آئیں مل کر سانحہ پمز کے منصوبہ ساز ڈھونڈیں۔۔
پہلی خبر:-
یہ سابق DG ISPR جنرل ریٹائرڈ آصف غفور صاحب کا سانحہ پمز پر مذمتی ٹویٹ ہے، یاد رہے کہ جنرل صاحب کا X اکائونٹ خاموش رہتا تھا لیکن اس واقعہ پر اچانک بول اٹھا، آج سے پہلے کسی سانحہ پر آپ کو جنرل صاحب کی مذمتی ٹویٹ نظر نہیں آئے گی۔
دوسری خبر:-
تحریک انصاف سانحہ پمز کو بنیاد بنا کر جلد مطالبہ کرنے والی ہے کہ اب تو عمران خان کا پمز ہسپتال میں علاج ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ وہاں حادثات ہوتے ہیں لہذا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال ہی منتقل کیا جائے۔
تیسری خبر :-
گولڈسمتھ پراجیکٹ کے معماروں میں سے آخری کھیپ 10/12 اعلی سرکاری افسران کی اکتوبر میں ریٹائرمنٹیں Due ہیں، پھر آپ کو عمران خان کیلئے جاری یہ چھوٹی موٹی سازشیں بھی نظر نہیں آئیں گی۔
چوتھی خبر:-
جمائمہ گولڈسمتھ کی برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے عمران خان کو بچانے اور پاکستان پر دبائو ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
پانچویں خبر:-
اکتوبر میں 10/12 اعلی سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کے بعد دسمبر کے آگے پیچھے جنرل فیض، عمران خان اور بشری بی بی کا ملٹری ٹرائل ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی
یہ درست ہے کہ نواز شریف نے محسن نقوی کو جواب دینے سے منع کر دیا ہے
محسن نقوی صاحب نے جو گفتگو کی ہے اس سے ہم بالکل متفق نہیں ہیں گفتگو میں جو انداز اختیار کیا اس کے اوپر بھی ہمیں سخت اعتراض ہے خاص طور پر جس طرح انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو مخاطب کیا جس طرح سے انہوں نے فیلڈ مارشل جو کہ بلاشبہ قوم کے ہیرو ہیں اور کسی سے تعلق ہونا ایک اور بات ہے لیکن ایک قومی ہیرو کے متعلق اس قسم کی بات کی کہ جی وہ ''فلاں نہیں چاہتے فلاں کراس نہیں چاہتے'' یہ بالکل بے معنی ایسی گفتگو ہے جس کو کسی طور پر بھی نہیں پسند کیا جا سکتا لیکن میاں نواز شریف صاحب نے مُٹھ رکھنے کا حکم صادر فرما دیا ھے. رانا ثناء اللہ
نقوی صاحب سسٹم ھر وقت evolve ھو رہے ھوتے ھیں اور ھونے چاہییں ۔ نمونے کے طور پہ PCB میں کوئی انقلاب لائیں کرکٹ کے شائقین PCB کی پرفارمنس سے کوئ اتنے مطمئن نہیں۔ PCB میں تو اقتدار کل آپ کے پاس ھے نہ وزیر اعظم ھے نہ پارلیمنٹ ھے نہ کوئ فرسودہ سیاسی نظام رکاوٹ ھے۔
ایک تقریب کا انعقاد کریں اس میں دو چار بندے بلائیں اور پھر اعلان کریں کہ “ ششٹم “ کھڑا نہیں ہورہا نئے صوبے بنائیں تو کیا اس تقریر سے نئے صوبے بن جائیں گے
اگر آپکا سسٹم کھڑا نہیں ہورہا تو کسی سیانے حکیم سے رابطہ کریں
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
رانا ثنااللہ خان کا ایک اور بیان ایک اور اہم پیغام
خود آپ کامیاب یا ناکام ہو رہے ہیں ناکامی کی صورت میں فلاسفر بن کر تبصرے کریں یہ acceptable نہیں تھا دوسری بات PMLN ایک جماعت ہے قیادت ہے اُن کے متعلق بات کرنا accept نہیں کیا جا سکتا
آپ سسٹم کا حصہ ہوکر ناکام ہیں تو زمہ داری قبول کریں اور استعفی دے دیں ڈیٹس اٹ
ایک بات کی داد 1992 سے پاکستانی فوجی قیادت کو دیں کہ ان تمام برسوں میں ہر آرمی چیف کی حیران کن خواہش رہی کہ نواز لیگ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف ہوں،نواز شریف نہ ہوں۔
آخر تیس سال کے بعد یہ فوجی خواہش 2022 میں پوری ہوئی اور فوج نے خود ہی پوری کی۔ اس دوران سات آٹھ آرمی چیف گزرے لیکن ان سب کی پسند شہباز شریف صاحب ہی رہے۔ بس نواز شریف ہی رکاوٹ بنے رہے۔ جنرل مشرف مارشل لاء لگانے سے پہلے اپنی بیگم صاحبہ کے ساتھ رائے ونڈ بڑے میاں صاحب کا منت ترلہ کرنے تک گئے تھے کہ بڑے بیٹے کو واپس لے جائیں، دراصل چھوٹا ہمارے کام کا ہے۔
صدر غلام اسحاق خان نے بھی میاں شریف کو یہی کہا تھا شہباز کو وزیراعظم بنا دیں کیونکہ نواز شریف لڑ پڑتا ہے۔
آخر کچھ تو ایسا ان صدر اسحاق سے دس بارہ ٹاپ فوجی جرنیلوں نے شہباز شریف صاحب میں دیکھا تھا کہ انہیں لگا پوری نواز لیگ /شریف فیملی میں وہی ان کے کام کا بندہ ہے جو کہیں گے وہی کرے گا۔ ہمیں سیلوٹ مارے گا۔ کبھی ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالے گا۔ ہمارے کہنے پر دن کو رات اور رات کو دن۔
ویسے آپ ہمارے فوجی بھائیوں کی ریڈنگ/ابزرویشن کی داد تو دیں کتنی ٹھیک نکلی ہے۔
جو شخص (ندیم افضل چن)جنرل فیض کے خوف سے اپنی جماعت چھوڑ کر PTI میں چلا گیا تھا
وہ آج اُس راجپوت (رانا ثناء اللہ) کو بزدلی کی طعنے دے رہا جس نے موت کی کال کوٹھری میں بھی سچ بولنا نہیں چھوڑا تھا
اللہ ہو اکبر ، اللہ ہو اکبر
اگر میں اپنی بات کروں تو جب میں اور میرا بھائی بے قصور ہوتے ہوئے بھی جیل میں بند تھے تو کئی مہینے سزائے موت کی چکیوں میں بند تھے تو بہت پریشانی کا عالم تھا، 24 ٫ 24 گھنٹے نیند ہی نہیں آتی تھی ، اور ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ کو 25 ، 25 سال سزا کروانی ہے ، چونکہ پتہ ہی نہیں تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے مزید ہمارے ساتھ یہ ظلم اور کتنی دیر کرنا ہے ، تو تب مجھے میاں حمزہ شہباز ، میڈم مریم نواز یاد آ جاتے تھے کہ انہوں نے بھی تو بے قصور ہوتے ہوئے جیلیں کاٹی ہیں تو مجھے بھی پھر صبر آ جاتا تھا ، آج میں حمزہ صاحب کی وڈیو کلپ دیکھ رہا تھا تو مجھے وہ منظر یاد آ گیا ، بلکل پاکستانی سیاست کنڈوں کی سیج ہے ، اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے
برائے اطلاعِ عام: براہِ مہربانی اس ہفتے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی پلیٹس قیمتیں ملاحظہ کریں۔ حکومت نہ تو کسی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے، صارفین تک کوئی بھی فائدہ پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اسی عہد کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے آج تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔ پاکستان زندہ باد!
Deeply disturbing.
ASI Javed of Islamabad Police, while returning after the tragic loss of his mother, was reportedly stopped by protesters in Rawalakot, identified through his police ID, and brutally assaulted, leaving both his legs fractured.
Violence against a grieving son and public servant is unacceptable and must be condemned unequivocally. Wishing ASI Javed a swift recovery and hoping those responsible are brought to justice.
#IslamabadPolice #AJK #RuleOfLaw
President of Serbia Aleksandar Vučić confirms that Pakistani CM-400AKG strikes hit and destroyed an Indian S-400 ADS radar in last year’s clashes, neutralising the S-400 battery.
“The scenes were almost unbelievable to everyone. Later, India spent a lot of effort denying them.”