@geonews_urdu کبھی پروگرام عوام کے مسائل پہ کر لو۔۔ چھوڑ دو تحریک انصاف کا پیچھا ۔ اس حکومت نے عذاب میں ڈالا ہوا عوام کو ۔۔ اور تم لوگوں کی خبریں اور تجزیے دیکھو۔۔ ڈوب مرو
عدالتی فیصلوں کی بے توقیری اور عوام : عدالتوں کے فیصلوں پر عمل ہو یا وہ عمل کروائیں تو تب ہی ان کا وقار اور ان پر عوامی اعتماد ہوتا ہے اگر عدالتیں یہ نا کروا سکیں تو ان کی حیثیت ماتحت اداروں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی اور عدالتوں کو چاہیے جن فیصلوں پر عمل نا کروا سکیں وہ فیصلے سرے سے دیا ہی نا کریں
جسٹس امین الدین خان جو اب چیف جسٹس بن چکے ان کی سربراہی میں آئینی بنچ نے 7 مئی 2025 کو فیصلہ دیا تھا کہ 45 دن میں یعنی کہ 21 جون تک حکومت قانون سازی کرے اور ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ مجرمان کو ہائیکورٹس میں اپیل کا حق دے 63 مجرمان اس وقت بھی سویلین جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں
حکومت نے آئینی بنچ کے اس 7 مئی 2025 کے فیصلے پر آج 14 مئی 2026 تک عمل نہیں کیا جس سے ان قیدیوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں جو اس وقت جیلوں میں ہیں حکومت کو سوچنا چاہیے وقت تو گزر ہی جاتا ہے لیکن یاد رہتا ہے اور یہ قانون سازی عدالتی حکم کے مطابق کرنی چاہیے اٹارنی جنرل نے بھی اس وقت یہ قانون سازی کرنے کی بات کی تھی
دوسری جانب ہماری آئینی عدالت کی حالت دیکھ لیں ان کے فیصلے پر عمل نہیں ہوا اس کے باوجود وہ بالکل خاموش ہیں اگر چہ ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز متعلق فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں بھی زیر التوا پڑی ہیں وہ بھی مقرر نہیں کی گئیں نا ہی توہین عدالت کی درخواستیں آئینی عدالت نے ابھی تک لگائیں ہیں
سب باتوں کی ایک بات اگر فیصلے پر عمل نہیں کروا سکتے تو فیصلہ پھر دینے کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ نظام انصاف پر عوام اعتماد اس سے بہت متاثر ہوتا ہے
@wajih_sani ارے نیوز ریڈر بھائ اپنے چھوٹے سے دماغ پر اتنا زور نہ دیا کریں۔۔ مردہ یزید کو بڑا للکارتے ہیں ۔ زندہ یزیدوں کا نام لینے سے تنخواہ بند ہوتی آپ کی ۔ لکھی لکھائی خبریں پڑھا کریں۔۔