غم کی اس گھڑی میں ان شوہدوں کو اپنی صفوں میں ہر گز شامل نہ ہونے دیں جو ابھی آپ کے ساتھ مل کر روئیں گے پیٹیں گے اور چیخیں ماریں گے۔ لیکن جیسے ہی یہ والی گرد بیٹھے گی تو فورا بہانے بہانے سے فوج کے نیچے نیچے گھسیں گے۔ یہ جانے پہچانے چہرے کبھی جنگ کے نام پر �� کبھی ڈھونگ حب الوطنی کے نام پر ، کبھی عالمی پذیرائی کے نام پر وارداتیں ڈالنے کے عادی مجرم ہیں۔
ایکشن کمیٹی کل سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کررہی ہے۔ دھرنے میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ممکنہ طور پر مارچ کا بھی حصہ بنیں گے۔ اللہ ان سب کی پاک فوج سے حفاظت فرمائے۔
کچھ عرصہ قبل پاکستانی امریکن ڈ��کٹرز کو خصوصی دعوت پر پاکستان بلایا گیا۔ انکو ریٹرن ٹکٹس بھی دیے گئے ، ان کو ائیرپورٹس پر خصوصی پروٹوکول ملا ، ان کے لیے لاہور ��یں شاندار تقریبات ہوئیں۔ نہایت پڑھے لکھے ، خوشحال اور جہاندیدہ لوگ اس پر پگھل گئے اور اب اپنی تقریبات میں عمران خان کا چہرہ چھپا رہے ہیں۔ ان حالات میں یئیں یئیں ملک کے یئیں یئیں صحافیوں و تبصرہ پاڑوں پر کیسا افسوس۔
آزاد کشمیر کی حدود کے اندر بسنے والے کبھی نہیں چاہیں گے کہ اسکی حدود سے باہر بسنے والے لوگ ان کے سیاسی فیصلے کریں۔ بارہ نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کی حمایت ننانوے فیصد ہونا کامن سینس ہے۔ گزشتہ دو تین ہفتوں سے کشمیریوں کی استقامت نے بھی اپنا آپ ثابت کیا ہے۔ شوکت میر کی گرفتاری سے فوج کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ تشدد کرکے کوئی اظہار لاتعلقی کا بیان یا بھارت سے فنڈنگ کا بیان لیں گے تو اس پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ اگر ان سے مذاکرات کریں گے تو یہی کشمیریوں کی خواہش ہے۔ شوکت نواز میر کی گرفتاری سے کشمیریوں کو بوسٹ ملا ہے۔
عدالتیں پہلے دن سے فوج کے کنٹرول میں تھیں۔ آئینی ترمیم سے پہلے بھی فوج نے الیکشنز نہیں کروائے ، نگران حکومتوں کو سال ڈیڑھ چلا لیا تھا۔ میڈیا کی گچی تو ریجیم چینج سے پہلے ہی مروڑ دی گئی تھی۔ سوشل میڈیا فوج کے بیانیے کی دسترس سے بہت باہر ہے۔ تحریک انصاف کو مکمل غیر کردینا ، پختونخواہ حکومت و سہیل آفریدی کو رام کرلینا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی حد تک مکمل سکون اور کسی بھی قسم کی مزاحمت چاہے وہ اسمبلی کے اندر ہو یا باہر اس پر قابو پالینا فوج کی چار سال میں پہلی کامیابی ہے۔ اسے تسلیم بھی کرنا چاہیے اور فوج کی اس کامیابی کو شکست میں بھی بدلنا چاہیے۔
چوکیدار سارا سال مجھے مارتا رہا مجھ سے میرے حقوق چھینتا رہا ، آج اس کی ہمساۓ سے کوئ ذاتی لڑائ ہو گئی تو مجھ سے کہتا میرے حق میں بیانیہ بناؤ میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ میں اللہ کی جنگ لڑ رہا ہوں 🤷🏻♂️
سمجھ نہیں آرہی کیا کروں پلیز کوئ دانشور راہنمائ کرے 🙏
نوٹ : اس ٹویٹ کا سیاست سے کوئ تعلق نہیں بلکل ایسے جیسے فوج کا سیاست سے کوئ تعلق نہیں 🥲
عمران خان جنگ و جدل کا مخالف ہے
عمران خان فوجی آپریشنز کا مخالف ہے
عمران خان مذاکرات کا حامی ہے
عمران خان افغانستان سے اچھے تعلقات کا خواہش مند ہے
عمران خان کے پاس قوم کا مینڈیٹ ہے
صرف عمران خان کا فیصلہ قوم کا فیصلہ ہے
شریف و زرداری خاندان سے ساز باز کرکے ، ری��ائرمنٹ کے بعد آرمی چیف تعینات ہوکر ، مینڈیٹ چھین کر، جعلی حکومتوں سے توسیع لینے والا شخص قوم کے فیصلے کرنے کا مجاز نہیں۔
سیاسی بلاگ
سہیل آفریدی؛
سہیل آفریدی نے پختونخواہ میں ہونے والے ڈرون حملوں کا ذمہ دار “ وہاں مامور سیکیورٹی اہلکاروں “ کو ٹھہرایا ہے۔ یعنی سہیل آفریدی کے خیال میں ڈرون آپریٹر ذمہ دار ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ آپریٹر کا نگران کوئی چھوٹا موٹا افسر۔ یعنی سہیل آفریدی کے خیال میں فوجی قیادت ، جرنیلی سوچ اور فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
مفت مشورہ جرم ہے۔ لیکن عادت اس جرم پر اکساتی ہے۔ سہیل آفریدی گنڈاپور اور مروت کو ایک سخت بیان سے کٹ ٹو سائز کریں۔ انکی کوئی اوقات اور حیثیت نہیں۔ اس سے سہیل آفریدی کی اپنی گرفت مضبوط ہوگی اور آپٹکس بہتر ہوں گے۔ سہیل آفریدی ڈرون حملوں اور فوجی آپریشن کے خلاف امن پاسون ، ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ بحال کرلیں۔ عوام الناس کی جانب سے بھی سہیل آفریدی کے پاس وقت بہت کم ہے اور فوج کی جانب سے بھی۔ اپنے ، تحریک انصاف اور پختونخواہ کے آپٹکس بہتر کرلیں۔
یوٹیوبرز؛
یوٹیوب پر اس وقت دو طرح کے دوکان دار ہیں۔ دونوں مختلف سودا بیچ رہے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں دوکانوں پر آپ کی پسند کا سودا بک رہا ہے اور آپ دھڑا دھڑ خریدے جارہے ہیں۔ ایک دوکان پر ایک خیالی سی عشقیہ داستان ہے۔ آپ ٹھہرے سانڈھے کے تیل کے گرد جھگمٹا لگانے ��الی قوم۔ آپکو اس سے بہتر مال کیا ہے مل سکتا ہے۔ دوسرے دوکاندار آپکو بیچ رہے ہیں ٹھنڈی ہوائیں۔ آپ وہی ہیں جو سانڈھے کا تیل خریدنے کے بعد کسی میلے کچیلے ، بدبودار سے رالیں ٹپکاتے شخص سے صرف اس لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ شاید اسی کی پھونک سے کام ہوجائے۔ آپ کو دشمن میں اختلافات بڑھاتی ہوئی خبریں بلاوجہ اچھی لگتی ہیں۔ حالانکہ آپ نہیں سوچتے کہ اگر عشقیہ داستان والے یوٹیوبرز درست ہیں تو پھر اختلافات کہاں سے آگئے۔ اگر اختلافات ہیں تو وہ فرضی سا عشق کیسا؟ اس میں زیادہ بڑے ذمہ دار آپ ہیں جو بے شرمی سے دو متضاد چیزیں خریدے جارہے ہیں۔
جن صحافیوں کو اغواء شدہ فوجیوں پر بات کرنے کی اجازت نہیں انکو کسی ممکنہ ڈیل کی تفصیلات بیان کرنے کی اچانک سے اجازت کیسے مل گئی؟ جی ہاں آپ کو بہکایا جارہا ہے۔
تحریک انصاف ؛
عمران خان کی نا بہنوں سے ملاقات ہوئی نا ہی کسی اور قابل اعتماد شخص سے۔ نا ہی عمران خان کو ہسپتال لیجایا گیا لیک�� عمران خان کی بہنوں کے علاوہ سبھی اسٹیک ہولڈرز مکمل اطمینان سے اور تسلی سے اپنی اپنی گدیوں سے چپکے بیٹھے ہیں۔
شیر افضل مروت اور علی امین جیسے لوگ تحریک انصاف کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے جو کچھ کررہے ہیں اس سے اب کسی کو یہ غلط فہمی نہیں بچنی ��اہیے کہ تحریک انصاف کو فوج کس طرح کنٹرول کررہی ہے۔ اس صورتحال میں سوشل میڈیا پر عوام کی تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کوئی ظلم نہیں بلکہ ان کی حرکتوں سے کیا جانے والا انصاف اور بتھیروں کے لیے تنبیہہ ہے۔ اگر یہ سب نا ہو تو یہ لوگ تو فوج کے کندھوں پر سوار ہوکر عمران خان اور اسکی جماعت کو کچا کھا جائیں۔
یہ مجھے ماردیں گے ذمہ دار عاصم منیر ہوگا
یہ مجھے ماردیں گے ذمہ دار عاصم منیر ہوگا
یہ مجھے ماردیں گے ذمہ دار عاصم منیر ہوگا
یہ مجھے ماردیں گے ذمہ دار عاصم منیر ہوگا
یہ مجھے ماردیں گے ذمہ دار عاصم منیر ہوگا
یہ مجھے ماردیں گے ذمہ دار عاصم منیر ہوگا
عمران خان اڈیالہ میں ہیں یا کسی ہسپتال کی انتہائی نگہداشت وارڈ میں؟
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ معمولی تھا یا غیر معمولی آپریشن ہوا نہیں ہوا؟
کیا اس پروسیجر کے بعد عمران خان کے مسئلے میں بہتر�� آئی یا نہیں؟
عمران خان سے متعلق کسی بھی خبر کی تصدیق یا تردید ان سے اہلخانہ وکلاء اور بااعتماد رفقاء کی ملاقات کے بعد ہوگی۔ صحافی ، حکومت اور فوجی مہرے سب ناقابل اعتبار ہیں۔