57 Muslim countries... but only one stands in grief.
Where are the voices? Where is the unity?
Palestine buries hope, while the rest stay silent.
O Ummah, wake up. The blood of our brothers and sisters cries out in silence.
🕊️🇵🇸 #FreePalestine#Gaza#TLPDemands_Jihad4Gaza
تاریخ انوکھا واقع عشاء پڑھی تو مسجد تھی فجر کی نماز پڑھنے آئے تو مسجد کی جگہ پودے لگے ہوئے تھے
۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنی نوعیت کا منفرد ایک اور ریکارڈ کا اضافہ ہوا
تحریک مساجد بچاؤ
اپنے حصے کی آواز بلند کیجئے
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
’’مرد کا دو بار قتل ہوا’’
غیر مصدقہ سوشل میڈیائی خبروں کے مطابق پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قتل کیا گیا۔
لیکن سیکول��ز اور فیمنسٹ، مذہب بیزار طبقہ خواتین میں بغاوت پیدا کرنے کے لیے طرح طرح سے زہریلے انداز میں سارا الزام اسلام، مسلمان اور مرد پر ڈال رہا ہے۔
جبکہ اسلام ایسی غیر ش��عی قبائلی روایات کو پیروں تلے روندنے کے لیے آیا ہے۔ مسلمان ہر معاملے میں خدا کا فرمانبردار ہوتا ہے۔
اور اس کیس میں تو مرد کو دو بار قتل کیا گیا۔
اس کی نظروں کے سامنے اس کی محبوبہ پر گولی چلا کر۔
اور پھر خود اس پر گولیاں برسا کر۔
لیکن ان بدمعاش، جھوٹے مذہب بیزار طبقے کو مرد نظر نہیں آرہا۔
ہم پھر یہی کہیں گے۔۔۔
اسلامی نظام ہوتا تو یہ سب نہ ہوتا۔
ہجرت کے زخم: کابل سے غزہ تک بکھری انسانیت
تحریر: کابل ڈائری / @KabulDiary
یہ فقط ہجرت کی کہانی نہیں ہے … بلکہ اُن خوابوں کا جنازہ اور اُن امیدوں کی تدفین ہے … جن کی سانسیں کابل سے غزہ، حلب سے برما اور کشمیر سے بوسنیا تک ظالم طاقتوں کے جان لیوا بارود کے پھیلے ہوئے دھویں نے چھین لیں۔ یہاں ہر مہاجر کی آنکھ میں ایک اُجڑا ہوا آسمان ہے۔
روسی حملہ: تجارت یا جارحیت؟
جب افغان مہاجر اپنا گھر چھوڑ کر کسی نئی جگہ جا رہے تھے تو اُن کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ دل میں بے یقینی کی کیفیت تھی۔
یہ وہ وقت تھا، جب گزشتہ صدی کی 80 کی دہائی میں سوویت یونین فوج نے بحرِ ہند کے گرم پانیوں پر اپنے تجارتی جہاز چلانے کے لیے اپنی توپوں کا رُخ افغانستان کی طرف کر لیا تھا۔
روس کی طرف سے یہ ایک ایسی تجارت کی کہانی ہے، جس کی کشتیاں وسطی ایشیا کے مظلوموں کے خون پر چلانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ یہ درحقیقت تجارت نہیں تھی، یہ خودغرضانہ طور پر دنیا بھر کے وسائل پر اپنے بلاشرکت غیرے کنٹرول کی جنگ تھی۔
آخر مالی وسائل کے لالچ میں بھٹکتی یہ دنیا اتنی ظالم کیوں ہے…؟
افغان مہاجرین: پہلی ہجرت کی کہانی:
یہ وہ درد ناک حالات تھے کہ مظلوم و بے بس افغان اپنے ہرے بھرے کھیت اور دل نشین ثقافت سے مزین گھر چھوڑ کر انجان راہوں کی طرف نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اَن دیکھی جگہوں کی طرف اٹھتے ہر قدم کو اپنی مٹی کی مانوس خوش بُو واپس کھینچی تھی، مگر یہ قدم اس لیے واپس نہیں مُڑتے تھے اب وہاں روسی بارود کی بدبو ڈیرے ڈال چکی تھی۔
اب ان مہاجرین کے نئے گھر ‘پناہ گزین خیمے’ تھے، جہاں رات کا ہر لمحہ اپنے گھر کی یاد اور دربدری کے درد کراہتا تھا۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق روسی جارحیت کی وجہ سے تقریباً 50 سے 55 لاکھ افغان شہریوں نے ایران اور پاکستان میں پناہ لی تھی۔
جب کہ دیگر معتبر تخمینوں کے مطابق یہ تعداد 6.2 ملین تک پہنچ گئی، جو افغانستان کی قبل از جنگ آبادی کا تقریباً ایک تہائی تھی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنگ سے تباہ ہونے والی آبادی کا ایک بڑا حصہ مجبوراً ملک چھوڑ کر اجنبی زمینوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا تھا۔
جب خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور روس بکھرا تو افغانوں نے سوچا کہ اب ظلم کی میعاد کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ اب افغانستان ایک بار پھر اپنے روایتی امن اور دل موہ لینے والی ثقافت کی روشنیوں سے جگمگا اٹھے گا۔
چناں چہ سوویت یونین کی شکست کے بعد جب روسی فوجیں افغانستان سے نکل گئیں تو بہت سے افغان مہاجر اپنے وطن واپس جانے لگے۔ تب اندازاً سن 1992 کے دوران تقریباً 14 لاکھ (1.4 ملین) افغان مہاجرین نے وطن واپسی اختیار کی تھی، جن میں سے صرف سال 1992 میں ہی 9 لاکھ کے قریب لوگ افغانستان واپس پہنچ گئے تھے۔ اسی طرح 1992 سے 1995 تک کے چند سالوں میں بھی ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغان شہری رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس آگئے تھے۔ خاص طور پر ایران سے تقریباً 13 لاکھ (1.3 ملین) افغا��وں نے وطن واپسی کی راہ لی تھی۔ اگرچہ تب مکمل امن قائم نہ ہو سکا تھا، اس کے باوجود لاکھوں افغانوں نے اپنے گھر کی محبت میں مشکلات کے باوجود واپسی کو ترجیح دی تھی۔
“سب کچھ میرا ہو جائے…!”
یہی وہ حرص تھی، جس نے دو عالمی بھیڑیوں (روس و امریکا) کو افغان وسائل کے لیے بے چین کر رکھا تھا۔ لہذا ان بھیڑیوں کے چبانے کے لیے مظلوموں کی ہڈیاں نرم کرنے والے علاقائی خدم�� گار بھی جان چکے تھے کہ افغانستان کے وہ مجاہد … جن کے کاندھوں پر جنگ کی جان لیوا بھاری ذمہ داری لادی گئی تھی … اپنی سرزمین کا ایک ذرّہ بھی کسی لالچی کے پیالے میں نہیں جانے دیں گے۔
خانہ جنگی: اپنوں کے ہاتھوں اجڑنا:
چناں چہ جب یہ خواب پورا نہ ہوتا دکھائی دیا تو دشمنوں نے ایک نیا کھیل رچایا … خانہ جنگی!
اقتدار کی رسہ کشی کے نام پر سازشوں کا ایسا تانا بانا بُنا گیا کہ اب کے افغانستان اپنوں کے ہی لہو میں ڈوبنے لگا۔
غیر ملکی قوتوں کے سازشی کھیل نے افغانوں کو غربت اور بدحالی کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ پشتون اور فارسی ثقافت سے جُڑی ہوئی انواع و اقسام کی نعمتوں سے سجے بازاروں کی رونق اُن کے لیے محض ایک خواب بن گئی تھی۔ بچے جیتے جی مفلسی کی چکی میں پسنے لگے۔ بھوک کی آگ انہیں جلانے لگی۔ خاندانی کہانیوں کی وہ نرم و گرم شبینہ محفلیں اب عذاب دِہ یادِ ماضی بن گئی تھیں۔ ہر رات انہیں اپنے کھیتوں کے وہ جگنو یاد آتے، جو سورج ڈھلتے ہی رزق کے ان ذخیروں پر اُجالا کرنے پہنچ جاتے تھے۔ آج وہ جگنو خانہ جنگی، بارود کی بدبو اور کھیتوں کے ویران ہونے کی وجہ سے اُداس تھے اور اُن کی دھمی روشنیاں بھی بُجھ چکی تھیں۔
یہ وہ وقت تھا کہ روسی انخلا فروری 1989 سے 1996 کے درمیان افغانستان کی خانہ جنگی میں کم از کم پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک شہری مارے گئے تھے، جن میں قابل ذکر تعداد کابل کے باشندوں کی ہے۔ 1994 جیسے سالوں میں روزانہ کئی ہلاکتیں عام تھیں، خاص طور پر اس سال صرف کابل میں فائرنگ اور گولہ باری کی وجہ سے تقریباً 8 ہزار افراد مارے گئے تھے، جب کہ کابل شہر کا ایک تہائی حصہ تباہ ہو گیا تھا۔
تیس سال پُرانے کابل میں آج بھی وہ عمارتیں موجود ہیں، جن کی دیواروں پر خانہ جنگی کی گولیوں اور گولوں کے نشانات اُن یادوں کی تلخی کم نہیں ہونے دیتے۔
دوسری طرف یہ ایک افسوس ناک تضاد تھا کہ سوویت یونین کے انخلا کے بعد جب افغانستان کی فضاؤں میں جنگ کے دھوئیں کی جگہ امن کی ہلکی ہلکی سانسیں محسوس ہونے لگیں تو برسوں سے جلاوطن افغانوں کے دلوں میں وطن واپسی کی امیدیں انگڑائیاں لیے رہی تھیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افغان مہاجرین … جو زیادہ تر پاکستان اور ایران میں مقیم تھے … 1989 سے 1996 کے درمیان وطن واپس لوٹ آئے۔ وہ اپنے کچے پکے سامان سمیت بکھری یادوں کو سمیٹتے ہوئے اس مٹی کی طرف پلٹے، جس نے انہیں ہمیشہ ماں کی طرح پکارا تھا۔
مگر قسمت جیسے ایک بار پھر امتحان لینے پر تُل گئی تھی۔ ابھی اُن کے قدم وطن کی خاک سے اپنی آشنائی تازہ کر ہی رہے تھے کہ ملک اقتدار کی کش مکش کی وجہ سے ایک نئی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آنے سے دوبارہ اُجڑنے لگا۔ اسی دورانیے میں اب کی بار تقریباً 15 سے 20 لاکھ افغان شہریوں کو اندرونِ ملک اور ہمسایہ ممالک کی طرف مہاجرت پر م��بور ہونا پڑا۔
یوں مہاجرین کی واپسی کی جو خوش کن کہانی لکھی جانے لگی تھی، وہی کہانی اب ایک نئے دربدری کے نوحے میں بدل گئی۔ یہ تضاد افغان قوم کے زخموں پر نمک کی مانند گرتا رہا ہے۔
واپسی کی امید اور پھر دربدری کا صدمہ…!
ہائے اے زندگی! انسان کیا سوچتا ہے اور ہوتا کیا ہے…!
اردو کے مشہور اور ممتاز شاعر منؔیر نیازی نے ایسے ہی المیے کے لیے کہا تھا ؎
“اِک اَور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
مَیں ایک دریا کے پار اترا تو مَیں نے دیکھا”
یہ دورانیہ افغان قوم کے لیے دوہری آزمائش کا زمانہ تھا، جہاں ایک طرف واپسی کی امید تھی … وہیں دوبارہ ہجرت کا دکھ بھی سر اُٹھائے سامنے کھڑا تھا۔
نفسیاتی اور سماجی تباہی کے علاوہ یہ تعداد افغانستان کے شہریوں کے لیے ایک انسانی سانحہ تھی۔
سال 1996 کے دوران ظالمانہ خانہ جنگی کے خاتمے، امن کی بحالی اور افغانوں کی خوش حالی کے لیے طالبان نے اقتدار حاصل کر لیا تو یہ وہ وقت تھا، جب زیورات سے آراستہ کوئی خاتون سیکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ تنہا بھی طے کرتی تو کسی میں جرات نہیں وہ اُس کی طرف بُری نگاہ ہی اُٹھا لے…!
تحفظِ نسواں کے علم بردار طالبان کی یہ کامیابی خواتین کے حوالے سے طالبان کو دقیانوس اور عورت دشمن قرار دینے والوں کے طعنوں کو خود اُنہی پر پلٹی ہے۔
امن کی فوری بحالی، معاشی ترقی کی طرف بڑھتے قدم اور نظریاتی عملی اسلامی نظام کی کامیاب رونمائی وہ سورج تھا، جو سورج کے ڈوبنے کا مشاہدہ کرنے کے عادی مغرب کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
امریکی یلغار: ایک نئی دربدری:
یہی تعصب بھرا رویّہ تھا کہ امریکا نے 9/11 کے واقعے کو بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کر دیا۔ وہ زمین … جو روسی جارحیت اور خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد دوبارہ رزق بھری فصلوں سے ہری بھری ہونے لگی تھی، اب پھر دھماکوں اور بارود سے سیاہ ہو گئی تھی۔ مسجدوں کی اذانیں خاموش ہونے لگیں۔ جن کے لیے ان کا گھر سب کچھ تھا، اب وہ چادریں سمیٹ کر نئی پناہ کی تلاش میں نکل پڑے۔ امریکا نے جنہیں مجرم کہ کر توپ و تفنگ کا نشانہ بنایا، وہ بے گناہ انسان تھے۔ ہر امریکی بم حملے کے ساتھ انسانیت کی قدر کم ہوتی گئی۔ اب یہاں افغانوں کی ہجرت کا ایک نیا باب کھل گیا تھا۔
چناں چہ جب امریکی فوجی بوٹ افغان زمین پر پڑے تو صرف میدانِ جنگ ہی نہیں جلا … بلکہ لاکھوں گھروں کے چراغ بھی بجھ گئے۔ اکتوبر 2001 سے اگست 2021 تک کا یہ بیس سالہ دور افغان عوام کے لیے صرف جنگ کا نہیں … بلکہ مسلسل جلاوطنی، خوف اور بے گھری کا سفر تھا۔
برطانیہ کے پبلک انثروپولوجی کلینک کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 53 لاکھ افغان … جو اُس وقت کی مجمو��ی آبادی کا تقریباً 26 فیصد بنتے ہیں … اپنے ہی ملک میں اجنبی بن گئے یا بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
وہ مائیں … جنہوں نے خواب دیکھے تھے کہ ان کے بچے کتابیں اُٹھائیں گے، وہی مائیں اپنے بچوں کو خاک آلود راستوں پر کاندھوں پر اُٹھائے جان بچاتی دوڑتی دکھائی دیں۔
براؤن یونیورسٹی کے ‘Costs of War’ پروجیکٹ کے مطابق یہ تعداد 59 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی، جن میں وہ بھی شامل ہیں، جو اپنے ہی شہروں میں بے گھر ہو گئے تھے۔
افغانستان سے فلسطین تک: مہاجرت کا المیہ:
افغانستان اور فلسطین … یہ صرف نقشہ جاتی دو خطوں کے نام نہیں ہیں، بلکہ انسانوں کی ازلی دربدری کی وہ داستانیں ہیں، جن ��یں اپنا وطن اور گھر و خاندان صرف یاد بن کر رہ گیا ہے۔
جب روسی انخلا کے بعد افغان مہاجرین وطن لوٹے تو خانہ جنگی نے ان کی خوشیوں کو دوبارہ خاک کر دیا۔ کچھ ہی سالوں میں لاکھوں افغان ایک بار پھر بے گھر ہو گئے۔ طالبان نے اقتدار میں آ کر خانہ جنگی ختم کی تو پھر امریکی جارحیت نے افغانستان کو تباہ حال کر کے افغانوں کو تیسری ہجرت پر مجبور کر دیا۔
اردو کے ممتاز شاعر میر تقی میر نے کہا تھا ؎
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لُوٹا گیا
چناں چہ روسی جارحیت کے سال 1979 سے اگست 2021 تک تقریباً چار دہائیوں (42 سال) میں مجموعی طور پر تقریباً 25 سے 30 لاکھ افغان خاندان بار بار اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔
اس کا خلاصہ یوں ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے دوران تقریباً 5 سے 5.5 ملین افغان، روسی انخلا کے بعد ہونے والی خانہ جنگی کی وجہ سے مزید 1.5 سے 2 ملین اور نائن الیون کے بعد امریکی جارحیت کی وجہ سے تقریباً 5.5 سے 6 ملین افغان شہری ملک بدری یا اندرونی بے گھری کا شکار ہوئے۔
یہ صرف اعداد و شمار کا جھنجھٹ نہیں ہے … بلکہ یہاں ہر ہندسے کے پیچھے ایک بکھرا ہوا خاندان، ایک اُجڑا ہوا گھر اور ایک معصوم بچپن دفن ہے۔
اگر 25 سے 30 لاکھ خاندوں کے لیے اوسط خاندان کا سائز 5 سے 6 افراد فرض کر لیا جائے تو یوں تقریبا ایک کروڑ 29 سے 34 لاکھ اور اوسطاً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کی غمگین کہانیاں سامنے آتی ہیں، جن میں سے … مرد ہو یا عورت … بوڑھے، جوان اور چھوٹے بچوں سمیت ہر شِیرخوار کا اپنا دکھ، غم اور درد ہے۔
بالکل اسی طرح … جیسے اہلِ غزہ کو کبھی وقتی طور پر غزہ میں بسنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اگلے ہی دن اسرائیلی بمباری انہیں دوبارہ جنوب کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ واپسی کی ہر امید تباہی کے کسی نئے منظر میں ڈھل جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے، جیسے ان قوموں کو نہ جلاوطنی مکمل نصیب ہے … نہ اپنے وطن میں سکون مقدر ہے۔ یہ وہ زخم ہیں، جو بار بار تازہ کیے جاتے ہیں … کبھی سیاست کی طاقت سے … کبھی مفادات کے ایندھن سے…
جب افغانستان یا فلسطین جیسے مظلوم ملکوں پر کوئی بے رحم طاقت حملہ آور ہوتی ہے تو وہاں کے عوام کو ہجرت، بےگھری، موت، زخمی ہونے، اپاہج ہو جانے، عزیزوں کی جدائی، گھروں کی بربادی، بھوک، بیماری، ذہنی صدموں، تعلیم سے محرومی اور پوری نسل کے مستقبل کے بکھر جانے جیسے بے شمار دردناک مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان مظلوم قوموں کو معاشی تباہی اور روزگار کا خاتمہ سہنا پڑتا ہے۔
انہیں پانی، بجلی اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محرومی برداشت کرنا پڑتی ہے۔
ان کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔
ان کی خواتین کی عزت و حرمت کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
انہیں نفسیاتی بیماریوں اور ڈپریشن سے لڑنا پڑتا ہے۔
انہیں نقل مکانی کے دوران سردی، گرمی اور موسم کی مختلف شدتوں کا عذاب سہنا ہوتا ہے۔
انہیں ملک و قوم ک�� شناخت سے محرومی کا خطرہ گھیر لیتا ہے۔
ظالم طاقتیں ان کے تعلیمی ادارے تباہ کر دیتی ہیں۔
انہیں پناہ گزین کیمپوں میں ذلت آمیز لمحات جلاتے ہیں۔
وہ عالمی بے حسی اور انصاف سے محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف افغانستان کی کہانی نہیں ہے…
یہ ہر اُس بستی کے کمزور مسلمانوں کا نوحہ ہے، جہاں نماز کی طرف بُلاتی اذانیں مسجد کے ملبے تک دب گئیں۔ جہاں معصوم بچوں کی ہنسی بمباری کے شور میں دفن ہو گئی۔ جہاں عزت مآب ماؤں کی پاکیزہ کوکھ میں پنپتی ننھی زندگیاں بھوک و افلاس کی آگ میں جھلس گئیں۔
یہ شام سے فلسطین، برما سے کشمیر اور عراق سے بوسنیا تک کے ہر مظلوم مسلمان کی ایک مشترکہ ��ہ ہے!
یوں ہر مہاجر کا ویران گھر، ہر مہاجر کی خالی جیب، ہر مہاجر کا خاموش دن، ہر مہاجر کی تاریک رات اور ہر مہاجر کی آہ و بکا ایک چیخ بن کر دنیا سے سوال کرتی ہے … کیا ہمارا جرم صرف کمزور ہونا تھا؟
#زخم
#FromKabulToGaza
#مهاجرین_افغانستانی
#AfghanPalestinianStruggle
#ہجرت
#TearsBeyondBorders
#امت #نوحہ
تحریر کا ویب لن��:
https://t.co/SswRvVTlWN
امریکی جیل ایف ایم سی کارسول، FMC CARSWELL ،جہنم کے گڑھے، میں بے گناہ قید قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی صحت، زندگی، وطن واپسی سے متعلق
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر آئینی پٹیشن 3139/2015 کی
سماعت کل ”بروز پیر ، 30 جون 2025“ کو
مسٹر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت(کورٹ روم نمبر 5) میں ہوگی۔ کیس کا سیریل نمبر 1 ہے۔
ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کیلئے آواز اٹھائیے۔
@Aafiamovement@altafshakoor@FowziaSiddiqui
امدادی مرکز پر جمع ہونے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں 36 افراد شہید اور 120 زخمی ہو گئے۔ یہ نسل کشــی اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو نظر کیوں نہیں آرہی!!!
میں پاکستان مسلم لیگ ،PPPP ،MQM ،PTI ودیگر تمام پارٹیوں کے کارکنان سے التجا کرتاہوں کہ اپنے لیڈروں کے غلط فیصلوں کو بچانے کی خاطر قرآن و��نت سے بغاوت کرکے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے سپُرد نہ کرے ورنہ کل قبر وقیامت میں تمہارے یہ لیڈر تمہیں بچا پائیں گے؟ #غیرشرعی_بل_نامنظور