If Pakistan’s elections are held under the current circumstances, “they would be a disaster,” the former prime minister warns. “The only viable way forward for Pakistan is fair and free elections,” he argues in a guest essay https://t.co/LjtKp2MWhU
“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/40WxGbb4EG
الحمدللہ، لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے سخت نوٹس اور بازیابی کی ہدایت پر پولیس نے مجھے رہا کر دیا ہے۔
بھرپور آواز اٹھانے اور حمایت کرنے کے لیے حلقے، پارٹی کارکنان اور میڈیا کےتمام دوستوں کے بے حد مشکور ہیں۔ عمران خان صاحب کے ساتھ کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے، انشااللہ
#May9th_FalseFlag op has been used to dismantle Pakistan's democracy. The party that has never endorsed violence in 26 years of existence is being repeatedly blamed without any independent investigation. This must stop! We urge the judiciary to conduct independent investigation and let the law take its course.
The former prime minister of Pakistan writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/6DBPaTgETY
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے مضمون اور اسے دنیا بھر سے ملنے والی پذیرائی نے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی نگراں سیٹ اپ کو اس حد تک پریشان کر دیا ہے کہ انہوں نے جریدے کے ایڈٰیٹر کو خط لکھ کر یہ جاننے کا فیصلہ کیا ہے کہ آخر ان کو ایسا "متنازعہ مواد" شائع کر کے اپنی "ساکھ کو داغدار" کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بلاشبہ یہ لوگ جو پرچی دیکھ کر تقریر کرنے والے شریفوں (موجودہ مالک) اور تعلیم حاصل کرنے کی بجاۓ سکول سے بھاگنے والے زرداریوں (ماضی کے مالک) جیسے ان پڑھ اور جاہل آقاؤں کے خدمت گزار ہیں، انہیں عمران خان جیسے لیڈر کی قابلیت اور ساکھ کا ادراک نہیں ہو سکتا- وزیروں کا لبادہ اوڑہنے والے یہ چاپلوس صرف خدمت گزاری کی زبان سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے طویل عرصے سے غلامی کو ہی اپنا پیشہ مانا ہے اور اپنے ضمیر کا سودا کرتے آئے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں اپنے جرائم پیشہ آقاؤں کو مشورہ دینا چاہیے کہ وہ ریاست سے لوٹی ہوئی دولت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ذاتی جریدے متعارف کروائیں تاکہ وہ بھی چند سطریں لکھ سکیں۔ اس کے بعد ان “اشاعتوں” کو اپنےایک اہم “شاہکار" کی صورت میں فریم کروا کے اپنے ڈرائنگ روم میں لٹکا دیں۔ 'شرم' ایک انتہائی بے معنی اور چھوٹا لفظ ہے جو اس مکروہ گروہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ اس سے عاری رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک پر ایسے مجرمانہ ذہن مسلط ہیں جو اس کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں-
If Pakistan’s elections are held under the current circumstances, “they would be a disaster,” the former prime minister warns. “The only viable way forward for Pakistan is fair and free elections,” he argues in a guest essay https://t.co/zq2oekikNz