یہ ویڈیو مدارس کی تعلیمی نظام پر تنقید کرنے والوں کے نام !
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے آرٹس گروپ میں جامعہ عثمانیہ پشاور کے دو طلباء کی پہلی اور تیسری پوزیشن !
جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام ضلع سوات محمد اعجاز خان اور صدیق احمد ناظم صاحب نے قمبر بائی پاس میں ھلال پرفیوم کی دوسری شاپ کی افتتاح کی اور مفتی ھلال صاحب کے ساتھ نیک تمناؤں کا اظہار کیا
دینی مدارس کے طلباء عصری اداروں کے بورڈز کے ٹاپر بن رہےہیں وہی پشاور بورڈ جسمیں کتنے ایلیٹ کلاس فوجی اور سویلین تعلیمی ادارے ہیں، سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ہمارے مدارس کے طلباء پوزیشن لے رہے ہیں۔ الحمد للہ
لیکن اس بچوں کو کوئی بھی پیارمحبت اور حوصلہ افزائی نہیں دے گا کیونکہ یہ دینی لباس میں ہے اسلامی سوچ کا حامل ہے اور دینی مدرسہ میں پڑھتے ہیں۔
پشاور بورڈ آرٹس گروپ کے پوزیشن ہولڈرز
نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔
نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔
کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں،
میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔
آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔
یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟
ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔
ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔
ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔
میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔
لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔
'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر،
ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔'
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو
کشمیری شہداء سے محبت کا اظہار اسلامی طریقے سے کیا جائے۔ترجمان جےیوآئی
ایک منٹ کی خاموشی اسلامی روایت نہیں بلکہ مغربی روایت ہے ۔اسلم غوری
وزیراعظم ایک منٹ کی خاموشی کے اعلان کو واپس لیں ۔ترجمان جےیوآئی
قوم کو مغربی رسوم نہیں، اسلامی تعلیمات کے مطابق رہنمائی دی جائے۔اسلم غوری
کشمیری شہداء کے لیے اجتماعی دعاؤں اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائے۔ترجمان جےیوآئی
شہداء کو خراجِ عقیدت دعا اور ایصالِ ثواب سے پیش کیا جائے۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
یوم استحصال کشمیر پر جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا پیغام
5 اگست کو ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔مولانا فضل الرحمان
یوم استحصال کشمیر پر بھارت کا مکرہ چہرہ بے نقاب ہوا ۔مولانا فضل الرحمان
75 سال سی کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم اقوام عالم کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ مولانا فضل الرحمان
بھارتی مظالم کیخلاف کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا اسماء جتک کے والد کے قتل پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار
اسماء جتک کے والد کا قتل انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے
اسماء جتک نے قرآن مجید کو سینے سے لگا کر حکمرانوں سے اپیل کی تھی کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مخالفین سے شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا انہیں فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ مگر افسوس کہ تحفظ فراہم کرنے کے بجائے چند ہی گھنٹوں بعد ان کے والد کو قتل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کی سنگین ناکامی اور انتہائی شرمناک طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انتظامیہ ایک مظلوم خاندان کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، حتی کہ قرآنِ مجید کا واسطہ دے کر کی گئی اپیل کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس قتل میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، جبکہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے ۔
پریس کلب کوئٹہ: امیرِ جمعیت علمائے اسلام صوبہ بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع صاحب، آل پارٹیز کے رہنماؤں کے ہمراہ بلوچستان کی موجودہ مخدوش صورتحال اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
سرکاری مشینری استعمال کئے بغیر پشاور میں عوامی سمندر اکٹھا کرنا صرف جمعیت علماء اسلام کا کام ہے۔
کل آپ لوگوں کے جلسے میں جتنے لوگ تھے اتنے تو ہمارے جلسوں میں رضا کار ہوتے ہیں۔
5 ہزار بندوں سے نہ انقلاب آئیگا نہ کوئی رہا ہوگا۔
پشاور: امیر جےیوآئی خیبرپختونخوا سینیٹر مولانا عطاء الرحمان صاحب کے زیر صدارت صوبائی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس مفتی محمود مرکز میں جاری،
#JUIDigitalMediaKP
محسن نقوی جیسے رپورٹر ، شہباز شریف جیسے غبی ، عمران خان جیسے کرکٹر لوفر وغیرہ اگر اسٹبلشمنٹ میں اتنی جگہ بنا لیتے ہیں کہ وزارت اعظمی تک پہنچ جاتے ہیں یا اس کے قریب قریب ، تو مولانا فضل الرحمن جیسے زیرک سیاستدان کیلئے کیا مشکل ہے جو اعلیٰ صدارتی عہدہ نہ لے لیں —- بس مسئلہ اتنا سا ہے کہ کچھ لوگ اپنا ایک معیار رکھتے ہیں اپنی ایک حد مقرر کرتے ہیں اپنی اقدار و روایات رکھتے ہیں —- وہ کسی بھی مفاد کے لئے اپنی روایات اقدار اور معیار سے خود کو نہیں گراتے اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں تک کم ظرف پہنچ جاتے ہیں لیکن اعلیٰ نسل اور صفات کے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں — !
مولانا فضل الرحمن نام ہے “معیار” کا اور اسی وجہ سے ہمیں ان سے محبت ہے !
(مرشد)✍🏻 @Murshid_222
جے یو آئی کا پشاور میں تاریخی جلسہ اپنی مثال آپ رہا۔ عوام کی بھرپور شرکت نے ثابت کر دیا کہ بڑے عوامی اجتماعات صرف دعووں سے نہیں بلکہ منظم محنت اور عوامی حمایت سے ہوتے ہیں۔
پشاور میں ایسا جلسہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ✌️
#JUI#Peshawar#Jalsa