریلین طرز پر ایک نئی سوچ والی ٹیم بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور کچھ پلیئر جو موجودہ ٹیم میں مجھے نظر آرہے تھے وہ کسی کام کے نہیں تھے میں نے ان کو باہر کرکے چند نوجوان کرکٹر جن کو میں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں دیکھا تھا ان کو آگے لیکر ان پر کام کرنے کا فیصلہ کیا اور یقیناً اگر اس طرح ہوجاتا تو آج پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی حالات بہت بہتر ہوتی میں نے یہ تجویز پاکستان کرکٹ بورڈ کو دی اور ان کھلاڑیوں کے نام بھی دئیے جو ٹیم پر بوجھ تھے اور جو ٹیم کی ضرورت تھے پاکستان کرکٹ بورڈ نے حامی بھرلی لیکن جب عاقب جاوید کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تو اس نے میرے کام میں بھرپور دخل اندازی شروع کردی
اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مجھے تین سال کیلئے رکھا گیا تھا اور میں تین ماہ کے بعد مستعفی ہوگیا عاقب جاوید کی وجہ سے اور یہ بات میں نے اسوقت بھی پریس کانفرنس میں کہی تھی اگر مجھے یہ ٹیم اب بھی حوالے کریں عاقب جاوید کو ہٹاکر میں اس ٹیم میں چند تبدیلیاں کروں گا اور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو دوبارہ دنیا کی بہترین ٹیسٹ بناسکتا ہوں کیونکہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن کمی اس بات کی ہے کہ جن کھلاڑیوں کو آگے آنا چاہئے ان کا راستہ روکا ہوا ہیں
#ENGVSPAK #cricket #pakistancricket
Massive shift: The UAE has just made a stunning U-turn, joining Turkey, Qatar, and Saudi Arabia in a blistering joint statement condemning Israel. They are demanding an immediate withdrawal to 1967 borders and a Palestinian state with East Jerusalem.
Abraham Accords? Officially in the trash. 🚨🔥
سرگودھا سے ملتان براستہ جھنگ ٹرین روٹ بحال ہونے پر جھنگ کی عوام کا سمندر اُمڈ آیا،
یہ عوام شیخ وقاص اکرم کی بدمعاشی کی ستائی ہوئی تھی جس نے جھنگ میں اپنی بس سروس چلانے کے لیے جھنگ کی عوام کو یرغمال بنائے رکھا اور اپنی بدمعاشی کے سر پر تمام ٹرینوں کے روٹ ختم کروا رکھے تھے،
جناب اسپیکر بات سنیں میں جیل میں تھا سرکاری اسپتال شفٹ کیا گیا میرا ہرنیا کا آپریشن تھا وہاں نیازی نے اپنے بندے کی ڈیوٹی لگا رہی تھی جو ویڈیو بنا کر بھیج رہا تھا میرا آپریشن ہوا کہ نہیں میرے پاس آج بھی ثبوت موجود ہیں اس لیول کی گراوٹ تھی ۔ خواجہ آصف
ایسا پلید تھا نیازی رامی 🖐
عاصمہ صاحبہ، قبائلی علاقوں میں بدامنی کی اصل لہر 2003ء کے بعد شروع ہوئی جب امریکی بمباری سے بھاگ کر عرب، چیچن، ایغور اور طاہر یولداشیف کے ازبک جنگجو وزیرستان پہنچے۔ ان غیر ملکی عسکریت پسندوں کو وزیرستان لانے اور پناہ دینے کا حکم راولپنڈی سے نہیں آیا تھا، بلکہ یہ کام 24 سالہ نیک محمد وزیر اور کچھ مقامی عناصر نے عالمی دہشت گردوں کے ڈالرز کی ہوس میں کیا۔ مٹی کے سادہ گھروں کے کرائے لاکھوں روپے میں وصول کیے گئے اور ان غیر ملکیوں سے مقامی لڑکیوں کی شادیاں کروا کر پشتون ولی کی آڑ میں ریاستی کارروائیوں سے تحفظ دیا گیا۔ 1988ء میں فوت ہونے والے جرنیلوں نے ان عناصر کو یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ان ازبکوں کو داماد بنائیں، خودکش بمباروں کی تربیت گاہیں بنائیں، بچوں کے ذہن زہر آلود کریں اور اپنے ہی ملک کی مساجد، بازاروں اور سیکیورٹی فورسز پر خونریز حملے کروائیں۔ اپریل 2004ء میں پاک فوج نے شکئی معاہدہ کر کے غیر ملکیوں کو نکالنے کا کہا، تو نیک محمد نے ان کے سرمائے اور اسلحے کے زور پر خود کو بے تاج بادشاہ بنانے کے لیے معاہدہ توڑ دیا۔
جہاں تک دہشت گرد پالنے کے طعنے کا تعلق ہے، تو یہ جنگ پاکستان نے نہیں بلکہ افغان ریاست نے شروع کی تھی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد افغانستان نے اقوامِ متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دیا، فقیر ایپی کے نام نہاد پختونستان کو رقم و اسلحہ دیا اور 1950ء و 1960ء میں سرحدی حملے کیے۔ داؤد خان نے پاکستان کے چار ٹکڑے کرنے کے دعوے کیے، مری، مینگل اور بزنجو کے لشکروں کو پناہ دی اور پختون زلمی قائم کروائی۔ اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک جیسے عناصر کی سرپرستی کی گئی جن کی دہشت گردی سے گورنر حیات شیرپاؤ شہید اور عبدالصمد اچکزئی شہید ہوئے۔ اندرا گاندھی کے ساتھ مل کر پاکستان کو دو طرفہ گھیرنے کی سازشیں ہوئیں اور کمیونسٹ حکمرانوں (ترکئی، کارمل، نجیب) نے روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان فتح کرنے کے نعرے لگائے۔
پاکستان نے اگر افغان مجاہدین کی مدد کی تو وہ دفاعی ضرورت تھی۔ امریکن نواز کرزئی اور اشرف غنی نے روس نوازوں سے زیادہ پاکستان دشمن کی انہوں نے بھارت کو قونصلیٹ قائم کرنے دیے جہاں سے TTP اور خودکش بمباروں کی فنڈنگ کی گئی۔ اشرف غنی کی سیاسی لیبارٹری سے نکلنے والی PTM نے ہمیشہ اپنے ملک کے خلاف نعرے لگائے لیکن کبھی نیک محمد، بیت اللہ، یا نور ولی جیسے قاتلوں، بچوں کو خودکش بمبار بنانے والے سینٹرز اور روزمرہ کے خونریز حملوں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا۔
اس پروپگنڈے کے برعکس سچ یہ ہے کہ پاک فوج نے ان علاقوں میں خون بہا کر امن بحال کیا، خودکش بمبار ٹریننگ سینٹرز کا خاتمہ کیا اور بے گھر ہونے والوں کو عزت سے دوبارہ بسایا۔ فوجی انجینئرز، اور حکومت نے مل کر وزیرستان میں اربوں روپے کے تاریخی ترقیاتی کام کیے۔ شمالی و جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم اور کرم تنگی ڈیم جیسے واٹر پروجیکٹس بنائے، 100 بستروں کا شولام ہسپتال قائم کیا، ڈوئل کیریج ویز اور سیکڑوں کلومیٹر سڑکیں تعمیر کیں، کیڈٹ کالج وانا، کیڈٹ کالج سپنکئی اور اے پی ایس اسکولز قائم کیے اور وانا ایگریکلچر پارک، چلغوزہ پروسیسنگ پلانٹ و جدید بازار تعمیر کر کے معاشی انقلاب لایا۔ PTM ان عظیم ترقیاتی کاموں کا ذکر کبھی نہیں کرتی۔
سچ بولنا کسی قوم سے بغض نہیں بلکہ تاریخی حقائق ہے
ایک BMW کار کے دروازے پہ ڈینٹ تھا
اسکے مالک نےڈینٹ والا دروازہ کبھی مرمت نہیں کرایا
کوئی پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا
"زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیےکہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"
سننے والا اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر قدرےحیران ہوتا
پھر سمجھتے،نہ سمجھتےہوئے سر ہلا دیتا
ایک نوجوان بزنس مینیجر اپنی برانڈ نیو BMW میں دفتر سےDHA میں واقع گھر جاتےہوئےایک پسماندہ علاقے سےگزرا جو مضافات میں ہی واقع تھا اچانک اس نےایک چھوٹےبچےکو بھاگ کر سڑک کیطرف آتےدیکھا تو گاڑی آہستہ کردی مگر پھر بھی اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتےدیکھا
ٹھک کی آواز کےساتھ ایک اینٹ
اسکی نئی کار کےدروازے پرلگی
اس نےفوراً بریک لگائی اور گاڑی
سےباہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر کافی بڑا ڈینٹ پڑ چکا تھا
اس نےغصےسے ابلتےہوئے بھاگ کر اینٹ مارنیوالےبچےکو پکڑا اور زور
سےجھنجھوڑا
"اندھےہوگئےہو، پاگل کی اولاد؟ تمہارا باپ اسکے پیسےبھرےگا؟
وہ زرو سے دھاڑا
میلی کچیلی شرٹ پہنے بچےکےچہرے پر ندامت اور بےچارگی کےملےجلے تاثرات تھے
سائیں، مجھےکچھ نہیں پتہ میں اور کیا کروں؟
میں ہاتھ اٹھاکر بھاگتا رہا مگر کسی
نےگل نئیں سنی
اس نےٹوٹی پھوٹی اردو میں کچھ کہا اچانک اسکی آنکھوں سےآنسو ابل پڑے
اور سڑک کےایک نشیبی علاقے کی جانب اشارہ کیا
ادھر میرا ابا گرا پڑا ہے بہت بھاری ہے مجھ سےاُٹھ نہیں رہا تھا
میں کیا کرتا سائیں؟
بزنس ایگزیکٹو کےچہرے پر ایک حیرانی آئی اور وہ بچےکےساتھ ساتھ نشیبی علاقے کیطرف بڑھا تو دیکھا ایک معذور شخص اوندھےمنہ مٹی میں پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک ویل چیئر گری پڑی تھی
ایسا دکھائی دےرہا تھاکہ شائد وزن
کےباعث بچےسےویل چیئر سنبھالی نہیں گئی اور نیچےآگری اور ساتھ ہی پکےہوئےچاول بھی گرے ہوئےتھے
جو شاید باپ بیٹا کہیں سےمانگ
کر لائےتھے
سائیں، مہربانی کرو میرے ابےکو اٹھوا کرکرسی پر بٹھا دو وجوان ایگزیکٹو کے گلے میں جیسے پھندا سا لگ گیا
اسےمعاملہ سمجھ آگیا اور اپنےغصے پر پر ندامت محسوس ہورہی تھی
اس نےاپنےسوٹ کی پرواہ کئےبغیر
آگےبڑھکر پوری طاقت لگاکر کراہتےہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویل چیئر پر بٹھا دیا بچےکےباپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ خراشوں سے بھرا پڑا تھا
وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کیطرف گیا اور بٹوےمیں سےدس ہزار نکالےاور کپکپاتےہاتھوں سےمعذور کی جیب میں ڈال دیے۔ پھر ٹشو پیپر سے اسکی خراشوں کو صاف کیا اور ویل چیئر کو دھکیل کر اوپر لے آیا
بچہ ممنونیت کے آنسوؤں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر باپ کو لیکر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا۔ اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے نوجوان کو دعائیں دے رہا تھا۔
نوجوان نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے جھگی میں رہنے والوں کے لیے ایک جھگی سکول کھول دیا اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔
وہ بی ایم ڈبلیو اس کے پاس مزید پانچ سال رہی، تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کرایا. کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا
"زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"
اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے
جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کردیتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ہمارے طرف اینٹ بھی اچھال دیتا ہے
انتخاب #آفاق_سومرو