#ReleaseAfaqAhmed
یہ کیسا انصاف ہے کہ کراچی، جو پورے ملک کی معیشت کا انجن ہے، وہی سب سے زیادہ نظر انداز بھی ہے؟ مہاجر، جنہوں نے اس شہر کو آباد کیا، اسے ترقی دی، آج وہی اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت کی نااہلی اور متعصبانہ پالیسیوں نے کراچی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ جو حقوق مانگے، اسے غدار کہا جاتا ہے، جو ظلم کے خلاف بولے، اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، مگر جو لوٹ کھسوٹ کرے، قتل و غارت کرے، زمینوں پر قبضے کرے، وہ وی آئی پی پروٹوکول میں آزاد گھومتا ہے!
یہ کوئی حکومت نہیں، بلکہ ناانصافی کا ایک مافیا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف مہاجروں کو دیوار سے لگانا ہے۔ کراچی والوں، اگر آج تم خاموش رہے تو یاد رکھو، کل تمہاری آنے والی نسلیں بھی اسی غلامی میں جکڑی رہیں گی! وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی آواز کو دبنے نہ دیں، اپنے حقوق کے لیے متحد ہوں اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف ایک بھرپور تحریک کھڑی کریں۔
یہ شہر ہمارا ہے، اس پر قبضہ کرنے والوں کو ہم حساب دینا سکھا کر رہیں گے!
#آفاق_احمد_کو_رہا_کرو#کراچی_لاوارث_نہیں
اگر ایک معاشرے میں شہریوں کو لوٹنے والے ڈاکو آزاد گھوم رہے ہوں، معصوم جانوں کو روندنے والے ڈمپر ڈرائیوروں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو، مگر عوام کے حق میں آواز بلند کرنے والا گرفتار کر لیا جائے، تو یہ ناانصافی کی انتہا ہے۔
کراچی وہ شہر ہے جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر یہاں کے باسیوں کو لاوارث سمجھ کر ان کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ جو بھی ان مظالم کے خلاف بولے، اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آفاق احمد نے کراچی کے شہریوں کی آواز بننے کی جرات کی، اس لیے اسے خاموش کرانے کے لیے گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واضح پیغام ہے کہ ظلم سہنا جرم نہیں، بلکہ اس کے خلاف بولنا جرم بنا دیا گیا ہے۔ لیکن کراچی کے عوام کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ لاوارث نہیں ہیں۔ جو حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وہ تنہا نہیں ہوتا۔ ہمیں مل کر ہر ایسی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا اور آفاق احمد کی رہائی کا مطالبہ پوری شدت کے ساتھ کرنا ہوگا۔
جب کراچی میں مہاجروں کے نوجوان غیر مقامی ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہو رہے تھے، جب قاتل ڈمپرز 110 شہریوں کو روند رہے تھے، جب کے الیکٹرک مہاجروں کو بجلی کے بل کے نام پر بھتہ دینے پر مجبور کر رہا تھا، تب حکومت، قانون اور سیاستدان سب اندھے، گونگے، بہرے بنے بیٹھے تھے۔
لیکن جیسے ہی مہاجروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، فوراً “لسانیت” کا ڈرامہ شروع کر دیا گیا، فرمائشی گرفتاریاں کی گئیں، اور نام نہاد رہنما چیخنے لگے۔ اب اچانک سب کو “کراچی سب کا ہے” کا نعرہ یاد آ گیا؟ جب مہاجر قتل ہو رہے تھے، جب ان کے کاروبار تباہ کیے جا رہے تھے، جب ان پر نوکریوں کے دروازے بند کیے جا رہے تھے، تب کراچی کس کا تھا؟
یہ ظلم کوئی نیا نہیں! 1991 سے 1997 تک مہاجر قوم پر جو آپریشن مسلط کیا گیا، وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بھیانک ریاستی جبر تھا۔
1992 میں آپریشن کلین اپ کے نام پر ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اصلی ٹارگٹ مہاجر قوم تھی۔
آپریشن کے دوران 15,000 سے زائد مہاجر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ہزاروں لاپتہ کر دیے گئے، اور سیکڑوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔
مہاجر اکثریتی علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے ذریعے گھروں پر حملے کیے گئے، خواتین کی بے حرمتی کی گئی، اور مہاجروں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔
•پیپلز پارٹی اور ریاستی اداروں نے مل کر مہاجروں کو دیوار سے لگایا اور ان کے سیاسی اور معاشی قتل عام کا منصوبہ بنایا۔
یہ وہی وقت تھا جب الطاف حسین نے مہاجروں کے لیے آواز اٹھائی اور انہیں متحد رکھا، جبکہ آفاق احمد نے بھی اپنی سیاست میں مہاجروں کے حقوق کا دفاع کیا۔ آج اگر آفاق احمد کو گرفتار کیا جا رہا ہے، تو یہ وہی پرانی حکمتِ عملی ہے کہ جو بھی مہاجروں کے حق میں کھڑا ہوگا، اسے راستے سے ہٹا دو۔
یہ نہ بھولیں کہ مہاجروں نے 90 کی دہائی میں بھی جبر برداشت کیا مگر اپنی شناخت کو ختم نہیں ہونے دیا۔ آج بھی کراچی کا ہر مہاجر یہ جانتا ہے کہ اگر ہم خاموش رہے، تو کل ہماری نسلیں غلامی میں رہیں گی۔
یہ ایک وارننگ ہے! ہم نے تلوار رکھ دی ہے، مگر بھولے نہیں! اگر غیر قانونی گرفتاریاں بند نہ ہوئیں، اگر مہاجروں کو مزید دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، تو پھر کراچی کی سڑکیں فیصلہ کریں گی کہ اصل حاکم کون ہے؟
ہم حکومت، پولیس اور ان کے مہاجر دشمن اتحادیوں کو خبردار کر رہے ہیں:
فوراً آفاق احمد سمیت تمام غیر قانونی گرفتار مہاجروں کو رہا کیا جائے، ورنہ اس ظلم کی قیمت چکانی پڑے گی!
مہاجر جاگ رہا ہے، اور جب مہاجر جاگتا ہے، تو تخت گر جاتے ہیں!
#کراچی_لاوارث_نہیں
#آفاق_کو_رہا_کرو
@nadia_a_mirza@murtazawahab1@jasmeenmanzoor@HamidMirPAK@Kashifabbasiary@GFarooqi@HassanNisar@MurtazaViews@AsadAToor@Parasjahanzaib1@AwazEHaq90@MaryamNSharif@shazbkhanzdaGEO@ShahzadIqbalGEO@DrDanish5@AliSarwarAnchor@ManzoorPashteen@PTIofficial@MediaCellPPP@BBhuttoZardari@BakhtawarBZ@AseefaBZ@AAliZardari@HasanNawazKhan8@NawazSharifMNS@CMShehbaz@AnsarAAbbasi@asmashirazi@asmaschaudhry@AyazLatifPalijo@Balochbolt@MoeedNj
#مہاجروں_کا_استحصال
عاصم منیر صاحب نے کہا “انسان خطا کا پتلا ہے”۔ 22 اگست 2016 کے بعد الطاف حسین بھائی نے کئی بار معافی مانگی، مگر قبول نہ ہوئی۔
آپ سے گزارش ہے کہ مہاجروں کے قائد پر پابندی ختم کر کے انہیں جمہوری حقوق دیے جائیں۔ شکریہ۔ @AltafHussain_90@AwazEHaq90@OfficialDGISPR
#مہاجروں_کا_استحصال
آپ کا بیان “انسان خطا کا پتلا ہے” خوش آئند ہے۔ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کی غلطی پر معافی مانگی، مگر قبول نہ ہوئی۔
فوج کی مہاجروں اور ایم کیو ایم کے خلاف زیادتیاں، نائن زیرو کی تباہی، پابندیاں، اور گرفتاریاں ختم کی جائیں۔ الطاف بھائی مظلوم قوموں کے قائد ہیں، انصاف پر مبنی اقدامات کی امید ہے۔
@AwazEHaq90@AltafHussain_90@OfficialDGISPR
آرٹیکل 19 آزادی رائے دیتا ہے، مگر شاید یہ “منتخب” شہریوں کے لیے ہے۔ ناانصافی اور ماورائے عدالت قتل پر سوال کریں تو غدار؟ انصاف ملے تو نعرے کون لگائے!
#مہاجر
"سندھ میں موثر سیاست کے لئے شہری علاقوں میں الطاف حسین کی نمائندگی ضروری ہے."
مسلم لیگ فنکشنل کے نمائندے محمد علی درانی نے پیر صاحب پگارا کا پیغام ایک طویل نشست میں نمائندہ اسٹیبلشمنٹ تک ان کی سندھ آمد پر پہنچایا۔
فیصل عثمانی بھائی کی والدہ کی صحت یابی کے لیے آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ میری گزارش ہے کہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جلد مکمل صحت عطا فرمائے۔ آمین۔
As it is Sir, after 9 years of oppression the stardom of the Right Man Mr.@AltafHussain_90 is ummatchable with any other political leader in pakistan,thats the organic popular leader of mass.
@DGISPR#WeNeedAltaf
*اقتدار کا نشئی*
*تاریخ پھر بتائیگی اور یاد رکھی جائیگی جب کراچی کے بچوں کو میٹرک اور انٹر میں فیل کیا جارہا تھا اور انکے ماں باپ خون کے آنسو رو رہے تھے ۔ انکی آہو بقاء کو کوئی سننے والا نہیں تھا!! تو اسوقت وفاقی وزیر تعلیم ایم کو ایم کراچی سے تھا*