دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے استاد الحدیث مولانا سعید الرحمن صاحب کا اپنا درد دل بیان کرکے ابدیدہ ہوگئے💔😭💔
گالی بھی مولوی کے لیے اور گولی بھی مولوی کے لیے 😭💔
#شہید_شیخ_ادریس_رح
انا للہ وانا الیہ راجعون💔
خیبر پختون خواہ ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والا حضرت مولانا شیخ ادریس صاحب کی المناک شہادت کی خبر سن کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ علم، حق اور انسانیت کا قتل ہے۔ آپ کی دینی، ملی اور اصلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
حکامِ بالا سے پُرزور مطالبہ ہے:
اس گھناؤنے واقعے کے مجرموں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔
شفاف تحقیقات کے ذریعے تمام سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے۔
مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اہلِ علم و حق کے خلاف ایسی جسارت نہ کر سکے۔
علماء کرام امت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر قاتل آزاد گھومتے رہے تو معاشرے میں لاقانونیت اور خوف کا راج ہوگا۔
#انصاف_دو #علماءکا_تحفظ
ایرانیوں کا ہیرو
ان کا حاجت روا م
اور مشکل کشاء
ابو لولو فیروز ہے
جسے یہ بدبخت
بابا شجاع کہتے ہیں،
اور جانتے ہیں یہ لعین کون ہے؟
یہ خلیفہ ثانی فاتح ایران فاتح مصر فاتح شام فاتح فلسطین و بیت المقدس سسرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
جناب عمر ابن الخطاب کا قاتل ہے
اور یہ مجوسی تھا،
جی تو جناب ایران کے حمایتی حاضر ہوں۔۔۔۔
کوئی مسلم ملک رہ تو نہیں گیا جہاں اس نے مزائل فائر نا کیا ہو۔۔
پاکستان بچا ہوا ہے اور وہ کیوں بچا ہوا ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔
رات سے کالے کپڑوں والے فرما رہے ہیں خاما نائی 38 ویں پُشت سے نبی کریم کا نواسا بنتا ہے۔۔۔تو جناب عرض ہے کہ ابو لہب سگا چچا تھا اور قران نے نام لیکر کہا کہ(َبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ)
رشتہ داری نیی اعمال کام آنے اور خاما نائی کے اعمال بھی اپنے پڑنانے ابو لہب جیسے تھے
اہلسنت عہد نامہ
میں ایک سنی ہوں اور وعدہ کرتاہوں/ کرتی ہوں کہ اپنے بچوں
کو سکھا کر جاؤں گا / جاؤں گی بیٹا ابن سباء کی آل نام نہاد شیعان علی
ہی آل رسول ﷺکی قاتل ہے ۔
میں برملا یہ تاریخ ان کے ذہنوں پر ثبت کر کے جاؤںگا /جاؤں گی کہ سیدنا عمرؓ
کے قا تل ابو لؤلؤ فیروز کا مزار مجوسیوں کے گود ایران میں محفوظ ہے ۔
شیعہ پر لعنت ہمارے ایمان کا حصہ ہے
سچ کو عنوان بنایا تو بُرا مان گئے
آج گستاخِ صحابہ تو بُرا مان گئے
کس نے صدام کے مرنے پہ مٹھائی بانٹی
بس یہی یاد دلایا تو برا مان گئے
ابنِ خطاب پہ تنقید حق سمجھتے تھے
خامنہ ای کو لَتاڑا تو برا مان گئے
وہ جو کہتے تھے تبراء سے کچھ نہیں ہوتا
اُن کو کھٹمل جو پکارا تو برا مان گئے
میں ایک سنی ہوں اور وعدہ کرتی ہوں کہ اپنے بچوں کو سکھا کر جاؤں گی بیٹا ابن سباء کی آل ہی آل رسول ک�� قاتل ہے ۔
میں برملا یہ تاریخ ان کے ذہنوں پر ثبت کر کے جاؤں گی کہ سیدنا عمر کے قا تل ابو لؤلؤ فیروز کا مزار مجوسیوں کے گود ایران میں محفوظ ہے ۔
شیعہ پر لعنت ہمارے ایمان کا حصہ ہے
تحریکِ انصاف نے 26 نومبر کو ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کیا تھا، مگر کارکن وہ��ں تک نپہنچنے سے پہلے کہیں اور پہنچا دئیے گئے، تحریکِ لبیک نے امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ کا اعلان کیا، لیکن وہ بھی اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ایسے گم ہوئے کہ آج تک کچھ پتہ ہی نہیں کہ کہاں ہیں؟
پھر آخر یہ کون سے عناصر ہیں جو ہر بار نہ صرف منظم انداز میں نکلتے ہیں بلکہ حساس ترین مقامات تک بآسانی پہنچ بھی جاتے ہیں؟
گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر دنیا کے کئی ممالک نے اپنے اپنے تحفظاتی انتظامات سخت کیے میری وال پر سب موجود ہے مجھ سے بندے کو اندازہ تھا کہ جی کا جانا ٹھہر گیا اور میں کھل کر بغیر لگی لپٹی لکھتا بھی رہا اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں مخصوص نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کی چہ مگوئیاں عام تھیں ہاسٹل سٹی سے لے کر سکسٹھ روڈ اور کھنہ پل تک کیا ہو رہا ہے، لاہور ٹھوکر تا وحدت روڈ کی ایکٹیویٹیز ��سی سے پوشیدہ نہیں
سرگودھا اور گجرات تک کے لڑکے مختار فورس کے حل�� اٹھا رہے تھے تو ریاست کہاں سورہی تھی؟
انہیں اس قدر مضبوط کرنے والے آج قوم کو کیا جواب دیں گے؟ ساری رپورٹس ہونے کے باوجود
پھربھی اتنی ڈھیل کیوں؟
اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہم عہدوں پر ایسے افراد بیٹھے ہوں جن کے ذاتی مفادات وابستہ ہوں تو پھر کارروائی کیسے ہوگی؟
ایک جگہ چھوٹے واقعے پر سخت ایکشن لے کر داد سمیٹی جاتی ہے، مگر بڑے سیکیورٹی فیلئر پر خاموشی کیوں؟ کیا اس پر کوئی جوابدہی ہوگی؟
یہ اسٹارٹر ہے، یہ ٹریلر ہے آپکو اندازہ ہی نہیں کہ انہوں نے کتنا گند مچانا
انکے مولویوں کی ساری پیدا گیریاں ولایت فقیہ کے خمس سے نکلنے والی خیرات پر تھی ظاہر ہے اتنی آسانی سے کون اپنا دھندہ بند کرتا ہے
سچ ٹی وی کا مالک کون ہے؟
کراچی کی جی ٹی وی کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی؟
انچولی تا ملیر کاروان کس کے چل رہے ؟
گلگت تا کراچی ان سے نمٹنے کے لئیے ہمیں ایک مربوط پالیسی بنانی ہوگی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں معاشرے میں گالم گلوچ، تشدد اور انتہا پسندی کا کلچر اسی رجیم کے سبب بڑھا ہے ایک پوری نسل ایسے بیانیوں میں پروان چڑھی جو اختلاف رائے کو دشمنی سمجھتے ہیں اس زہر کا تریاق فوری نہیں ہوگا اس کے لیے مستقل مزاجی، تعلیم، قانون کی یکساں عملداری اور غیرجانبدار احتساب درکار ہوگا ہم اب بھی کافی چیزوں میں آنکھیں بند کئیے بیٹھے ہیں اگر ملک بچانا ہے تو آج ہی اوپر سے شروع کریں ورنہ چمن کے اجڑنے کے بعد لکیریں پیٹنے کا کوئ فائدہ نہیں
آفتاب نذیر
موصوف کا نام صاحبزادہ سلطان محمد علی باہو ہے،مشہور صوفی بزرگ حضرت سلطان باہو کی نسل میں سے ہے-
موصوف کے کام ماڈلنگ،جیب ریس،گھوڑا ریس ،مہنگے کھیل اور شاہانہ لائف اسٹائیل ہے -
مہینے میں ایک آدھ بار یہ پگڑی پہن کر پیرانہ گٹ اپ کے ساتھ دربار میں بیٹھتے ہیں ،غریب مریدوں سے نذرانے وصول کرتے ہیں اور پھر اپنے شوق پورے کرنے نکل جاتے ہیں -
یہ واحد پیر ہے جس کا باقاعدہ ٹک ٹاک پر اکاونٹ بھی ہے یہ وہاں اپنی “اداکاری” کے جوہر دکھاتا ہے-
ان کے مرید انہیں “ولیاں دا بادشاہ تے پیراں دا پیر سونا سلطان محمد علی بدر منیر ”جیسے القابات سے پکارتے ہیں -
ضلع جھنگ میں سلطان باہو کا مزار موصوف کی اِنکم کا واحد اور سب سے تگڑا ذریعہ ہے -
اسلام اور بزرگوں کے نام پر دکان چلانے والا یہ ڈبا پیر کھیل کود اور عیاشی کے ہر مقام پر نظر آئیگا لیکن اسلام کیلئے یہ کہیں کھڑا ہوتا نظر نہیں آئیگا -
پیری مریدی کی ان فیکٹریوں میں غریبوں کا پیسہ ہی ضائع نہیں ہو رہا ان کا ایمان اور عقیدہ بھی تباہ ہو رہا ہے -
لازم ہے کہ ان کو بے نقاب کیا جائے ۔۔
منقول
وینزویلا ایسا ملک تھا جسے قدرت نے دل کھول کر نوازا تھا۔
زمین کے نیچے 300 ارب بیرل تیل، زمین کے اوپر پھیلا ہوا وسیع رقبہ، سمندر سے جڑی ہوئی طویل ساحلی پٹی اور خشکی کے راستے برازیل، گیانا اور کولمبیا جیسے اہم ہمسائے۔
وینزویلا پاکستان سے بھی کافی بڑا ملک ہے۔
نقشے پر دیکھا جائے تو لگتا تھا کہ یہ ملک نہیں، قدرت کا شاہکار ہے۔
دنیا اس�� جانتی تھی:
“یہ وہ ملک ہے جس کے پاس سب سے زیادہ تیل ہے۔”
لیکن دنیا یہ نہیں جانتی تھی کہ
اس ملک کی اصل کمزوری زمین کے نیچے نہیں، زمین کے اوپر ہے۔
سالوں سے یہ ملک طاقت کے ایک بڑے مرکز سے زبانی محاذ آرائی میں مصروف تھا۔ بیانات، دھمکیاں، تقریریں… سب کچھ تھا۔
مگر پس پردہ ایک چیز خاموشی سے کمزور ہوتی جا رہی تھی:
اور وہ چیز تھی دفاع۔
پھر ایک دن سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تاریخ نے کروٹ لی۔
فضا میں شور تھا، ریڈار خاموش تھے، کمانڈ سینٹر اندھیرے میں ڈوب چکے تھے۔
چند ہی گھنٹوں میں:
فضائی دفاع مفلوج
اہم تنصیبات راکھ
اور اقتدار کے ایوان خالی
کہتے ہیں کہ صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے اٹھا لیا گیا،
اور ایک ایسا ملک جو انڈیا کی طرح خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا،
وہ چند گھنٹوں میں انڈیا کی طرح ہی عبرت کی مثال بن گیا۔
تب دنیا نے ��یک تلخ سچ دیکھا:
تیل کے کنویں ٹینک نہیں ہوتے
سڑکیں میزائل نہیں بنتیں
اونچی عمارتیں دفاعی ڈھال نہیں ہوتیں
اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو
تو:
ترقی بے معنی
معیشت عارضی
وسائل بے جان
اور خود مختاری ایک فریب ہوتی ہے
ایسا ملک کسی مسئلے پر اسٹینڈ نہیں لے سکتا
کیونکہ دشمن جانتا ہے
ایک بٹن دبے گا
اور سب کچھ صفر ہو جائے گا۔
اسی لیے یہ واقعہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں تھا،
یہ دنیا کے ہر ملک کے لیے ایک پیغام تھا۔
اور پھر نظر پاکستان کی طرف جاتی ہے۔
نہ سب سے زیادہ تیل،
نہ سب سے بڑی معیشت،
نہ جدید ترین سہولیات کی بھرمار—
مگر ایک چیز ہے جو سب سے مضبوط ہے:
دفاع۔
اسی اعتماد کے ��اتھ ہمارے سپہ سالار نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا:
“ہم کو لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں
تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔”
یہ جملہ صرف الفاظ نہیں تھا،
یہ اعلان تھا کہ
یہ ملک آسان شکار نہیں۔
اللہ کا شکر ہے
کہ پاکستان کے پاس وہ چیز ہے
جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے:
ناقابلِ تسخیر دفاع۔
اور تاریخ گواہ ہے:جس قوم کا دفاع مضبوط ہوتو وہی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتی ہے۔
#DefenseMatters
#NationalSecurity