جتنی آواز پاکستان میں اور انٹرنیشنلی عمران خان کے لئے اٹھائی گئئ ہے شاید ہی کسی سیاسی لیڈر کے لئے اتنی آواز کسی نے اٹھائی ہو لیکن اسکے باوجود عمران خان کے ساتھ بدترین دہشتگردوں والا سلوک صرف اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ دنیا کی اسٹیبلشمنٹیں اسکے خلاف ہیں ۔۔
عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں معاملات بہتر کروانے میں چند اہم اورسیز پاکستانیوں کے علاوہ ایک سابق آرمی چیف نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم ذرائع کے مطابق سابق آرمی چیف کی حالیہ چند ہفتوں میں عمران خان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں جن میں ایک ملاقات 28 جولائی اور ایک 5 اگست کو بھی تھی جس کے بعد چیزیں تیزی سے بہتر ہوئیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ عمران خان کو صحت کے کافی مسائل ہیں اس لئے پارٹی اور خیر خواہوں کی پہلی ترجیح بھی ان کا علاج معالجہ ہی ہے۔
"ہم سات بہنیں ہیں۔ ہمارا اکلوتا بھائی تھا جس کی ہم سب شادی کی تیاریوں میں لگےہوئےتھے۔ لیکن اسے شادی کے جوڑے کےبجائے کفن پہنایا گیا۔ ہمارا کیا بنےگا۔ ہمارا سہارا کون بنےگا اب"۔
کوئٹہ دھرنے میں شہید عطاءاللہ کی بہن کی فریاد۔
#Balochistan
شہید اکبر شیرانی کو جب محاصرے میں مدد پہنچنے کی امید ختم ہوئی تو قلم کاغذ نکال کر ان پر جن افراد کا قرض تھا وہ نام لکھے، سامنے قرض کی رقم لکھی۔ خون آلود کاغز انکی جسد خاکی کی جیب سے برآمد ہوا۔
سانحہ مانگی، ضلع زیارت
#Balochistan
Why don't people wash their asses? Just toilet paper? Sorry, what?
A vitally important conversation on 'We're Not Kidding' featuring lotas, hand bidets, and @WajahatAli.
You'll appreciate it. I promise.
Full show on fascism and racism and more: https://t.co/SifanIG4FH
She spent her entire life without showing a single strand of her hair to any man other than her husband, only for her granddaughter to post her to hundreds of thousands on social media for Twitter points
Few months ago we faced loadshedding because there wasn't enough power demand from the grid now we face loadshedding because there's too much demand. Basically fuck you either way because fuck this country.
Novo Nordisk hackers got in through a GitHub token left in a repo
stayed for two months
took 1.3TB of data including unreleased drug formulas and internal AI models
then asked for $25 million
Novo Nordisk said no
so now they're selling Ozempic's secrets on the dark web
a GitHub token did this
مبین عارف کی معیشت پر پکڑ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے 95% ارکان سے زیادہ ہو گی۔ کہیں بھی کسی بھی رکن کے ساتھ بٹھا کر دیکھ لیں۔ کیا پنجابی میں تقریر کرنے یا پنجابی بولنے سے بندہ بدتمیز، لُچر، لفنگا، ان پڑھ ہو جاتا ہے؟ لعنت ہے ایسی گھٹیا سوچ پر
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2