تم AC والے کمرے میں بیٹھ کر شٹے چکو اور ہمارے گھروں میں دہشت گردگھسیں؟ تم گدلے پانی میں ڈوبکیاں لگا کر آم چوسو اور ہم خون میں نہایں ؟ تم فارم 47 پر وزیر دفاع بن جاو اور ہمارے بچے ہجرت کر کے لاہور جہلم کی سڑکوں پر پھول بیچیں ؟ نا خاجے نا آپریشن ہو گا تو تیرا گھر بھی آئے گا زد میں
A section of the media running fake results on TV showing PTI candidates lagging. They did the same on 8th Feb in order to manage expectations. When Form 45’s started pouring in they paused and were ‘told’ to wait for forged Form 47s.
آنکھیں کھولی رکھیں ہوسکتا ہے 31 دسمبر کی رات نامعلوم افراد 2024 کے کلینڈر سے 8 فروری کو ہی غائب کر دے کیونکہ الیکشن سے بھاگنے کا اب یہی واحد راستہ ہے 😂
If India bats first—India scores in excess of 300
Wins the game by 50+ runs
If Australia bats first—Aus scores 230-240
India win the game by 6 wickets
🤞🤞🤞🤞
Jai Hind 🇮🇳🏆🤗
#IndvAus#CWC23
۱۸ مارچ کو جب ہم لاہور سے جوڈیشل کمپلیکس کے لیے نکلے تو راستے میں ہی پینِک کالز آنا شروع ہوگئیں۔ جوڈیشل کمپلیکس ہر بھاری نفری تعینات تھی، سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کو کورٹ کے اندر اور چھت تک پھیلا دیا گیا تھا۔ اسلام آباد کو مکمل سیل کردیا گیا تھا، کارکن جو خان کی پیشی کے لیے ساتھ آنا چاہ رہے تھے، آ نہیں پا رہے تھے۔ اُدھر زمان پارک پر بھی دھاوا بول دیا گیا۔ خان کی گاڑی کے ساتھ جیمرز بھی سفر کررہے تھے سو رابطہ بھی ممکن نہ تھا کسی طور گاڑی رکوا کر حالات سے آگاہ کیا اور واپس مڑنے کی گزارش کی۔ آگے سے صاف انکار ہوگیا۔ ابھی دو دن پہلے ہی جس نوعیت کی جارحیت جھیلی تھی ہمیں سامنے والوں کے ارادوں کو لے کر کوئ خوش فہمی نہ تھی۔ مگر دوسری جانب عمران خان تھا کہ جس کو اِس بات سے کوئ سروکار ہی نہیں تھا۔
جیسے جیسے اسلام آباد قریب آرہا تھا صورتحال کی سنگینی کا مزید اندازہ ہورہا تھا۔ پہلی رکاوٹ عبور کی تو ساتھ ۸-۱۰ گاڑیاں رہ گئیں۔ اگلی رکاوٹ پر ان میں سے ۳ رہ گئیں۔ اسلام آباد ٹول پلازہ کے پاس کچھ گاڑیاں پہلے سے کھڑی تھیں وہ ساتھ شامل ہوگئیں لیکن جیسے ہی اسلام آباد میں داخل ہوئے وہ گاڑیاں بھی کنٹینر رکھ کر روک لی گئیں۔ موبائل فون کے سگنلز بند، واپسی کا راستہ کوئ نہیں۔ ایک لمحے کے لیے تو لگا سب ختم۔
انسان کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگانا بڑا آسان ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ اس نے مر ہی جانا ہوتا ہے۔ مگر جب آپ کے سامنے ایک ایسا شخص ہو کہ جس سے کروڑوں لوگوں کی اُمید بندھی ہو تو یہ احساس کہ آج آپ کے ہوتے، آپ کی آنکھوں کے سامنے اُسے نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ کروڑوں لوگوں کی امید کے ٹوٹنے کے منظر میں اپنی بے بسی کا احساس، اُسے گنوا کر زندہ رہ جانے کا خوف اپنی موت کے خوف سے کئی گنا بڑا ہوتا ہے۔وہ چند گام کا سفر اسی خوف سے معمور تھا۔
مگر جہاں انسان کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں اللہ آپ کو اپنی قدرت دکھاتا ہے۔ ہم اپنی سوچ پر چلتے تو ہم عمران خان کو آدھے راستے سے واپس لے جاتے۔ عمران خان ہمیشہ کیطرح اللہ کے بھروسے چلا آرہا تھا اُس نے سوچا ہی نہیں آگے کیا ہوسکتا تھا اور کیا نہیں۔
اسلام آباد داخل ہوئے اور یکایک نجانے کیسے اور کہاں سے عوام کا ایک جم غفیر دائیں، بائیں، آگے پیچھے سے نمودار ہوگیا۔ سیاسی ورکر سختیاں جھیلنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ عام آدمی ایسے حالات سے خود کو نکالتا ہے نا کہ ان میں خود کو اپنے ہاتھوں ڈالے، مگر یہ ہمارے کارکن نہیں تھے۔ یہ اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مزدور تھے، یہ متوسط طبقے کے گھروں کے نوجوان تھے، یہ پڑھے لکھے گھروں کی خواتین تھیں۔ بدترین شیلنگ میں سادے سرجیکل ماسک کے ڈبے ہاتھوں میں لیے اپنی آنکھیں ہونچھتے دوڑے چلے آرہے۔ کسی کی جوتی ٹوٹی تو کوئ حلیے سے ہی برگر، کوئ ہمیں نمک چٹوا رہا، کوئ سروں ہر پانی ڈال رہا اور خود نہال لیکن رک نہیں رہے۔ شیلنگ ہورہی، لاٹیاں برس رہیں۔ نالوں میں کود رہے، خالی پلاٹوں میں دوڑ رہے، پولیس کو واسطے دے رہے مگر کوئ پیچھے نہیں ہٹ رہا، سب کی منزل ایک، وہی جو خان کی منزل۔ جہاں اس کے لیے مقتل سجا ہوا، اُدھر یہ بھی سر ہتھیلی پہ رکھے گامزن۔ وہ جدھر جانے پر مَصر، یہ اُدھر جانے کو تیار۔ دونوں جانتے ہیں آگے کیا ہے۔ دونوں کا ماننا ہے کہ “عشق بُلھے نو نچاوے یار تے نچنا پیندا اے” نا کوئ سوال، نا کوئ حیل و حُجت۔ہم گاڑی کو گھیرے ہوئے ضرور تھے لیکن ہم سفر عمران خان کے اس کی قوم تھی۔ اگر اس دن کیمرے نا ہوتے تو کون یقین کرتا کہ گولیاں برس رہی ہیں سب جانتے ہیں اُس کی گاڑی بُلٹ پروف ہے وہ محفوظ ہے مگر کوئ خود کو بچانے کی کوشش نہیں کررہا سب اُس کی گاڑی سے لِپٹ رہے ہیں۔ لاٹھیاں چل رہیں ہیں، ڈنڈے پڑ رہے ہیں کوئ واپس نہیں مڑ رہا، رکاوٹیں ہٹا کر اُس کے لیے رستہ کھول رہے ہیں۔
آپ کہیں گے لوگ ڈر گئے ہیں، پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ میں نے جو قوم ۱۸ مارچ کو دیکھی ہے۔ آپ اسے ڈرا ہی نہیں سکتے۔ اس کا شعور اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ فیصلہ لینا بھی جانتی ہے اور اس پر عمل کرانا بھی۔ وہ وقت کی اہمیت بھی سمجھتی ہے اور تعطل کی حکمت بھی۔ وہ اپنے عشق میں مگن بدترین شیلنگ میں سڑک کے بیچ و بیچ رقصاں رہتی ہے اور استقامات سے جیلوں میں سجدے بھی ٹیکتی ہے۔وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنے مرشد کی ڈھال بنتی ہے تو صبر سے کنارے بیٹھ کر یسین بھی پڑھتی ہے۔ وہ گود میں ۶ ماہ کا بچہ بھی لے کر آتی ہے اور اپنی سفید داڑھی کو آنسوؤں سے بھگوتے انقلاب کا نعرہ بھی جم کر لگاتی ہے۔ وہ نظروں کے سامنے نہ ہو تو اپنی سکرینوں کے پیچھے سے بیٹھ کر دِنوں سر جوڑ کر بُنے بیانیوں کے گھنٹوں میں بخیے ادھیڑ دیتی ہے۔ اُسے جیتنے کے گُر بھی ازبر ہیں اور ہار کر اٹھنے کے فن سے بھی واقف ہے۔ آپ انہیں ڈرا ہی نہیں سکتے کیونکہ مخلوقِ خدا نقارۂ خدا کہلاتی ہے تو کسی سبب۔۔
یہ اللہ ہی ہے جو چالیں پلٹنے پر قادر ہے۔ وہ پھر اپنے در سے کسی خیال کو آپ کا حوصلہ بنائے یا اپنے بندوں کو آپ کا وسیلہ۔ قادِر تو پھر وہی ذات ہے۔
یہ اِدھر اُدھر کے چھوٹے بڑے نام اور عہدے توڑ کر خوش ہولیں عمران خان کی ٹیم کوئ اور ہے۔ اور وہ آج بھی بُلھے شاہ کی ہم خیال ہے۔ میں اگر ایسی ٹیم کے مقابل ہوتا تو بہت بہت خوفزدہ ہوتا!
اِن کی شورش سے شاید کچھ کم، مگر ان کی خاموشی سے یقیناً۔