کشمیر کمیٹی سے شروع کروں؟
مشرف سے بیان کروں ؟
صرف پی ڈی ایم کا بیان کروں؟
میں تہانوں گھر پہنچاکے آواں گا،انشاءاللہ تعالی
خواجہ آصف کا جے یو آئی ف کے ارکین سے مکالمہ
@Benazir_Shah@shazbkhanzdaGEO Shameful ! What a mockery of a state we live in where an elected representative could lie openly on National TV on the crime they have committed! Shame !
@johnhussainpres Much better than Iran where they kill and abuse protestors not only on political differences but on Religious differences as well and stop spreading fake/old videos about Pakistan … You should focus on Iranians getting basic’s which Your Govt could not even provide them!
خان کے دور میں۔۔۔۔نوز شریف گرفتار،شہباز شریف گرفتار،مریم نوز گرفتار،کیپٹن صفدر گرفتار،حمزہ شہباز گرفتار،رانا ثناءاللہ گرفتار،خواجہ آصف گرفتار،سعد رفیق گرفتار،حسین نواز گرفتار،آصف زرداری گرفتار،فریال تالپور گرفتار،ڈاکٹر عاصم گرفتار،شرجیل میمن گرفتار۔۔۔۔حسین نواز کا تو سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اُس نے تو آج تک میڈیا سے گفتگو بھی نہیں کی۔۔۔اُس پر الزام کیا تھا؟ خان کا محض مخالف ہونا۔۔۔؟؟؟؟
@ZawarUS00@HasnaatMalik Shahbaz Sharif daughter was involved and he destroyed home of PMLN MNA from lahore Afzal khokar’s sisters home , Destroyed home of PMLN senator from Rawalpindi Ch Tanveer Also froze the accounts of Hanif Abbasi Family …. no People are not fuking dumb like you… Shithead!
ایک باپ اپنے بیمار بیٹے کے علاج کے لیے اتنے عرصے سے حکومت کے دروازے پر فریاد کرتا رہا، مگر اس کی آواز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تک نہ پہنچ سکی۔ یا شاید پہنچ کر بھی نظر انداز کر دی گئی، کیونکہ یہ کوئی خوشامدی کام نہیں تھا، نہ اس میں تصویریں بنوانے کا موقع تھا، نہ سیاسی تشہیر۔
اگر اس معاملے میں خوشامد، تعریف یا سیاسی فائدے کی کوئی گنجائش ہوتی تو شاید اسی بچے کے علاج کے لیے فوراً اقدامات ہو جاتے۔ لیکن ایک غریب باپ کی فریاد میں نہ کوئی سیاسی فائدہ تھا اور نہ کوئی واہ واہ۔
آج صورتحال یہ ہے کہ اس بچے کے والدین حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان سے مایوس ہو کر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکام سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں اور اب ترک صدر طیب اردگان سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کی بے بسی نہیں، بلکہ ہمارے حکومتی نظام کے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے۔
ڈرو خدا سے پاکستان کے حکمرانوں!
ریاست کی اصل ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ صرف بڑے منصوبوں، تقریبات اور تشہیری سرگرمیوں پر اربوں روپے خرچ کرے۔ ریاست کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ جب ایک غریب باپ اپنے بیمار بچے کو بچانے کے لیے دروازہ کھٹکھٹائے تو اس کی آواز سنی جائے۔
بسنت جیسے غیر ضروری اور نمائشی تہواروں پر اربوں روپے خرچ کرنے کی باتیں ہوں، اربوں روپے کے سرکاری اخراجات ہوں، حتیٰ کہ 11 ارب روپے کے جہاز لینے کے فیصلے ہوں، تو سوال یہ ہے کہ ایک مجبور بچے کے علاج کے لیے حکومت کے پاس وسائل اور ترجیحات کیوں نہیں؟
ہم ترقی کے مخالف نہیں، خوشیوں کے بھی مخالف نہیں۔ لیکن ترجیحات ضرور پوچھیں گے۔
اگر حکومت کے پاس نمائشی سرگرمیوں کے لیے اربوں روپے ہیں، تو ایک بیمار بچے کے علاج کے لیے کیوں نہیں؟
اگر حکمران عوام کے ٹیکس سے مراعات اور سہولیات حاصل کرتے ہیں، تو پھر اسی عوام کے ایک مجبور بچے کی فریاد کیوں نہیں سنتے؟
مریم نواز صاحبہ، حکومت کی اصل آزمائش تالیاں بجوانے والے اجتماعات نہیں، بلکہ ایسے بے سہارا خاندان ہیں جو آخری امید لے کر حکومت کے دروازے پر آتے ہیں۔
اس بچے کے والدین کو حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان سے مایوس ہو کر کسی دوسرے ملک کے حکمران سے مدد مانگنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے تھا۔
یہ ایک بچے کی زندگی کا سوال ہے۔ اسے سیاست، تشہیر اور خوشامد سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔
حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ اس بچے کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، اس کے مکمل طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے، اور اگر علاج پاکستان میں ممکن نہیں تو اسے بیرون ملک علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
عوام کو صرف تقریریں نہیں، مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ چاہیے۔
خدارا، پہلے اپنی عوام کی بنیادی ضروریات پوری کریں، پھر نمائشی منصوبوں اور تہواروں پر اربوں روپے خرچ کریں۔
@Kh_ImranNazir@MaryamNSharif@PMLNHealthCare@pmln_org