🚨 گجرات میں دانا چن گینگ کے سرغنہ شعیب ڈار کا پنجاب کالج کے معصوم طالب علم پر بہیمانہ تشدد!
بچے کو بے دردی سے مارا گیا۔
ایسے غنڈوں کو فوری گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے!
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ
@MaryamNSharif
آپ کی توجہ کی اشد ضرورت ہے 🙏
یہ ویڈیو بہترین ہے جہاں تک مجھے اس کی سمجھ آئی ہے کیا عربی زبان میں مہارت ہے کسی کو جو اس کا اُردو میں ترجمہ کرے تاکہ اس کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو
جزاک اللہ خیرا کثیرا
گزشتہ رات CMH مظفرآباد کے میڈیکل وارڈ میں ایک بزرگ کو دیکھ کر دل لرز اٹھا۔ کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں وہ بمشکل اپنے قدم اٹھاتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بے چینی سی ہوئی تو میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ قریب جانے پر انکشاف ہوا کہ وہ اکیلے تھے... نہ کوئی عیادت کرنے والا، نہ پاس بیٹھنے والا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایک بار اکیلے واش روم جانے کی کوشش میں گر چکے تھے، مگر شکر ہے کہ اس وقت کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔
وقت گزرتا گیا... وارڈ کی ہلکی روشنی میں گھڑیاں سوئیوں پر دوڑ رہی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد، دوسرے بیڈ کے ایک مریض کی نظر پڑی تو وہ گھبرا کر بولا: "یار! وہ بزرگ کافی دیر پہلے واش روم گئے تھے، ابھی تک واپس نہیں آئے!"
دل میں ایک کھٹکا سا لگا۔ اسٹاف نرس کو فوراً متنبہ کیا گیا، جب دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو منظر دل چیر دینے والا تھا۔ وہ بزرگ واش روم کے سرد اور گیلے فرش پر بے سدھ گرے پڑے تھے، اور درد سے کراہ رہے تھے۔ جسم میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ وہ خود اٹھ کر دروازہ کھول سکتے یا کسی کو پکار سکتے۔
جب ان کے کاغذات کی فائل دیکھی گئی تو اس پر لکھا سچ آنکھوں میں آنسو لے آیا۔ فائلوں میں باقاعدہ ایک ملازم کا شناختی کارڈ منسلک تھا، جو ان کی دیکھ بھال اور تیمار داری کے لیے مامور تھا۔ مگر کیسا ستم تھا کہ کاغذات کا وہ ٹکڑا محض ایک دھوکہ تھا! وہی ملازم رات ہوتے ہی، اپنے فرائض اور انسانیت کو پسِ پشت ڈال کر، بوڑھے لاچار انسان کو اکیلے وارڈ میں چھوڑ کر نہ جانے کہاں غائب ہو چکا تھا۔
بزرگ ہچکیاں لیتے ہوئے بس بار بار واش روم جانے اور سنبھالنے کی فریاد کر رہے تھے، ان کا بستر بھی گیلا ہو چکا تھا، مگر اس وقت ان کی تیمار داری یا عیادت کے لیے وارڈ میں کوئی اپنا موجود نہیں تھا۔ وہ وجود جو کبھی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر انہیں دنیا میں چلنا سکھاتا تھا، آج ہسپتال کے ایک سرد فرش پر چند قدم کے سہارے کے لیے ترس رہا تھا۔
آخر وہ کون سی مجبوری، کون سا لالچ اور کون سا پتھر دل ہے جو اولاد کو اپنے بوڑھے ماں باپ سے اتنا بے پروا کر دیتا ہے؟ جنہوں نے اپنی جوانی ہماری ہنسی پر لٹا دی، کیا بڑھاپے میں وہ چند لمحوں کی توجہ اور محبت کے بھی حق دار نہیں رہے؟
اگر کوئی ان بزرگ کو پہچانتا ہے، یا ان کے خاندان سے واقف ہے، تو خدا کے لیے یہ پیغام ان تک پہنچا دیجیے! شاید یہ الفاظ کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں، شاید کوئی بیٹا یا وارث اپنی ذمہ داری کو پھر سے پہچان لے۔
World-leading cardiac surgeon Asif Hasan was surrounded by the children who received the gift of life thanks to his unerring skills at the emotional climax of another memorable Pride of Britain ceremony. 🥹
Now 70 years old, Mr Hasan has just retired after 35 years of service at the Freeman Hospital in Newcastle upon Tyne, but just after receiving his Lifetime Achievement Award, he had an extra special surprise: a cast of patients who would not be alive without him. ❤️
بلغ العلى بكماله
وہ پہنچے بلندیوں پر اپنے کمال کے ساتھ
كشف الدجي بجماله
آپ کے جمال سے تمام اندھیرے دور ھو گے
حسنت جمیع خصاله
آپ کی تمام عادتیں ہی بہت اچھی ہیں
صلو عليه واله
آپ پر اور آپ کی آل پاک پر لاکھوں درود اور سلام ...
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ پر پچاس راتیں ایسی گزریں کہ کوئی انسان ان سے بات نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ ان کے لیے وہ زمین بھی اجنبی ہو گئی جسے وہ خوب پہچانتے تھے، اور ان کا سینہ اپنی وسعت کے باوجود تنگ پڑ گیا۔
پچاسویں رات کی فجر کے وقت انہوں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی، جو پہاڑ کی چوٹی سے بلند آواز میں پکار رہا تھا: ’’اے کعب بن مالک! خوش ہو جائیے!‘‘ چنانچہ ان کے لیے سات آسمانوں کے اوپر سے قرآن کی صورت میں نجات اور کشادگی نازل ہوئی، جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی!
زندگی میں کچھ وقت ایسے بھی آتے ہیں جب صرف حالات ہی تنگ نہیں ہوتے، بلکہ تمہارے سینے میں موجود تمہارا اپنا دل و دماغ بھی تم پر بوجھ بن جاتا ہے، یہاں تک کہ تمہارا دم گھٹنے لگتا ہے۔
عین اسی لمحے قرآن میں بیان کردہ اس کیفیت کو پڑھو، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں ساتھیوں کی نجات کا راز آشکار فرمایا:
’’یہاں تک کہ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی، اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر تنگ پڑ گئیں، اور انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے خود اسی کی طرف پناہ لینے کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، تو پھر اللہ نے ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی۔‘‘
(سورۃ التوبہ: 118)
کشادگی اسی لمحے جنم لیتی ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر کہیں نہیں جایا جا سکتا، سوائے اس کی رحمت کی پناہ میں آنے کے۔
انہی گھٹن بھری گھڑیوں کے لیے نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دعا سکھائی، جو دل کی تنہائی اور بے قراری کو دور کرنے کا وسیلہ ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں یہ دعا پڑھنے کی وصیت فرمائی:
’’اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں۔ میرے تمام معاملات درست فرما دے، اور مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے نفس کے حوالے نہ کر۔‘‘
(يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ)
اور اسی سپردگی اور اللہ کے حوالے کر دینے سے الجھی ہوئی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
’’قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت، جو اللہ کے سپرد کر دینے اور اسی پر بھروسا کرنے کا مفہوم رکھتی ہے، یہ ہے:
’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘
(سورۃ الطلاق: 2-3)
اے میرے عزیز! جب زمین تم پر تنگ ہونے لگے اور سانسیں گھٹنے لگیں، تو اپنا سر اٹھا کر اللہ، جو کارساز اور ہر طرح کی حمد و ثنا کے لائق ہے، کی طرف دیکھو؛ کیونکہ آسمان کی طرف سے خوش خبریاں اکثر اسی وقت آتی ہیں جب زمین کے تمام راستے اور تدبیریں ختم ہو چکی ہوتی ہیں!
’’اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی کارساز، ہر طرح کی حمد و ثنا کے لائق ہے۔‘‘ ♥️🌼
(سورۃ الشوریٰ: 28)
آیوڈین کی کمی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔
دن کا مقصد آیوڈین کے استعمال کی اہمیت اور صحت پر اسکے اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
آیوڈین ایک اہم غذائی جزو ہے جس کی جسم کو تھائیرائڈغدود کیلئے ضرورت ہوتی ہے۔
یہ غدود جسم کے کئی افعال پر اثر انداز ہوتا ہے جن میں دل کی دھڑکن
🇬🇧❤️ A Muslim surgeon of Pakistani descent has won a Pride of Britain Award for his extraordinary work saving children’s lives.
Asif Hasan has received the Lifetime Achievement Award at the 2026 Pride of Britain Awards, recognising decades of dedication to children with serious heart conditions.
After years of service at Newcastle’s Freeman Hospital, the pioneering cardiac surgeon has helped transform paediatric heart surgery and transplantation, giving hope to families facing some of the most difficult moments of their lives.
Throughout his career, he has performed hundreds of heart transplants, pioneered life-saving surgical techniques and trained the next generation of surgeons, leaving a legacy that will continue to save lives for years to come.
In one of the ceremony’s most emotional moments, former patients whose lives were transformed by his work joined him on stage to honour the surgeon who helped give them a future.
May Allāh reward him for every life he has helped save and every family he has given hope. ❤️
ایسی لڑکیاں جن کا نکاح ہو چکا ہو اور ان کے والدین مہنگائی کی وجہ ابھی رخصتی نہیں کر سکے!
وہ یہ فارم فل کر کے اپنے ضلع زکوۃ دفتر میں جمع کروائیں اور گورنمنٹ کی طرف سے 10 سے 12 دنوں میں اہل ہونے پر دو لاکھ کا چیک مل جائے گا اور اپنی ضروریات کا سامان لے سکے گے۔
اگر آپ کے کام کی پوسٹ نہیں ہے تو آگے شیئر کردیں۔ آپ کے شیئر کی وجہ سے کسی مستحق بیٹی کا کام بن سکتا ہے...