45 ھزار روپے والے کی موبائل سم بند کردی جاتی ھے اور دبئی لیکس آئی جس میں جنرلز ،ججز اور بیوروکریسی کی جائیدادیں سامنے آئیں،آپ کو توفیق ھوئی کہ ان کو پکڑتے بلکہ ایف بی آر کو شٹ اپ کال دی گئی کہ اس طرف دیکھنا بھی نہیں۔
Great Yusuf Khan (Dilip Kumar) speaking (in Islamabad receiving the “Nishan-e-Imtiaz of Govt of Pakistan) about 1965 Indo Pakistan war. new generation must see as what was the thought process of icons of arts and literature in both countries. 1.75 billion people needs peace.
@MurtazaViews Excellent. The art has great power to unite people and both countries have a wonderful heritage of artists in all areas. Let’s hope that the people to people contact and artistic and sportive cooperation could start for 1.75 billion people of the sub continent.
@MurtazaViews Excellent. The art has great power to unite people and both countries have a wonderful heritage of artists in all areas. Let’s hope that the people to people contact and artistic and sportive cooperation could start for 1.75 billion people of the sub continent.
کے پی سے ایک نیا شادی شدہ کراچی آتا ھے ہنی مون کے لیۓ۔ بنارس کالونی کے ایک ہوٹل میں کمرہ لیا۔ دونوں صبح کا ناشتہ کمرے میں کر کے سیر سپاٹے کے لیۓ نکل جاتے، دن اور رات کا کھانا باہر ہی کھا کر رات گۓ واپس آتے۔ پندرہ دنوں بعد واپس جانے لگے تو منیجر نے بل بھیجا۔ اس میں کمرے
1/3
@saleemspeaks2 Pakistan needs to get out of the cave era, its institutions and criminal justice system also needs to say hello to 21st century, the constitution of Pakistan and the UN international charter of human rights. The governments and legislative institutions are responsible for this.
خالد جاوید چیمہ چالیس سال سے امریکہ کے شہر کینساس میں کھربوں روپے کا کاروبار کررہے تھے
چند سال قبل اپنے پنجاب کے آبائی شہر وزیر آباد کی محبت میں اربوں روپے کا کاروبار شروع کیا، کاروبار کے توسط سے سینکڑوں مقامی لوگوں کو نوکریاں ملی، آٹے کی ماڈرن ملز لگائیں، کاروبار چل پڑا
جہاں قدم قدم پہ انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کیا، وہی صاف ستھرا کاروبار شروع کیا، تمام کاروبار کے بارے میں ٹیکس حکام، پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی ریکارڈ دیا، این او سیز لیے اور کاروبار شروع کردیا
لیکن پچھلے کئی ہفتوں سے انکا کاروبار مقامی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ٹھپ ہے، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح اوورسیز پاکستانیوں کے یہاں سلوک ہورہا ہے
ایک معزز اوورسیز پاکستانی خالد جاوید چیمہ کا مسیج پڑھیے اور آگے پھیلائیے
“A'A sir I m overseas pakistani last 40 years stay in usa and don all kind of labor and save some money & bring in to pakistan i build a flour mill name Al- qadir flour and General Mills located @ gujranwala ali pur chatha road near Ali pur chatha food department Wazirabad sealed my mill since 7 day's i did not even sell my products in the godam which going to spoil the department always demand money because I m new in the business so I don't no that before eid I must see dfc & dd it's my request to madom Maryam nawaz please take over my mill and i she'll go back to America thanks.
Khalid Javid Cheema
Son of haji ghulam۔”
@MaryamNSharif@AmjadHafeez19@PMLNPunjabPk@GovtofPunjabPK@CMComplaintCell@ChShafayHussain@Khalidc04230594
22 مئی کو بیٹی سے زیادتی کے الزام میں سی سی ڈی کے ہاتھوں مارا جانے والا باپ، فرانزک رپورٹ میں بے گناہ ثابت ہوگیا۔
منڈی بہاؤالدین میں کچھ عرصہ قبل ایک بیٹی نے اپنے سگے باپ پر زیادتی کا سنگین الزام لگایا۔ الزام سامنے آتے ہی معاشرے میں غم و غصہ پھیل گیا، اور بغیر مکمل تفتیش، بغیر حقائق جانے اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے، سی سی ڈی نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ملزم قرار دیے گئے باپ کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔
شاید اُس وقت اسے ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا ہو، لیکن اب اس کیس میں ایسا چونکا دینے والا موڑ آیا ہے جس نے پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
لڑکی کی تفصیلی میڈیکل اور فرانزک رپورٹ سامنے آ چکی ہے، جس میں واضح طور پر ثابت ہوا ہے کہ باپ نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی اور اس پر لگایا گیا الزام جھوٹا اور بے بنیاد تھا۔ رپورٹ نے ایک مرے ہوئے انسان کی بے گناہی تو ثابت کر دی، لیکن اب سوال یہ ہے کہ بغیر ثبوت، بغیر میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیے، اور بغیر عدالت کے فیصلے کے ایک انسان کی جان لینے والوں کا احتساب کون کرے گا؟
جب تک اس ملک میں تفتیش سے پہلے سزا دینے، اور ماورائے عدالت قتل جیسے خونی کھیل بند نہیں ہوتے، تب تک بے گناہ لوگ جھوٹے الزامات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے، اور انصاف صرف فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا۔
ائیرپورٹ سے اف لوڈ ہونے والے محمد عباس کی کہانی کیسے اپنے حق کیلے عدالت سے قانونی ریلیف لیا ۔۔ اور سینکڑوں اف لوڈ ہونے والوں کی اواز بن گے۔
سیالکوٹ کی ٹھٹھرتی صبح تھی۔ 31 جنوری 2026 کا سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا کہ محمد عباس اپنا سامان اٹھائے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔
اس کے چہرے پر تھکاوٹ نہیں تھی، جوش تھا۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی، امید تھی۔ کیونکہ آج وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا جا رہا تھا جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار چلاتے تھے اور شاید یہی سفر اس کی زندگی کا اصل موڑ ثابت ہوتا ہے ۔
اس کے ہاتھ میں سب کچھ تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ نائجیریا کا جائز ویزا۔ واپسی کا کنفرم ٹکٹ۔ مکمل سفری دستاویزات۔ ایئرلائن کاؤنٹر نے بورڈنگ کارڈ جاری کر دیا۔ امیگریشن افسر نے پاسپورٹ چیک کیا اور روانگی کی مہر ثبت کر دی۔ عباس کے قدم جہاز کی طرف اٹھنے لگے۔
اور پھر اچانک سب تباہ ہو گیا
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج سامنے آیا اور راستہ روک لیا۔ نہ کوئی وارننگ۔ نہ کوئی پہلے سے اطلاع۔ محمد عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا گیا جس پر صرف دو فقرے لکھے تھے۔
ناپائیدار مالی حالات
سفر کا غیر واضح مقصد
بس۔ یہی وجہ تھی۔ یہی فیصلہ تھا۔ یہی انصاف تھا
عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے۔ کفالت کا ذمہ دار ہے۔ اس نے ناصر فاروق کی کاروباری دستاویزات بھی سامنے رکھ دیں۔ لیکن کسی نے ایک لفظ نہیں سنا۔ اسے کروڑوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان، ذہنی اذیت اور دیگر مسافروں کے سامنے اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
ایک شہری کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال کر دیا گیا تھا۔ بغیر کسی قانون کے۔ بغیر کسی وجہ کے۔ بغیر کسی جواب دہی کے۔
جب قانون نے دروازہ کھٹکھٹایا
محمد عباس کے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ چپ ہو جائے جیسے اس سے پہلے ہزاروں لوگ ہوئے۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے حق کیلے قانونی جنگ لڑے۔
اس نے دوسرا راستہ چنا
اپنے وکیل کے ذریعے اس نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کی۔ اور اس طرح ایک عام مسافر کا کیس ایک بڑے آئینی سوال میں تبدیل ہو گیا۔
جسٹس راحیل کامران کے سامنے جب یہ مقدمہ کھلا تو دونوں فریق اپنی اپنی طاقت کے ساتھ آئے۔
وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نعمان خالد نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنا امیگریشن حکام کا قانونی حق ہے۔ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، دس الف اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ محمد عباس کا نام نہ ECL میں تھا نہ PCL میں۔ اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری نہیں تھی۔ تو پھر کس قانون کے تحت ایک آزاد شہری کو روکا گیا۔
عدالت نے سوال پوچھا جس نے FIA کے حکام کو سکوت میں ڈال دیا۔
ناپائیدار مالی حالات کا فیصلہ کس ترازو سے ہوا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کوئی رقم مقرر کی ہے؟ اگر نہیں تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟
جج نے واضح کیا کہ صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے جسے جب چاہا گھما دیا۔ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24 الف کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
جسٹس راحیل کامران نے محمد عباس کے حق میں فیصلہ سنایا۔
FIA کا اقدام مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔ من مانا قرار دیا گیا۔ آئین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
عباس کو دوبارہ سفر کی اجازت ملی اور یہ حق بھی ملا کہ وہ اپنی ذلت اور مالی نقصان کا ہرجانہ دیوانی عدالت سے مانگ سکتا ہے۔
لیکن اس فیصلے کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جج نے مستقبل کے لیے ایک واضح گائیڈ لائن جاری کی۔ اب کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے۔ ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی۔ اور اس کی کاپی فوری طور پر مسافر کو دینی ہوگی۔
ایک محمد عباس نے اپنی ذلت کو بنیاد بنا کر لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈھال بنا دی۔
یہ کہانی صرف ایک آدمی کے سفر کرنے یا نہ کرنے کی نہیں ہے۔ یہ اس سوال کی کہانی ہے کہ پاکستان میں ایک عام شہری کے خواب کتنے محفوظ ہیں۔ اور اس جواب کی کہانی ہے کہ جب ریاست کا ادارہ حد سے تجاوز کرے تو آئین کا قانون اسے واپس اس کی جگہ پر کھڑا کر دیتا ہے۔
جوش ملیح آبادی کی کتاب ‘یادوں کی برات‘ سے ایک اقتباس
"ایک بار، جب، پاکستان سے رخصت لے کر، میں جب دہلی میں پنڈت جواہر لال نہرو سے ملا، تو انہوں نے بڑے طنز کے ساتھ، مجھ سے کہا تھا کہ جوش صاحب، پاکستان کو اسلام، اسلامی کلچر، اور اسلامی زبان، یعنی اردو کے تحفظ کے واسطے بنایا گیا تھا۔ لیکن ابھی کچھ دن ہوئے کہ میں پاکستان گیا اور وہاں، یہ دیکھا کہ میں تو شیروانی اور پاجامہ پہنے ہوئے ہوں لیکن وہاں کی گورنمنٹ کے تمام افسر، سو فیصد، انگریزوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔ مجھ سے انگریزی بولی جا رہی ہے، اور، انتہا یہ ہے کہ مجھے انگریزی میں ایڈریس بھی دیا جا رہا ہے۔ مجھے اس صورتِ حال سے بے حد صدمہ ہوا، اور میں سمجھ گیا کہ "اردو، اردو، اردو" کے جو نعرے، ہندوستان میں لگائے گئے تھے، وہ سارے اوپری دل سے، اور کھوکھلے تھے۔ اور ایڈریس کے بعد، جب میں کھڑا ہوا تو میں نے اس کا اردو میں جواب دے کر، سب کو حیران و پشیمان کر دیا اور یہ بات ثابت کر دی کہ مجھ کو اردو سے ان کے مقابلے میں، کہیں زیادہ محبت ہے۔ اور جوش صاحب معاف کیجئے، آپ نے جس اردو کے واسطے اپنے وطن کو تج دیا ہے۔ اس اردو کو پاکستان میں کوئی منہ نہیں لگاتا۔ اور جائیے پاکستان۔ میں نے شرم سے، آنکھیں نیچی کر لیں۔ ان سے تو کچھ نہیں کہا، لیکن ان کی باتیں سن کر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا۔ میں نے پاکستان کے ایک بڑے شاندار منسٹر صاحب کو جب اردو میں خط لکھا، اور، ان صاحب بہادر نے، انگریزی میں جواب مرحمت فرمایا تو میں نے جواب الجواب میں یہ لکھا تھا کہ جنابِ والا، میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔
(بہت کم لوگوں کو علم ہے کے پنڈت نہرو اردو کے بہت بڑے حامی تھے
، کرتا شیروانی کے علاوہ کوئی دوسرا کپڑاکم ہی پہنتے تھے)
منقول
@jamalidmg There are days we hear the fascinating history and stories of Venice Empire from Dawood Bhai. An encyclopaedia of the history, culture, art, science, business and even dressing traditions of that and other era of Venice and Italy. What a pleasure to have such a great company!!
بعض پٹرول پمپوں پر گاڑی کی ٹینکی کو 40 لیٹر پٹرول سے فل کرائیں تو میٹر پر 40 لیٹر پٹرول اور اسکی رقم ظاہر ہو جائے گی لیکن ٹینکی فل نہیں ہو گی زیادہ پٹرول ڈلوانے والوں کے ساتھ زیادہ بڑا فراڈ ہو جاتا ہے یہ فراڈ موٹر وے کے آس پاس پٹرول پمپوں پر زیادہ ہوتا ہے اس لئے ہوشیار رہیں
Honoured to attend the opening of the Commonwealth Chess Championships in Sri Lanka! An impressive event bringing together players from 14 countries and across all age groups - another strong example of Asia’s growing role in world chess.
It was great to see old friends and make new ones, and discuss FIDE’s work on expanding opportunities for players, youth development, and strengthening international cooperation through chess.
Thank you to the Chess Federation of Sri Lanka and everyone involved for the warm welcome.
The Sri Lanka trip was also a special moment to recognise two outstanding contributors to global chess: Bharat Singh Chauhan and Luxman Wijesuriya.
For five decades, both have devoted enormous energy to building chess across Asia and the Commonwealth - through events, federation work, youth development, and international cooperation. Their dedication has helped create opportunities for generations of players and strengthened the global chess family. Grateful for their friendship, commitment, and service to our sport.
Many chess colleagues and I personally learned a lot from them and we all appreciate their contribution to chess worldwide.