پڑھی ہیں یوں تو کتابیں، مگر حقیقت میں
سبق جو مجھ کو ملے، اپنی زندگی سے ملے
RT's Not Endorsements
دیگر کی ریپوسٹ کی گئی پوسٹ سے، میرا متفق ہونا ضروری نہیں!
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے اہلِ خانہ، بالخصوص باپردہ غیر سیاسی خواتین اور معصوم بچوں کی جبری گرفتاری انتہائی قابل مذمت اور ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کی بدترین مثال ہے۔
یہ نہ صرف انسانی حقوق، آئینِ پاکستان اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی اور اخلاقی حدود کو بھی پامال کرچکی ہے۔
اختلافِ رائے کو جبر اور انتقام سے دبانے کی یہ روایت خطرناک ہے جس سے نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا ملے گا۔
میں حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ کرتی ہوں کہ حافظ سعد رضوی کے اہلِ خانہ، خصوصاً خواتین اور بچوں کو فوری اور بلا شرط رہا کیا جائے، اور اس افسوسناک اقدام میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
جب پنجاب میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، وزیر اعلی شہباز شریف تھے۔ صرف پنجاب میں 250 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے۔
سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ، داتا دربار، RA بازار، منگلا اور قلعہ گجر سنگھ دھماکے
CCPO آفس، آر اے بازار، پولیس ٹریننگ اسکول، امام بارگاہوں اور بازاروں میں دھماکے
یہی معاملہ KP اور باقی ملک کا بھی تھا جب تحریک انصاف کی حکومت کہیں بھی نہیں تھی
سو میں یہ بات سمجھا نہیں کہ
“دہشتگردی صرف کے پی کے میں کیوں ہے؟
پنجاب اور سندھ میں کیوں نہیں ہے؟
سندھ اور پنجاب میں دہشتگردی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان دو صوبوں میں گورننس قائم ہے!”
پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ میرا ضمیر کبھی اجازت نہیں دے گا کیونکہ فلسطین کے معاملے میں ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے
عمران خان کا دو ٹوک موقف 🔥
فلسطینی صحافی یہ بتاتے ہوئے آپ دیدہ ہو گیا کہ ہم اپنے آپ کو یتیم سمجھتے تھے…پھر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے کردار نے حوصلہ دیا۔ لیکن کچھ ہی ہوا، رجیم چینج اور فلسطین دوبارہ یتیم ہو گیا۔
کور کمانڈر ہاؤس کے مقدمہ نمبر 103 کے فیصلے کے انتظار میں ہم کوٹ لکھپت جیل بیٹھے تھے۔ اس دوران ڈاکٹر یاسمین نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ نوجوان تھیں تو انہیں MBBS میں داخلہ نہیں ملا اور وہ ڈینٹسٹری میں آگئیں۔ مگر ان کی خواہش ہمیشہ گائناکالوجسٹ بننے کی تھی۔
دو سال ڈینٹسٹری مکمل کرنے کے بعد جب وہ ایم بی بی ایس کی میرٹ لسٹ میں آئیں تو سب نے کہا اب ڈینٹسٹری چھوڑنا درست نہیں۔ لیکن انہوں نے کہا میرا خواب ہمیشہ گائناکالوجسٹ بننا تھا اس لئے انہوں نے شروع سےایم بی بی ایس میں داخلہ لے کر ایک بار پھر سے اپنی تعلیم شروع کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے آگے مشکل کوئی معنی نہیں رکھتی۔ فیصلہ پکا ہو تو منزل ملتی ہے۔
آج ڈاکٹر یاسمین اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں۔ سالگرہ مبارک ڈاکٹر یاسمین! آپ کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ہمت اور حوصلے کی مثال ہے۔