إنا لله وإنا إليه راجعون
Deeply saddened to learn of the passing of His Highness Sheikh Ahmed bin Rashid Al Maktoum, brother of His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, Vice President and Prime Minister of the UAE and Ruler of Dubai.
His distinguished service to Dubai and his contribution to the UAE Armed Forces leave behind a legacy that will be remembered with great respect.
On behalf of the Government and people of Pakistan, and on my own behalf, I convey my deepest sympathies to His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, the Al Maktoum family, and the brotherly people of the United Arab Emirates.
May Allah Almighty grant the departed soul the highest ranks in Jannat-ul-Firdous and bestow patience and strength upon the bereaved family. Ameen.
تم جھوٹی جوٹھ ہو۔ تم ہر گولیاں نہیں، اس جلوس پر گولیاں اس وقت چلائی گئیں جب وہ تمھاری قیادت میں اک فوجی انسٹالیشن پر چڑھ دوڑا تھا۔ جان صرف تمھاری ہی پیاری نہیں، سب کی ہوتی ہے۔ اک ٹرم کی دیہاڑی لگ گئی۔ اب پانچ سو کا قالین پچاس ہزار میں کوئی نہیں خریدے گا
وارڈنز اچانک اچھل کر سڑک کے بیچ میں ایسے آجاتے ہیں جیسے کوئی دہشت گرد پکڑنا ہو۔ اس کیس میں وارڈن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے کظ اس کی اس بے ہودہ حرکت سے ایک انسان کی جان گئی۔ ہیلمٹ نہ پہننے کا جرم فقط دو ہزار روپے جرمانہ ہے یہ نہیں کہ اس کی جان لینے کا سبب بن جائے
اصل جہالت تو وارڈن نے نہیں کی؟ کیا وارڈن کو ایسے روکنا چاہیئے تھا؟ کیا وارڈن پر قتل خطا کا مقدمہ نہیں درج ہونا چاہیئے؟ وارڈن کی غلطی کی وجہ سے ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔۔ اس ویڈیو کو جتنی مرتبہ بھی دیکھیں گے تو آپ کو وارڈن تعزیرات پاکستان کی دفعہ 318 کا مرتکب نظر آئے گا
پچھلے پچیس سال میں فوجی ہسپتالوں میں آتشزدگی کے کتنے واقعات ہیں جبکہ ان کا بھی بجٹ وہی ہے، عملہ سارا مقامی پاکستانی شہریوں پر مشتمل ہے؟
آئیے اب راگ ارتقاء ملہار میں ترانہ پٹوار سنتے ہیں۔
تھوڑی بہت دو نمبری کی خیر ہوتی ہے
کرپشن ہر جگہ ہوتی ہے۔
کتابی باتیں صرف کتابوں میں۔
کوئی لڑکی جِم شارٹس میں ویڈیو شڈیو بنا لے تو اسلام کے کیلے میں اسلام فوری خطرے میں آ جاتا ہے۔ ایسے معاملات پر چند اک بول بال کر چپ کر جاتے ہیں جب کہ مدارس میں بچوں پر ایسے ظلم روا رکھنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔
میں ملکوال میں جامع مسجد بزم توحید جایا کرتا تھا۔ پڑھانے والے قاری صاحب اب وفات پا چکے ہیں مگر غلطی ہونے پر وہ سردیوں میں کان پکڑوا کر ٹوئی پر کمال کی سوٹیاں مارتے تھے اور کبھی کبھار ہاتھوں کے جوڑوں پر بھی۔ میں چھٹے پارے تک پڑھ پایا پھر گھر سے مسجد کے لیے نکلتا اور آوارہ گردی کر کے گھر واپس آ جاتا۔ پھر 1998 میں قرآن پاک اپنی مرضی سے اٹھایا اور مرضی سے پڑھا۔ بار بار پڑھا۔ قرآن پاک کے اوراق پر اپنے ہاتھوں سے اس زمان و مکاں کے تحت اپنی سمجھ اور خیال لکھے۔ لال، نیلے، پیلے ہائی-لائٹرز سے لائنیں لگائیں۔ کاغذوں پر اپنی تشریح لکھی اور کئی جگہ تراجم کے اپنے نئے مطالب نکالے۔ یہ سب کر چکا تو خیال آیا، کہ یار، اللہ سے اس پیرائے میں ڈرنا بھی کیا ڈرنا جس ڈر کی بنیاد پر اپنے تئیں کے مقدس، پاک اور باعلم لوگ اپنی اہمیت بنائے پھرتے ہیں۔ طویل عرصہ ہو گیا کہ مذاہب سے جڑے پاپولر ملائیت کے موضوعات پر ٹھنڈ پروگرام رکھ کر اور خدا کی رحمت پر تیقن کرتے ہوئے بھی اک ٹھنڈی زندگی جی جا سکتی ہے۔
بچوں کو ایسی سزائیں اور اب ان سے جنسی زیادتیاں بہت عام سے مدارسی پراسیس بن چکے ہیں جو مسلسل رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ان معاملات پر مدارس کے بڑے اکابرین کو بھی عموما خاموش ہی دیکھا ہے اور کم از کم اپنے مشاہدے میں تو ان مسائل پر کسی قسم کی کوئی ریفارمز ہوتے نہ دیکھیں، نہ سنیں۔ حد تو یہ رہی کہ لاہور میں لواطت کے شہنشاہ، مفتی عبد العزیز لوطی کی گرفتاری بھی مولانا کفایت اللہ کے ہاں سے گفت و شنید کے بعد ہوئی جن کی جماعت کے رہنما، مولانا فضل الرحمن پاکستان میں دیوبندی اسلام کے سرخیل ہیں۔
دیوبندیت پر بات کرنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ باقی فرقوں کے مدارس ان "خصوصیات" سے محروم ہیں۔ ہر اک کا حصہ بقدرِ جثہ ہے اور مسلسل ہے۔
آپ میں سے جس جس کو اپنے اپنے مذہب سے جڑے معاملات میں دلچسپی ہے، ان ان کو مفت مشورہ ہے کہ وہ بہت عام سی زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ اپنے معاملات جتنا ہو سکے درست رکھیں۔ غلطی ہو بھی جائے تو خدا سے معافی مانگ کر آگے بڑھ جائیں۔ ایویں کچھ زیادہ پیچیدگیوں میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خادم اس روٹ پر سفر کر آیا ہے تو پچھلے 20 برس سے ہر قسم کی پیچیدگی، سمیت مذہبی، سے اک کروڑ نوری سال دور بھاگتا ہے۔ اس میں بہت سکون ہے۔ اسی میں بہت سکون ہے۔
آپ کے معاملات اگر میری طرح صرف آدھ پرسنٹ بھی درست ہیں، تو بھی باقی کے ساڑھے ننانوے فیصد کی خرابی پر خدا سے امید قائم رکھیں کہ وہ رحمت کا سلوک کرے، نہ کہ عدل کا۔ زندگی کو تفصیلات میں پیچیدہ نہ کریں۔ باقی آپ کی مرضی ہے۔
آج کسی پٹواری کی ٹائم لائن پر کوئی فوجی پریس ریلیز، کسی فوجی کاروائی کی فوٹیج وغیرہ اپ لوڈ ہوئی ہو تو اس پر خاص نظر رکھیں، بہت حوصلے والا ہے، آنسو ضبط کرنا جانتا ہے۔
نیوکلیئر ہتھیار کی رونمائی جاری۔
They made it a spectacule on purpose. That's exactly is the end goal. You've started to think of yourself as indispensable while you're not. Behave or else is the message.