سنو، تحریک انصاف کے مجاہدو!
سچے ہو تو کسی کے باپ سے بھی نہ ڈرو۔
سچ کہو، ڈنکے کی چوٹ پر کہو
جو ضمیر کہے اس سے کبھی پیچھے نہ ہٹو
جو صحیح ہے وہ کرو
صحیح کام کرنے کے لئے کسی کی اجازت، کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔
آپ کا لیڈر عمران خان ہے اور اسی کا کہا ہمارا سپریم کوڈ آف کنڈکٹ اور ڈسپلن ہے۔
ڈٹ جاو
💪💪💪💪💪
اللہ کی۔مدد ہمارے ساتھ ہے۔ یقین رکھو، ایمان رکھو اور جان لو کہ صرف ایک خدا کی ذات کے لئے سجدہ روا ہے، کسی اور کے لئے نہیں۔
حقیقی آزادی ہماری منزل اور خان صاحب کی رہائی ہمارا فوری ہدف ہے۔
یاد رکھو جو آپ کی امید توڑے، جو آپ کا حوصلہ پست کرنے کی گھناؤنی کوشش کرے وہی آپ کا دشمن ہے۔
حقیقی آزادی زندہ آباد
مزاحمت زندہ آباد
گلگت بلتستان کے کئی حلقوں میں پی ٹی آئی امیدوار برتری پر ہیں، پولنگ ختم ہوتے ہی مخصوص پولنگ اسٹیشنز ہائی جیک کرنے اور پوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہی��۔ ہم انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کریں گے نہ ہونے دیں گے۔
مسلم لیگ ن کے ایک کنڈیڈیٹ کے لئیے ایک پولنگ سٹیشن میں 80 فیصد ووٹ پول کیا گیا- اک پولنگ بوکس سے 800 سے ذائد ووٹ برآمد ہوئے باقی پولنگ سٹیشنز میں بھی بوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش جاری ہے - ابھی پی ٹی آئی آگے ہے لیکن یہی عمل جاری رہا تو نہ اس الیکشن کو مانیگے اور نہ ہی کسی کو سکون سے رہنے دینگے-
اگر عوامی مینڈیٹ میں مداخلت کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی، اور گلگت بلتستان کے عوام باہر نکلیں گے۔
— سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
@AbdulKhalidPTI
گلگت بلتستان کی غیور عوام کو پیغام!
یہ جو لوٹے ہیں، یہ جو ضمیر فروش ہیں،
یاد رکھو!
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کی قوم کے ساتھ غداری کی، آئین کے ساتھ غداری کی اور اپنے ہی حلقے کے عوام کو دھوکہ دیا۔
ا�� وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام ان لوٹوں کو ایسا سبق سکھائیں کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں!
گلگت بلتستان میں مغرب و عشاء کے بعد والے ووٹرز اور انتخابی نتائج تبدیل کرنے والا عسکری دستہ نہ پہنچا تو گلگت بلتستان میں عمران خان کی جیت ہو چکی ہے، اسٹیبلشمنٹ اپنی سیاسی جماعتوں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور استحکام پارٹی کے ہمراہ 8 فروری کے بعد ایک اور بدترین شکست سے دوچار ہو گئی ہے۔
Pakistan’s Disaster Magnet has already destroyed much of what his hands have touched. But each self deception propels @MohsinnaqviC42 to dig deeper depths of doom.
چھبیس نومبر سے ایک دن پہلے جمی ورک صاحب نے بتایا کہ اسلام آباد میں مظاہرین پر گولیاں چلائی جائیں گی اور کچھ لاشیں گرا کر احتجاج کو منتشر کیا جائے گا۔ ورک صاحب کی معلومات کو رد کیا۔ خیال تھا کہ فوج کبھی بھی اتنا بڑا رسک نہیں لے گی اور احتجاج کو کمزور ہونے دے گی پھر ہلکے پھلکے لاٹھی چارج سے منتشر کردے گی۔ چھوٹے چھوٹے دھوکے انسان روز کھاتا ہے۔ فوج اسلام آباد میں یوں سرعام گولی نہیں چلائے گی یہ سب سے بڑی غلط فہمی ٹھہری تھی۔ ورک صاحب کی معلومات سو فیصد درست ثابت ہوئی تھیں۔
تحریک لبیک کا لانگ مارچ لاہور سے نکلا تو ایک دو لوگ جان کی بازی ہار چکے تھے لیکن تحریک لبیک کی قیادت کا خیال تھا کہ سڑکوں ان پر یوں سرعام گولی نہیں چلے گی۔ مریدکے میں جس وقت ہزاروں کی تعداد میں مسلح افراد نے تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو گھیر لیا تو سعد رضوی کی آخری تقریروں سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اسے قتل عام ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پھر وہی ہوا جو بچے بچے کے ذہن پر نقش ہے۔
فوج نے وقت لیا ، ایکشن کمیٹی کی قیادت کو متنازع کرنے کی کوشش کی ، پانی گدلا کرکے وقت گزارنے کی کوشش کی کام نہیں چلا۔ اب فوج نے ایک اور کریک ڈاون کی تیاری کررکھی ہے۔ اب کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہی۔ فوج کشمیر میں بھی ڈی چوک اور مریدکے دوہرانے کی کوشش کرے گی۔ خدا کرے کسی ایک بھی انسان کی جان اس دھینگا م��ں ضائع نا ہو۔ کسی کا بچہ یتیم نا ہو کسی کا سہاگ نا اجڑے چاہے وہ کشمیری ہوں یا عاصم منیر کے مہرے۔
لیکن عاصم منیر کی زیر قیادت فوج کو کسی قسم کے ملکی مفاد کی ، پاکستان کی جغرافیائی حساسیت کی ، کشمیرمیں ہونے والی بدامنی کے نتائج کی ، کسی اخلاقی یا انسانی ضابطے کی کوئی پرواہ نہیں۔ عاصم منیرکا اقتدار اسی فسطائیت کے زور پر قائم ہے۔ نا مقبولیت ہے نا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز۔ وحشت اگرچہ ختم ہوجائے گی لیکن ہر مدنقابل جو وحشی بنا کر چھوڑے گی۔
نوکر مالک کے سامنے ہاتھ باندھے قطار میں کھڑے ہیں
پاکستان میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو چکی ہے بہت دیر پہلے ہی میں نے بتایا تھا اور پاکستان اسرائیل کے ہاتھ میں جا چکا ہے جو پہلے سے ہی تھا مگر اب واضح نظر ا رہا ہے
#PAKWatch🇵🇰: Today, THOUSANDS of Pakistanis returned to the streets of Gilgit-Baltistan and demanded the IMMEDIATE RELEASE OF IMRAN KHAN.
PAK = NO RULE OF LAW = 3RD WORLD
FREE CAPTAIN PAKISTAN.