2/3
قول وفعل کایہ تضاد الطاف حسین کی پیش کردہ فلاسفی ”حقیقت پسندی اورعملیت پسندی“ (Realism and Practicalism)کے پیمانے پرپورا نہیں اترتا۔
جب سے انسانی تاریخ لکھی گئی اوروہ آج تک محفوظ ہے تو لوگ اسے پڑھ کرآج سے ایک ہزار سال قبل کے واقعات کو جان بھی سکتے ہیں اورسمجھ بھی سکتے ہیں۔ انسانی جبلت اورانسانی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ انسان اپنی شرم گاہ چھپاتا ہے، جب کپڑا ایجاد نہیں ہوا تھا اس وقت بھی انسان درختوں کے پتوں اور جانوروں کی کھالوں سے اپنی شرم گاہ چھپاتا تھا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ جہاں انسانی فطرت ہوگی وہ انسانی تاریخ سے جڑی ہوگی یعنی انسانی فطرت اورتاریخ کا ہمیشہ سے گہرا تعلق رہا ہے۔
ہرتعلیمی ادارے میں کوئی ایک بدمعاش گروپ ہوتا ہے اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تھنڈراسکواڈ کے نام سے اسلامی جمعیت طلباء کا بدمعاش گروپ ہوتا تھا جوآج تک موجود ہے۔ تعلیمی اداروں میں جمعیت کے لوگ ایک طرف توقرآن واحادیث کادرس دیاکرتے تھے لیکن تعلیمی اداروں کے اساتذہ اورطلباوطالبات اچھی طرح واقف ہیں کہ جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے لوگ اسلامی تعلیمات کے برعکس طلباوطالبات سے کیسا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں، کیا کسی یونیورسٹی کے چانسلر اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی اوربدمعاشی رکوانے میں کامیاب ہوئے؟ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ساتھ جمعیت کے غنڈوں نے بدتمیزی اوربیہودگی کی انتہاء کردی تھی لیکن یونیورسٹی کے اساتذہ اور ہزاروں طلباء نے پرویز ہود بھائی کاتحفظ نہیں کیا، وہ سب کے سب اس لئے خاموش ہوگئے کہ اگر وہ پرویز ہود بھائی کو بچانے کی کوشش کریں گے تو تھنڈراسکواڈ کے غنڈے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنائیں گے لہٰذا کسی نے ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کو بچانے کا رسک نہیں لیا۔
تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز اور اساتذہ کے اختیارات محدود ہوتے ہیں لیکن وزارت تعلیم کا محکمہ موجود ہے جوریاست کاحصہ ہے، اس کاوفاقی وزیرہوتا ہے جس کے پاس ریاست کی طاقت ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کے خلاف بیہودگی اورغنڈہ گردی کا واقعہ رپورٹ ہوگیااورمیڈیا میں اس واقعہ کی خبرنشروشائع ہوگئی تووفاقی وزیرتعلیم کااصولی طورپر فرض تھا کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے اور تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی کرنے والوں کو سزا دلواتے لیکن ہوا یہ کہ ریاست حکم جاری کیا کہ جمعیت کے غنڈہ عناصر کو گرفتارکیاجائے لیکن ریاستی ادارے جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے غنڈہ عناصر کو پکڑنے کے بجائے ان کے ظلم کا نشانہ بننے والے طلباء کو
پکڑنا شروع کردیا۔ریاست ایک یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر ڈاکٹرپرویز ہود بھائی جیسی معزز ومحترم شخصیت کو تحفظ نہ سکے تو عام طلباوطالبات کو کیاتحفظ حاصل ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیمی ادارے میں اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ریاست بلاواسطہ یا بلواسطہ اس بدمعاش گروپ کی حمایت کررہی ہے۔
غلامی کاتصور:
انسانی فطرت کا تاریخ سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، ایک زمانہ تھاکہ انسانی فطرت غلام بن کرکام کرنے کو تیار رہا کرتی تھی اورآج کی تاریخ میں انسان غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں، پہلے امریکہ، برطانیہ اورپورے مغرب میں غلام ہواکرتے تھے آج پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں غلامی کاتصورنہیں ہے۔اسی طرح دنیا کے تمام مذاہب میں غلامی کاتصور نہیں ہے سوائے مذہب اسلام کے، کیا دین اسلام نے غلام بنانے کے عمل کوحرام قراردیا ہے؟
جیسا کہ میں کہاکہ انسانی فطرت اور تاریخ کا ایک بہت گہرا تعلق رہا ہے، اگرامریکہ،برطانیہ اورمغربی ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ پہلے وہاں غلاموں سے 16،16 گھنٹے محنت ومشقت کاکام لیاجاتا تھا۔ آج امریکہ میں بظاہر غلامی کادور ختم ہوچکا ہے۔ غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے پر مارٹرلوتھر کنگ کوقتل کردیا گیا لیکن انہوں نے غلامی سے آزادی کا جوچراغ روشن کیاتھا وہ بالآخرکامیاب ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی فطرت غلامی کے عمل کو پسند نہیں کرتی، انسان کی فطرت ہے کہ وہ غلامی برداشت نہیں کرتا، اپنے ساتھ امتیازی سلوک قبول نہیں کرتا اورغلامی، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔
انسانی فطرت میرٹ کے قتل کو بھی پسند نہیں کرتی،صوبہ پنجاب کے طلباوطالبات غورکریں کہ اگر وہ انٹرمیں 70 فیصد نمبرحاصل کرنے کے بعد میڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلے کیلئے میرٹ پرپورے اترتے ہوں لیکن میرٹ کا قتل کرکے کسی تھرڈ کلاس نمبرلینے والے پنجابی لڑکے یالڑکی کو داخلہ دے دیا جائے تو ان کے دل پر کیاگزرے گی؟
مکمل فکری نشست
https://t.co/JknOK0k9n2
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیپلزپارٹی کے وزرا اور ارکان اسمبلی کی اشتعال انگیز تقاریر انکی روایتی نفرت و تعصب اور نسل پرستانہ پالیسی کی عکاس ہیں۔
تقاریرمیں قائد تحریک الطاف حسین پر بلاجواز تنقید کرنےوالےبتائیں کہ محترمہ بینظیربھٹو سےلیکر آصف زرداری تک نائن زیرو کیالینے آتے تھے؟
2/2
The military exists to protect the nation and should be respected, but it must stick to its duties and not get involved in politics or civilian issues.
Sadly, the military in #Pakistan is often claimed to be meddling in political matters and affecting government operations and legal decisions.
Both retired and active military personnel are said to be placed in civilian roles they are not trained for.
This approach, as noted, implies that civilians cannot manage, which is seen as damaging.
Thus, I urge the citizens of Pakistan to liberate the country from what I see as the unnecessary sway of the military and to guide Pakistan towards democracy, well-being, and progress.
For 79 years, the people of Pakistan are believed to have been taught a false version of history. It is said that religion was used to dissuade individuals from fighting for their rights and to keep them loyal to the existing order. However, today’s young Generation Z is informed, forward-thinking, and values learning and investigation. They know how to advocate for their rights, and, if fate permits, they will challenge the current system and help the country attain real freedom.
Altaf Hussain.
London. UK.
421st Exigent public address via TikTok on June 24, 2026.
(Watch complete study circle 👇)
https://t.co/CwiBNNYDjj
پاکستان میں انصاف، قانون کی حکمرانی نام کی کوئی چیزنہیں بلکہ ڈنڈے کاقانون چل رہاہے، جوبھی ظلم اور ناانصافیوں کوچیلنج کرتاہے وہی سب سے بڑامجرم ہے۔
#RightsMovementAJK
برسوں پہلے جب الطاف حسین نے عوام کویہ بتایاکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، فوج اوراس کی ایجنسیوں کے کرپٹ جرنیل ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ،وڈیرانہ نظام کوتحفظ فراہم کئے ہوئے ہیں توپنجاب،سندھ، پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، ملک بھر کے عوام نے الطاف حسین کوگالیاں دیں، اسے ملک دشمن، دہشت گرد اورنجانےکیاکیا کہا۔34سال پہلے جب 19جون 1992ء کو فوج نے ایم کیوایم اورمہاجروں کوختم کرنے کےلئے فوجی آپریشن شروع کیا، ہمارے بے گناہ کارکنوں کاماورائے عدالت قتل کیا، جبری گمشدگیاں کیں تو اس ظلم کے خلاف آوازاٹھانے کے بجائے ملک بھر کے عوام نے ایم کیوایم کودہشت گرد، بھتہ خور کہا اور اس پر وہی الزامات لگائے جوفوج کی جانب سے لگائے جاتے رہے ہیں، وہ اینکرز بھی جوہمیشہ سے فوج کی خوشنودی کے لئے کام کرتے آئے ہیں اور عمران خان کی حکومت کی خاتمے کے بعد بیرون ملک آگئے ہیں، جو عمران خان کے ہمدرد بنتے ہیں، وہ بلوچوں، پشتون تحفظ موومنٹ اورکشمیرمیں ہونے والے مظالم کاذکر توکرتے ہیں لیکن ایم کیوایم اورمہاجروں پر ہونے والے مظالم کاکبھی ذکرنہیں کرتے، اگرکرتے ہیں تو فوج کے گھسے پٹے الزامات کوہی دہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ان میں سے کچھ دہشت گرد بھی ہوں گے۔ یہ لوگ جس طرح آج بھی ایم کیوایم کومطعون کرتے ہیں، اس طرح وہ کبھی پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی کو مطعون نہیں کرتے۔کیاان جماعتوں کی سیاست بالکل بے داغ ہے؟ یہ آج بھی الطا ف حسین کےخلاف وہی گھسا پٹا ریکارڈبجاتے ہوئے کہتے ہیں کہ الطاف حسین نے کہا،”ٹی وی، فرج بیچو،اسلحہ خریدو“۔ الطاف حسین نے کبھی اس سے انکارنہیں کیا، لیکن یہ الطاف حسین کی اس بات کو تو ناجائز کہتے ہیں لیکن عمران خان نے حقوق چھیننے کی بات کی، فوج کے جرنیلوں کے خلاف جوکچھ کہااس کو جائز قرار دیتے ہیں۔ میاں نوازشریف اورآصف زرداری نے فوج کے جرنیلوں کے نام لے لیکر ان کے خلاف جوکہااس کاذکر نہیں کرتے۔پی ٹی آئی ہو یامسلم لیگ ن، انہوں نے فوج کے خلاف دھرنے دیے، احتجاجی مظاہرے کئے، فوج کے خلاف نعرے لگائے،وہ جائز ہے لیکن ایم کیوایم احتجاجی مظاہرے کرے تو اسے دہشت گردی قراردیتے ہیں۔ یہ مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا کبھی ذکرنہیں کرتے جن کی وجہ سے ایم کیوایم نے جنم لیا۔
ہماری فوج سے کوئی لڑائی نہیں لیکن فوج کی جانب سے آپریشن کے نام پر ظلم کیاجائے گاتواس پر احتجاج کرناہماراحق ہے۔ فوج برسوں سے بلوچوں پر ظلم کررہی ہے، پشتونوں پر ظلم کررہی ہے، کشمیریوں نے اپناحق مانگا تواب ان پر بھی گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ اب کشمیرعوامی ایکشن کمیٹی کوبھی ملک دشمن، غداراورانڈین ایجنٹ قراردیاجارہاہے۔
مہاجروں نے اپناحق مانگا، ایم کیوایم بنائی تواس پر ظلم کیاجارہاہے، بلوچوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی بنائی تواس کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ اوربزرگ صبغت اللہ بلوچ کوعمر قید کی سزا دیدی گئی، پشتونوں نے پشتون تحفظ موومنٹ بنائی تواس پرپابندی لگادی گئی، کشمیریوں نے عوامی ایکشن کمیٹی بنائی تواس کوکالعدم قراردیدیاگیا، یہ پاکستان ہے یاظلمستان ہے؟ اس ظلم کوظلم کہوتو ہمیں ملک دشمن قراردیدیاجاتاہے۔ وہ کشمیری عوام جوکل تک ”کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے لگاتے تھے آج ان پر فوج کی جانب سے ظلم کیاجارہاہے، انہوں نے کشمیریوں کوبھی دیوار سے لگادیاہے۔
اپنے حقوق کےلئے کشمیریوں نے جو جدوجہد شروع کی ہے اسے دبانے اور ناکام بنانے کے لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں کوبھی فوج اورحکومت کی جانب سے دباؤ ڈال کران سے لاتعلقی کے جبری بیانات جاری کروائے جارہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران اس کے رہنماؤں اورکارکنوں کوسرکاری حراست میں تشدد کے بعد جبری بیانات لیکر پی ٹی وی پر نشر کئے جاتے تھے، انکی پریس کانفرنسیں کروائی جاتی تھیں۔ اس ظلم وستم کے نتیجے میں آج کشمیریوں کے بھی وہی جذبات ہیں جو بلوچوں، پختونوں، مہاجروں کے ہیں۔ آج کشمیری عوام اپنے احتجاجی مظاہروں، تقریروں، اپنے وڈیولاگزاورسوشل میڈیاپوسٹس میں جن جذبات کااظہارکررہے ہیں وہ ان کافطری ردعمل ہے۔
میں کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات کی قدر کرتاہوں، میں کشمیری عوام پرہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتاہوں، میں کل بھی کشمیری عوام کے ساتھ تھا اورآج بھی ساتھ ہوں۔الطاف حسین کی آواز ہمیشہ کشمیری عوام کے لئے بلند ہوتی رہی ہے اورآج بھی ان کے شانہ بشانہ رہے گی۔مظلوم کشمیریوں کے لئے الطاف حسین کادر کل بھی کھلاتھااورآج بھی کھلا ہوا ہے۔
1/2
مسٹرسعید غنی!
خدا کاشکر ہےکہ لاہور میں بھٹو زندہ نہیں ہے
ورنہ
شہری اور دیہی سندھ کی طرح
لاہورکےشہری بھی
جھولیاں پھیلا پھیلا کر
پیپلزپارٹی کوبد دعائیں دیتے اور
آپ کی وڈیرانہ سوچ کی شان میں ایسے ایسے
”ناقابل بیان “الفاظ استعمال کرتےکہ پیپلےغیرت سےمر جاتے
بشرطیکہ غیرت ہوتی
واقعہ کربلا ایثاروقربانی، صبرو رضا اور باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#لبيك_ياحٌسين_لبیک
امام عالی مقام حضرت امام حسین اورکربلا کے دیگر شہیدوں کی عظیم اور لازوال قربانیاں تاقیامت یاد رکھی جائیں گی
واقعہ کربلا ایثاروقربانی، صبرو رضا اور باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے، امام عالی مقام حضرت امام حسین نے میدان کربلا میں اپنا اور اپنے خاندان کاسر کٹانا گوارا لیکن یزید ملعون کی بیعت گوارا نہیں کی
نواسہِ رسولؐ حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقاء نے میدانِ کربلا میں بے مثال قربانی دے کر حق و باطل کے درمیان واضح تفریق کردی اور رہتی دنیا کیلئے مثال قائم کردی کہ طاقت رکھنے کے باوجود ذلت ورسوائی یزیدی باطل قوتوں کا مقدر رہے گی اور ہردور میں حسینیت کا پرچم بلند رہے گا، حسینیت کے پیروکار تاقیامت حضرت امام حسین اور دیگر معصومین کربلا کوخراج عقیدت اور سلام عقیدت پیش کرتے رہیں گے
یوم عاشور کاتقاضا ہے کہ حضرت امام حسین اور ان کے رفقاء کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کااحترام کیا جائے اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق بلند کیا جائے
میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ اور عوام سے اپیل کرتا
ہوں کہ وہ محرم الحرام کے دوران ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں ،آپس میں اتحاد اور احترام انسانیت کو فروغ دیں ،مساجد ،امام بارگاہوں ،ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور جان ومال کی حفاظت کریں۔
الطاف حسین
26جون،2026ء
یوم عاشور کا پیغام رہتی دنیا تک کے حق پرست لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوم عاشورکربلا کے میدان میں ظالم وسفاک حکمراں یزید ملعون بیعت کرنے کے بجائے حق وصداقت کاعلم بلندکرکے جام شہادت نوش کرنے والوں کا دن ہے۔
بعض نام نہاد علماء کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ واقعہ کربلا حق وباطل کے درمیان معرکہ نہیں بلکہ حضرت امام حسین ؑ اوریزید ملعون کے درمیان اقتدارکی جنگ تھی۔ ایسی سوچ وفکر رکھنے والوں پر صرف افسوس ہی کیاجاسکتا ہے۔ مہذب معاشرے میں دلیل کے ساتھ اختلاف رائے رکھی جاتی ہے لیکن ایک فقہ کے لوگ دوسرے فقہ کے لوگوں سے نفرت میں اتنی اخلاقی پستی میں گرجاتے ہیں کہ وہ محرم الحرام کے تقدس کو فراموش کردیتے ہیں۔
واقعہ کربلا کی تاریخ یہ ہے کہ ایک طرف نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کی اولاد تھی اوردوسری طرف طاقت کے نشے میں چوریزید ملعون اور اس کی فوج تھی، یزیدملعون کا رسول خداؐ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن پھربھی بعض علماء اہل تشیع سے عداوت میں اتنے آگے بڑ ھ کر ظالم یزید کے ظالمانہ عمل کی پردہ پوشی کا گھناؤنا عمل کرتے ہیں۔
آج سے تقریباً ساڑھے14 سوسال قبل جب اہل بیت ؑ، اولاد رسولؐ جن میں پاک بیبیاں اورشیرخوارمعصوم بچے بھی شامل تھے، امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کی قیادت میں کربلائے معلی پہنچے تو ان کے سامنے یزید ملعون کے ہزاروں فوجیوں کا لشکرتھاجویزید ملعون کے ہاتھوں بیعت کرانا چاہتا تھالیکن حضرت امام حسین ؑ اوران کے رفقاء نے ظالم اورسفاک یزید کی بیعت سے صاف انکارکردیا۔
واقعہ کربلا آسمانوں پر لکھاجاچکا ہے،واقعہ کربلا میں اولاد رسولؐ کی لازوال قربانی نے تاقیامت لوگوں کو یہ پیغام دیاہے کہ حق وسچ کیلئے ڈٹ کرکھڑے ہوجاؤ، ظالم حکمرانوں کے آگے کلمہ حق بلند کرو اور حق وصداقت کی راہ میں گردن کٹانی پڑجائے تو اپنی گردن کٹادو لیکن باطل قوت کے آگے اپنا سرہرگز نہ جھکاؤ۔ اسی لئے واقعہ کربلا کو حق وباطل کے درمیان معرکہ کہاجاتا ہے۔
آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ دو ارب ہے لیکن کتنے مسلمان واقعہ کربلا کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے ہیں؟ آج بھی بعض لوگ عوامی اجتماعات میں جہالت کامظاہرہ کرتے ہوئے یزید ملعون کو (نعوذباللہ) اچھے الفاظ سے یادکرتے ہیں۔درحقیقت واقعہ کربلا ظالم اورمظلوم میں تفریق کرتا ہے اور درس دیتاہے کہ کسی ظالم وجابر حکمراں کی اطاعت کرنے کے بجائے اس کے سامنے ڈٹ جاؤ کہ ہم باطل حکمرانوں کی بیعت نہیں کریں گے۔
قیام پاکستان کو 79 سال گزرچکے ہیں لیکن کیاپاکستان کے عوام نے واقعہ کربلا سے کوئی سبق سیکھا؟
آج پاکستان میں حق اورسچ بولنے والوں کویزیدی مظالم کاسامنا ہے۔سچ اور حق بولنے کی پاداش میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اوران کی بہنوں پر جھوٹے، من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے،عمران خان اور ان کے ساتھی گزشتہ تین برسوں سے جیلوں میں قید ہیں،پاکستان کے عوام کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے پھر آج تک پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان کی رہائی کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کیوں نہیں بناسکی؟
یوم عاشور کا پیغام رہتی دنیا تک کے حق پرست لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے، یوم عاشور کا تقاضا ہے کہ اہلِ بیت اطہار کی زندگی اور قربانیوں کا جائزہ لیاجائے اور پاکستان کے عوام اپنا احتساب کریں کہ کیا ہم اہلِ بیت اور کربلا کے شہیدوں کی قربانیوں کوسامنے رکھ کرظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا حق ادا کررہے ہیں یا نہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 422 ویں فکری نشست سے خطاب
26، جون 2026ء
2/2
#یوم_سیاہ_19_جون
ہماری معصوم بہنوں کوبھی گرفتارکرکے کئی کئی مہینوں تک لاپتہ رکھا گیا، انہیں فوج کے سیف ہاؤسز میں قید رکھ کر انہیں درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ نائن زیرو کی پڑوسی ایک 20سالہ مہاجربیٹی رئیس فاطمہ کو گرفتار کرکے اسلام آباد میں کئی ماہ تک ایک سیف ہاؤسز میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایم کیوایم کے کارکن فاروق پٹنی کوجب ساتھیوں سمیت گھرسے گرفتارکیا گیا تو ساتھ میں اس کی حاملہ بیوی شاذیہ فاروق کو بھی گرفتارکرلیاگیا، فاروق پٹنی اوراس کے ساتھیوں کولیجاکرسفاکی سےگولیاں مار کرشہید کردیاگیا جب کہ اس کی اہلیہ شاذیہ فاروق کوکئی ماہ تک فوج کے سیف ہاؤس اور اڈیالہ جیل میں رکھ کر تشدد کیا گیا، اس کے ہاں بیٹی کی ولادت تک قید میں ہوئی۔کیا ایسا ظلم پنجاب یاخیبرپختونخوا میں کسی پارٹی پرڈھایا گیا؟
فوجی آپریشن کے دوران یہ بھی ہوا کہ فوج اورپیراملٹری رینجرز نے کراچی کے پورے پورے علاقوں کےمحاصرے کرکے گھروں سےنوجوانوں اوربزرگوں کو گرفتار کرکے،ان کی قمیضیں اتارکر، آنکھوں پر باندھ کر24، 24 گھنٹوں تک میدانوں میں بٹھایااور اس دوران گھروں میں لوٹ مار کی گئی اور ماؤں بہنوں سے بہیمانہ سلوک کیا گیا۔کیافوج نے پنجاب کے کسی ایک علاقےمیں بھی کسی کمیونٹی کے خلاف ایساظلم کیا؟
آپریشن کے دوران ہم پر تویہ ظلم تک ڈھایا گیا کہ ہمارے کئی شہید کارکنوں کے جنازوں میں نوجوانوں اور بزرگوں کو شرکت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ہماری ماؤں بہنوں نے اپنے شہیدوں کے جنازے خود اٹھائے،خود ان کی نمازجنازہ پڑھائی اورانہیں لیجاکردفنایا۔کیا پنجاب یاملک کے کسی اورعلاقے میں کہیں ایسا کوئی ظلم کیاگیا؟
میرے 72سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور28سالہ بھتیجے عارف حسین، جن کاایم کیوایم یاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہیں بھی آپریشن کے دوران5دسمبر 1995ء کو گھرسے گرفتار کرکے تین روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سفاکی سے قتل کردیا گیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کو گرفتارکرکے کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں قیدرکھ کرتشدد کیا گیا، پی ٹی آئی کے کتنے رہنماؤں کے بھائی بھتیجے یا بہنوئی کوگرفتارکرکے شہید کیا گیا؟ پاکستان کے کسی ایک لیڈرکانام بتائیں جس کے گھرکوفوج نے پہلے سیل کیاہو، پھراس کوآگ لگادی گئی ہواور پھر بلڈوز کردیاگیا ہو؟
ہماری رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور جامعہ کراچی کے بزرگ استاد اور فلسفہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو پیراملٹری رینجرز نے ایم کیوایم سے وابستگی کی بنیاد پر انہیں پہلے MQM چھوڑنے کے لئے دھمکیاں دیں اور پھر 13جنوری 2018ء کوانہیں گرفتارکرنے کے بعد سفاکانہ تشدد کانشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔
آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے دفاتر اور گھروں کی ٹنکیوں سے بے تحاشہ اسلحہ برآمدکرنے کے ڈرامے رچائے گئے، فوج اور پیراملٹری رینجرز کے افسران نے گرفتار شدگان کی رہائی کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کئے۔ افسوس کہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کے نام پر اس قدر بھیانک مظالم ڈھائے گئے لیکن آج تک اس کےبارےمیں ایسی کوئی کتاب مرتب نہ کی جاسکی جسے پڑھ کرلوگ ان مظالم کی تفصیلات جان سکتے۔
ہمارے خلاف یہ ظالمانہ آپریشن 34سال گزرجانے کے باوجود اب بھی اسی طرح جاری ہے،11جون کواے ایم ایس او کے 48 ویں یوم تاسیس پرکیک کاٹنے کے لئے کراچی میں ایک کمرے میں جمع ہونے والے ایم کیوایم کی لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئررکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ، سینئر صحافی تحسین عباسی، ان کے 15سالہ بیٹے سمیت 11بزرگوں کو گرفتارکرکے ان پر دہشت گردی کامقدمہ بنادیا گیا ہے۔کیا ایک کمرے کے اندریوم تاسیس منانا جرم ہے؟ ہمارے بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا جارہاہے۔ ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپنہور اوران کے بیٹے محسن پنہور، سینئر فوٹوجرنلسٹ فیصل مجیب اور کراچی کے دیگرساتھیوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ ماہ حیدر آباد میں عدالت کے باہر سے گرفتارکئے گئے کارکنان اب تک لاپتہ ہیں۔
یہ بڑاظلم وستم ہے کہ جن کے بزرگوں نے قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کانذرانہ پیش کیا، اپنا سب کچھ پاکستان کی خاطرقربان کیا، ان کی اولادوں پر اپنا حق مانگنے کے لئے جدوجہد کرنے پراس طرح کے بھیانک مظالم ڈھائے گئے۔اگرکسی کو آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے سینکڑوں ہزاروں کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر شک ہے تووہ کراچی کے یاسین آباد قبرستان جاکرخود دیکھ سکتا ہے۔ میری تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کوبھی یہ دعوت ہے کہ وہ کراچی میں کیمپ لگاکر ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے ملکر خود ان سے تفصیلات معلوم کرسکتے ہیں۔
الطاف حسین
1992ء کے فوجی آپریشن کے 34سال ہونے پر ٹک ٹاک پر 419 ویں فکری نشست سے خطاب
21جون 2026ء
https://t.co/4XpdAPFqof
اگر 1992ء میں پورے ملک سے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک میں حقوق مانگنے والی قوموں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔ الطاف حسین
#یوم_سیاہ_19_جون
یہ ایک المیہ ہےکہ جب 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف بدترین فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور MQM کے کارکنوں، ہمدردوں اورپوری مہاجرقوم پر جس طرح سےمظالم ڈھائےگئے، اگر اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک سے MQM کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت کی جاتی، اس آپریشن کی بھرپور حمایت کرنےکے بجائے اس کےخلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک بھر میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔
پاکستان کی تاریخ میں 19جون نہ صرف ایک انتہائی اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ انتہائی حساس ترین بھی ہے۔ 19جون 1992ء کو کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران کی گئی زیادتیوں کی داستانیں سنیں تو سننے والوں کویقین نہیں آئے گا۔
19جون 1992ء سےقبل کراچی اورسندھ کے دیگرشہری علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اس قدر مثالی تھی کہ کراچی اورسندھ میں کسی بھی علاقے میں ایک گھنٹے کے لئے بھی کسی قسم کاکرفیو نافذکرنےکی ضرورت پیش نہیں آئی تھی، علاقوں میں امن وسکون تھا،لوگ رات دیرگئے تک شادی بیاہ کی تقریبات میں آتے جاتے تھے، بازاروں میں رات دیرتک رونق ہوتی تھی،کاروباری سرگرمیاں عروج پر تھیں، لیکن فوج نے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کافیصلہ کرلیا تھا لہٰذا سندھ میں فوج کشی کے لئے اندرون سندھ اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے ڈاکوؤں اوران کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں جاگیرداروں کے خلاف فوجی آپریشن کرنےکااعلان کی گیا۔اس کےلئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست بھی تیارکی گئی جو چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔اس فہرست میں بینظیر بھٹو کے کامدار، آصف زرداری، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم اورکئی بڑے بڑے جاگیرداروں وڈیروں کے نام شامل تھے۔یہ عمل قوم کودھوکہ دینے کے لئے کیا گیا، کیونکہ فوجی آپریشن ڈاکوؤں اورانکی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کےخلاف نہیں کیا گیا بلکہ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف شروع کیا گیا،اس کے لئے آفاق احمد، عامرخان اور MQM کے وہ لوگ جنہیں تنظیمی نظم وضبط کی خلاف ورزی اور غیرقانونی حرکتیں کرنےپر تنظیم سے خارج کیا گیا تھا،انہیں فوج نے استعمال کیا،ان لوگوں کوفوج پہلے پنجاب لےگئی جہاں انہیں ٹریننگ دی گئی، کراچی لاکر فوجی چھاؤنی میں ٹھہرایا گیا اورپھر انہیں اسلحہ دیکر19جون 1992ء کو فوجی گاڑیوں میں سوار کراکے MQM کے دفاتراوررہنماؤں اورکارکنوں کے گھروں پر حملے کرائے گئے، دفتروں پر قبضے کرائے گئے،ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں کو اغوا کرکے شہید کیا گیا اورانہیں حملوں، دہشت گردی، لوٹ مار، اغوا، تشدد ہر طرح کی کارروائیوں کا لائسنس دیاگیا۔اس حوالے سے عامر خان نے ایکسپریس نیوز چینل پر شاہ زیب خانزادہ کودیے گئے انٹرویو میں واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیاکہ فوج اوراس کی ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں استعمال کیااوروہ اس آپریشن کاحصہ تھے اورانہیں ایم کیوایم کونقصان پہنچا کر خود اس خلاء کوپرکرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ انہی لوگوں نے MQM کے رہنماؤں، سیکٹرانچارجز اور دیگر ذمہ داروں اورکارکنوں کے نام پتے فوج کوفراہم کئے تاکہ انہیں گرفتار کیا جاسکے۔
ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں سیاسی ومذہبی جماعتوں اورعوام نے MQM کے خلاف اس ظالمانہ فوجی آپریشن کی بھرپورحمایت کی، اسے درست اورجائزقراردیا۔ فوج ایم کیو ایم کے کارکنوں کوسفاکی اور بیدردی سے قتل کرکے انہیں سرکاری ٹی وی پر دہشت گرد اورملک دشمن بناکرپیش کررہی تھی اورملک بھر کے عوام فوج کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن اور اخبارات میں پیش کی جانے والی جعلی جھوٹی کہانیوں پر یقین کرتے رہے اورMQM کوملک دشمن دہشت گرد جماعت کہتے رہے۔اگر اس وقت ایم کیوایم اور مہاجروں کے خلاف کئے جانے والےاس فوجی آپریشن کی بھرپور حمایت کرنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی تو آج پی ٹی آئی، بلوج یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اورکشمیرعوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن نہ ہورہا ہوتا، آج بلوچستان، خیبرپختونخوا، قبائلی علاقوں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور پورے ملک میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی اورمظالم نہ ڈھائے جارہے ہوتے۔
1/2
میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ، بزرگ رہنما صبغت اللہ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو دی گئی عمرقید کی سزاکی شدید مذمت کرتا ہوں
#ReleaseBYCLeaders
میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹرس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کودی گئی سزا کا فوری نوٹس لیں اور اس سزا کےخاتمے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے پہلے انسانی حقوق کے بلوچ رہنما ماما قدیرملک بھر میں پیدل لانگ مارچ کرتے رہے، وہ لانگ مارچ کرتے ہوئے کئی بار اسلام آباد بھی گئے لیکن ان کی فریادیں نہ سنی گئیں۔ پھر بلوچ یکجہتی کمیٹی قائم ہوئی اورڈاکٹرماہ رنگ بلوچ سامنے آئیں۔ انہوں نے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے پرامن مظاہرے،جلسے جلوس کئے،ماہ رنگ بلوچ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے ماؤں، بہنوں اور بچوں کولیکرکئی بار اسلام آباد آئیں لیکن حکمرانوں نے ان کی بات سننے کے بجائے پولیس کے ذریعے ان پر حملے کئے، گرفتاریاں کیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بناکر اسلام آباد سے نکال دیا اور اس ظلم کے ذریعے مظلوم بلوچوں کویہ پیغام دیاکہ آپ کو اسلام آباد آکرمظاہرہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔
لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں ماہ رنگ بلوچ اوران کی ساتھی بلوچ خواتین اوربزرگوں کوکئی بار ایم پی او کے تحت جیل میں نظربند کیا گیا، پھر انہیں جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا گیا اور اب انہیں خصوصی عدالت سے عمرقید کی سزا دیدی گئی ہے۔
میں سوال کرتا ہوں کہ آخر قوم کی اس بیٹی ماہ رنگ بلوچ کا کیا گناہ تھا، اس نے کونسا جرم کیا تھا کہ اسے عمرقید کی سزا دیدی گئی ہے؟ کیا ماہ رنگ بلوچ نے ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی تھی؟ کیا ماہ رنگ بلوچ نے فوج سے دوبدو لڑائی کی تھی؟ وہ تو پرامن جدوجہد کررہی تھیں پھر انہیں کس جرم میں سزا دی گئی ہے؟ میں اس سزاکی شدید مذمت کرتا ہوں اورانتباہ کرتا ہوں کہ اس سزا کے انتہائی منفی اثرات پڑیں گے، بلوچوں کی مزاحمت شدید اور جدوجہد مزید تیز ہوجائے گی۔بلوچوں پرکئی دہائیوں سے مظالم ہورہے ہیں، پشتونوں پر مظالم ہورہے ہیں، مہاجروں پر مظالم ہورہے ہیں، کشمیریوں اوردیگرقوموں پر مظالم ہورہے ہیں، ایسے مظالم سے ملک قائم نہیں رہتے۔
میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹرس سے پرزور اپیل کرتاہوں کہ وہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کودی گئی اس ظالمانہ سزا کا فوری نوٹس لیں اوراس سزا کے خاتمے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور ظلم بندکرائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 420 ویں فکری نشست سے خطاب
23، جون 2026ء
@MahrangBaloch_@BalochYakjehtiC
**"قوم کے اجتماعی مفادات کے لیے ذاتی مفادات اور خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہے۔“ — الطاف حسین**
**FIKRI NISHIST**
A thought-provoking discussion on ideology, sacrifice, collective responsibility, and the future of our nation.
📖 **Scan & Read the Full Nishist**
ایم کیو ایم پر 19 جون 1992 کو ریاستی جبر کے ایک قیامت خیز دور کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد پچیس ہزار سے زائد معصوم مہاجر نوجوانوں کو انتہائی دردناک طریقوں سے شہید کیا گیا۔ افسوس کہ شہادتوں کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
#یوم_سیاہ_19_جون
#یوم_سیاہ_19_جون
انیس جون ۱۹۹۲ مہاجر اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا دن ہے
۱۹ جون ۱۹۹۲ء مہاجر قوم پر سیاہ ترین دن ہے
قوم کی پیٹھ میں چھُرا گھوپنیے کا دن ہے
انیس جون ۱۹۹۲ تحریک کے شہیدوں کو سلام عقیدت پیش کرنے کا دن ہے
تحریک کے ہزاروں شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں جایئگا
ایم کیو ایم پر 19 جون 1992 کو ریاستی جبر کے ایک قیامت خیز دور کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد پچیس ہزار سے زائد معصوم مہاجر نوجوانوں کو انتہائی دردناک طریقوں سے شہید کیا گیا۔ افسوس کہ شہادتوں کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
#یوم_سیاہ_19_جون ہمارا اس مرتبہ کا ہیش ٹیگ ہے، جس کے ذریعے ہم اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔