میرا تو ابھی تک ووٹ ہی نہیں بنا ۔ کیونکہ الیکشن فروری میں ہونگے اور میں مارچ میں 18 سال کی ہونگی ۔ انشاء اللہ 2029 کے الیکشنز میں ، میں اپنا پہلا ووٹ پیپلز پارٹی کو دوں گی ۔ ✌️
یہ پھول نگر ملتان روڈ کی ویڈیو ہے اور وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر @RanaSikandarH کا علاقہ ہے جہاں مسافروں سے بھری کوسٹر کو بھتہ نہ دینے پر ڈنڈوں سے توڑا گیا ہے۔ یہ کوئی بہت دور دراز کا علاقہ نہیں بلکہ لاہور کے نواح میں ہونے والا واقعہ ہے۔ اگر اس جگہ پر بھتہ مافیا کی یہ صورتحال ہے تو دور دراز علاقوں میں کیا صورتحال ہو گی۔
پنجاب حکومت کی نام نہاد گڈ گورننس کہاں سو رہی ہے۔۔۔
Gilgit-Baltistan mein teeron ki barish. The Pakistan Peoples Party is emerging as the single largest party and we will be attempting to form government. I am grateful to the people for their trust and congratulations to Jiyalas on their victory.
تمہارے سیاسی رہنما مختلف فورمز پر مختلف باتیں کرتے ہوں گے، چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کا مؤقف ہر جگہ ایک ہی رہا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ صوبائی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار پیپلز پارٹی ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم اور NFC ایوارڈ کے ذریعے وسائل اور اختیارات صوبوں کو منتقل کرنا پیپلزپارٹی کا تاریخی کارنامہ ہے۔
آج بھی صوبائی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے مضبوط آواز پیپلز پارٹی ہی بلند کر رہی ہے۔ اگر یہ جدوجہد کچھ حلقوں کو ناگوار گزرتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صوبائی حقوق کے اصولی مؤقف کا دفاع کیا ہے۔۔۔
چیرمین بلاول نے نہایت جرات مندانہ خطاب کیا جس میں انہوں نے طاقتور حلقوں کو بھی کئی پیغام دئیے جن میں سب سے اہم پیغام یہ تھا کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں فارم 47 سے کام نہ لیا جائے اور عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔۔۔
پچھلے الیکشن میں ہماری جیتی ہوئی نو سیٹیں چھین لی گئیں۔
فارم 45 کا بندوبست آپ نے کرنا ہے فارم 47 کا بندوبست میں کر دوں گا۔
چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا شگر میں بڑے جلسہ عام سے خطاب۔۔۔
شگر کے غیور عوام آپ نے اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرکے یہ واضح کردیا ہے کہ جیت صرف تیر کی ہوگی۔ 7 جون کو اپنے خاندان کے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر جائیں اور پچھلے انتخابات میں ہونے والی ناانصافی کا بدلہ تیر کے نشان پر مہر لگا کر لیں۔ آئیں ہم ملکر گلگت بلتستان کے حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔
یہ صرف انتخاب نہیں بلکہ ایک عہد ہے! حق، ترقی اور عوامی راج کے قیام کا عہد۔ ہر ووٹ اس خطے کے مستقبل کو مضبوط کرے گا، ہر مہر اس جدوجہد کو نئی طاقت دے گی۔ اور اس تیر کی جیت، عوام کی جیت ہوگی۔
#ShigarMainTeerChaleyGa
آدھی درجن کے قریب وفاقی وزرا کو گلگت بلتستان پہنچا کر ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ امیر مقام پچھلے کئی ہفتوں سے گلگت بلتستان میں خرید و فروخت اور جوڑ توڑ کر رہا ہے۔۔۔
بابا جی کی دل دہلا دینے والی باتیں
"14 ہزار کا بل… غریب کہاں سے دے گا؟"
آج کے دور میں عام آدمی کے لیے بجلی، گیس اور دیگر بل زندگی کا بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ تنخواہ وہی پرانی، مگر بل ہر ماہ آسمان چھو رہے ہیں۔
بابا جی کی یہ بات صرف ایک جملہ نہیں بلکہ لاکھوں گھروں کی سچائی ہے، جہاں چولہا جلانا بھی حساب مانگتا ہے اور روشنی بھی قرض لے کر آتی ہے۔
یہ ملک واقعی ایک راجواڑا بن چکا ہے۔
پہلے حیدرآباد، کراچی نیشنل ہائی وے پر صرف ایک لائن کا اضافہ کر کے اسے موٹروے کا نام دے دیا گیا، تاکہ ٹول ٹیکس میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکے۔
بعد ازاں، سکھر، حیدرآباد موٹروے کا رخ تبدیل کر کے سارا فنڈ رائیونڈ موٹروے کی طرف موڑ دیا گیا۔
دنیا بھر میں اصول یہ ہے کہ پہلے پورٹ سٹی (بندرگاہ والے شہر) سے موٹرویز بنا کر دیگر شہروں کو جوڑا جاتا ہے، لیکن یہاں ایک ایسے شہر پر پیسہ جھونکا جا رہا ہے جس کی اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی، جو پورے ملک کا 70 فیصد ریونیو پیدا کرتا ہے، وفاق کی جانب سے ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس شہر کے لیے نہ کوئی جدید موٹروے ہے، نہ پانی کا کوئی بڑا منصوبہ اور نہ ہی کوئی شہری انفراسٹرکچر۔
نون لیگ کا ایک اور جھوٹ ایکسپوز
مریم نواز کو parathyroid gland نامی گلے کی بیماری ہے، جس کا ایک بار علاج جنیوا میں ہوچکا ہے
لیکن Marriyum Aurangzeb کے مطابق 28 مئی 2026 کو مریم نواز کی ایک میجر سرجری شریف میڈیکل کمپلیکس لاہور میں ہوئی ہے۔
یہ بات مکمل جھوٹ ہے۔
سب سے پہلے تو آپ کو بتا دوں کہ parathyroid gland کی سرجری لاہور میں صرف دو ہسپتال کرتے ہیں
• شالامار ہسپتال لاہور
• ایور کیئر ہسپتال لاہور
صرف یہ دو ہسپتال ہی ہیں جدھر parathyroid gland کی سرجری ہوتی ہے، شریف میڈیکل کمپلیکس میں اس سرجری کی ناں کوئی سہولت موجود ہے اور ناں ہی اس شعبہ کا اسپیشلسٹ میڈیکل پریکٹیشنر موجود ہے
مریم نواز نے ابھی جو گلے کی سرجری کروائی ہے یہ سرجری شریف میڈیکل کمپلیکس لاہور میں نہیں بلکہ Lor Hospital باکو میں ہوئی ہے
اِس ماہ حکومتِ پنجاب کا جو وفد باکو گیا تھا وہ صرف ایک بہانہ تھا، مریم نواز نے باکو سے گلے کی سرجری کروانی تھی اور صفائی میں والیوں کو بینگن کھلائے تھے۔
مریم اورنگزیب نے جھوٹ بولا کہ مریم نواز کی سرجری شریف میڈیکل کمپلیکس سے ہوئی ہے، یہ جھوٹ اسلئے بولا گیا تاکہ پاکستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے کہ مریم نواز کا علاج پاکستان سے ہوا ہے۔
اور پھر نون لیگ کے سوشل میڈیا نے اس بات پر پورا ایک بیانیہ بھی تیار کیا کہ دیکھو مریم نواز نے پنجاب سے ہی علاج کروایا ہے۔
نون لیگ کی چونکہ بنیاد ہی جھوٹ پر ہے تو یہ لوگ ہر بات میں جھوٹ ہی بولتے ہیں۔
جس طرح کراچی میں کبھی ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا پر حالات نے کروٹ لی اور وہاں کا میئر اب پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا ہے بلکل اسی طرح پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوگا ۔۔۔ انشاء اللہ