یہ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ فیصلہ رات 12 بجے ہوا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ کور کمیٹی میں تقریباً 10:45 بجے ہی فیصلہ ہو گیا تھا کہ کل سب کو آنا ہے۔ اجلاس رات 12 بجے تک ضرور جاری رہا، لیکن فیصلہ اس سے کافی پہلے ہو چکا تھا۔
اور ویسے بھی عمران خان کے کیس کی سماعت اور صورتحال کا پہلے ہی سب کو علم تھا۔ پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ “رات 12 بجے بتایا گیا”؟
کئی PTI MNAs اب اس معاملے پر غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اپنا جناب @MuzzammilAslam3 صاحب گھوڑا چھانویں بَنھ لو کوئی ایناں توہاڈی پوچھل تے پیر آ گیا اے؟ خیر اے نہ؟ کے پی کی حکومت بننے تک بھی آپکو کسی نے فٹے منہ بھی نہیں کہا نہ کوئی پرچہ نہ گرفتاری سیدھا مشیر خزا��ہ خیبر پختونخواہ لگے ہو تھوڑا جَر کو کھاؤ۔ گِل کے ساتھ جو ہوا اسکا دس فیصد آپکے ساتھ ہوا ہوتا تو آپ اگلے پچھلوں کو سیاست سے توبہ کروا چکے ہوتے
سرکاری کاغذات خزانے کے تمہارے پاس ہیں انکا استعمال کرتے ہوئے شک دور کر دو سب کا اتنا ذاتیات پر اترنے کی کیا بات ہے
سوشل میڈیا کو کوسنے دینے والے ایک نظر دیکھیں کس طرح پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت آپس میں دست و گریباں ہے یہ صرف اس لئے ہے کہ ہر کسی کا الگ کرنل ہے اور وہ انکے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں!
جناب @JunaidAkbarMNA صاحب اگر شاید پہلی بار رات کے بارہ بجے ممبران کو صبح اسلام آباد پہنچنے کا کہا گیا ہے تو کونسا کھوتی کو ہاتھ لگ گیا ہے؟ کوئی کسی ذاتی مقصد کے لئے تو نہیں بلایا گیا؟ اتنا سیخ پا ہونے کی بجائے اپنے ساتھ اراکین سے رابطہ کر کے انکو پہنچنے کی تلقین زیادہ ضروری تھی کیونکہ عمران خان کی صحت کا معاملہ ہے
سہیل آفریدی کو جس دن سیکٹر کمانڈر نے مارچ پر حکومت گرانے کی دھمکی دی اسی دن انہیں اس بریگیڈیئر کا نام اور ساری بات ظاہر کرنا چاہیئے تھی یا DGISI ' آرمی چیف اور وزارت دفاع کو خط لکھنا چاہیئے تھا
اگر وہ KP حکومت گرا سکتے یا گورنر راج لگا سکتے تو کب کا یہ اقدام کر چکے ہوتے:
شہباز گل
گستاخی معاف
مگر یہ وہ شخص ہے جس کے نام کے کھمبے پارلیمان میں اس کے نام پر بیٹھے ہیں اور جب اسی کے نام پر احتجاج کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنی نیند خراب کر کے نہیں آ سکتے احتجاج کرنا ہو تو ذرا جلدی بتایا کریں
عمران خان اس پورے نظام سے اکیلا لڑ رہا ہے اس نے کہا تھا کہ میں اکیلا ہی لڑوں گا اور آج بھی وہ اکیلا ہی لڑ رہا ہے
کبھی کبھی تاریخ اپنے سامنے ایک ایسا انسان کھڑا کر دیتی ہے جسے سمجھنے میں قومیں برسوں لگا دیتی ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لیے سیاست سے اوپر اٹھ کر سوچیں۔ وہ شخص جس نے اپنی جوانی، اپنا عروج، اپنی شہرت اور اپنی آسائشیں اس قوم کے نام کردیں۔ جس کے پاس دنیا میں عزت، دولت اور سکون کی کمی نہیں تھی، مگر اس نے پاکستان کو اپنا مقصد بنا لیا۔ ستائیس سال! ستائیس سال ایک شخص نے اس قوم کے لیے جدوجہد کی۔ گلی گلی گیا، جلسہ جلسہ گھوما، مذاق برداشت کیا، طعنے سنے، ناکامیاں دیکھیں، اپنے قریبی لوگوں کو چھوڑتے دیکھا، مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا۔
اور اس مقصد کا نام تھا ایک خوددار پاکستان، ایک باوقار پاکستان، ایک ایسا پاکستان جو کسی کے سامنے جھکے نہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں جب پاکستان کا نام لیا گیا تو اس شخص نے پاکستانیوں کو یہ احساس دلایا کہ ہم بھی ایک باوقار قوم ہیں۔ اس نے ہمیں یہ یقین دیا کہ پاکستانی پاسپورٹ صرف ایک دستاویز نہی��، بلکہ ایک آزاد اور خوددار قوم کی شناخت ہے۔
پھر وہ وقت آیا جب اقتدار ختم ہوا۔ بہت سے لوگ خاموش ہوگئے، راستے بدل گئے، مگر وہ شخص خاموش نہیں ہوا۔ اس نے کہا کہ اگر قیمت ادا کرنی پڑی تو ادا کروں گا، مگر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ پھر مقدمات آئے، گرفتاریاں ہوئیں، تنہائی آئی، جیل کی سلاخیں آئیں، مگر وہ شخص پھر بھی نہیں جھکا۔ جسم کو قید کیا جاسکتا ہے، نظریے کو نہیں۔
لیکن آج سوال عمران خان سے زیادہ ہم سے ہے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم نے اس شخص کی ستائیس سالہ جدوجہد کو صرف ایک ووٹ کی پرچی سمجھ لیا؟ کیا ہم اتنی جلدی بھول گئے کہ جن لوگوں کو ہم آج لیڈر مان کر ان کے گرد جمع ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ صرف عمران خان کے نام اور اس کی جدوجہد کی وجہ سے کامیاب ہوئے؟ جنہیں عوام نے عمران خان سمجھ کر ووٹ دیا، ہم نے انہی کو اصل قائد سمجھ لیا۔ ذرا سوچیں، اگر عمران خان نے ستائیس سال تک جدوجہد نہ کی ہوتی تو آج ان میں سے کتنے لوگ اسمبلیوں میں ��یٹھے ہوتے؟
قیادت کرسی سے نہیں ملتی، قیادت قربانی سے ملتی ہے۔ قیادت مشکل وقت میں کھڑے ہونے سے ملتی ہے۔ قیادت تب ثابت ہوتی ہے جب راستے بند ہوں، دوست کم ہوں، مخالف طاقتور ہوں، جیل سامنے ہو اور پھر بھی انسان اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردے۔ آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ جس شخص نے ہماری خاطر اپنی آ��ادی قربان کی، کیا ہم اس کی آزادی کے لیے اپنی چند ساعتیں بھی نہیں دے سکتے؟ جس نے ہمارے لیے دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ لڑا، کیا ہم اس کے لیے اپنی آواز بلند نہیں کرسکتے؟
قومیں اپنے محسنوں کو یوں نہیں بھولتیں۔ یہ وقت صرف سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے، تصویریں لگانے اور نعرے لگانے کا نہیں۔ اگر ہم واقعی سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے پاکستان کے لیے جدوجہد کی ہے، اگر ہم واقعی اس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی آواز کو پُرامن، آئینی اور قانونی جدوجہد میں بدلنا ہوگا۔ اپنے نمائندوں سے سوال کرنا ہوگا، اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھنا ہوگا اور جب اپنے حق کے لیے پُرامن طور پر نکلنے کا وقت آئے تو گھروں میں بیٹھ کر تماشائی نہیں بننا ہوگا۔
کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں لکھتی کہ ظلم کس نے کیا تھا، تاریخ یہ بھی لکھتی ہے کہ جب ظلم ہو رہا تھا تو کوفہ والے کہاں کھڑے تھے۔ آج فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم ایک قیدی کے لیے نہیں، اپنے حق اور اپنی آواز کے لیے کھڑے ہوں۔ ہم صرف ایک شخص کے لیے نہیں، اس پاکستان کے لیے کھڑے ہوں جس کا خواب خودداری، انصاف اور آزادی تھا۔
قوم! اپنے قائد کو یاد کرو۔ اس کی ستائیس سالہ جدوجہد کو یاد کرو، اس کی قربانیوں کو یاد کرو، اس کی تنہائی کو یاد کرو، اس جیل کی کوٹھڑی کو یاد کرو، اور پھر خود سے صرف ایک سوال کرو: اگر وہ ہماری خاطر اتنا کچھ قربان کرسکتا ہے تو کیا ہم اس کے لیے اپنی آواز بھی نہیں اٹھا سکتے؟ عمران خان کی آزادی کو قانون، انصاف اور جمہوری حق کے اصولوں سے جوڑ کر دیکھو۔ کیونکہ قومیں صرف اپنے ہیروز کو یاد کرکے عظیم نہیں بنتیں، قومیں اپنے اصولوں کے لیے کھڑی ہو کر عظیم بنتی ہیں۔
اور شاید آج تاریخ ہم سے یہی پوچھ رہی ہے:
جب تمہارا قائد قید تھا، تم کہاں تھے؟
جو الزامات آپ نے شہباز گل پر لگاۓ ان کے ثبوت ہیں آپ کے پاس: صحافی
ثبوت تو نہیں لیکن آپ لوگوں سے پوچھیں: شفیع جان
لیکن آپ نے الزام لگایا ہے ثبوت تو ہونا چاہیں: صحافی
آپ PTI لیڈرشپ سے پوچھ لیں: شفیع جان
آپ الزام لگا رہے ہیں موبائل چوری 2022 میں ہوۓ لیکن جون 2023 میں عمر ایوب انہیں پھر ایڈوائزر لگا رہے ہیں: صحافی
میں جواب نہیں دینا چاہتا: شفیع جان
آپ نے الزامات لگاۓ ہیں جواب تو دینا چاہیے: صحافی
میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا: شفیع جان
کسی کو مار دینا، اٹھا لینا ی�� جبری طور پر لاپتہ کر دینا پاکستان میں نیو نارمل ہو جائے گا، اگر کل کو فوج ن لیگ کے سعد رفیق کو اٹھاتی ہے اور لاپتہ کر دیتی ہے تو انتظار پنجوتہ کو بھی تو اٹھایا گیا تھا عثمان ڈار بھی اٹھایا گیا تھا فرخ حبیب بھی اٹھایا گیا تھا، اگر کل کو حمزہ شہباز کو فوج جوتے مار کر اٹھا کر کچھ دنوں کے لیے غائب کر دیتی ہے تو بہت سارے لوگوں کو اٹھایا گیا تھا عمران خان کے بھانجے کو بھی اٹھایا گیا صداقت عباسی کو بھی اٹھایا گیا اور اگر کل کو مریم صفدر کی بہن کو اٹھا کر سڑک پر گھسیٹتے ہیں تو عمران خان کی بہنوں کو بھی سڑک پر گھسیٹا گیا تھا، اگر کل کو کوئی بلاول زرداری کو چپیٹریں مارتا ہے اور ا�� کے منہ پر کالا کپڑا ڈال کر گھسیٹ کے لیکر آتا ہے تو فواد چوہدری کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا، جب حکومتی لوگوں کے ساتھ کل کو یہ سب کچھ ہو گا تو عوام کے لیے یہ سب نارمل ہو جائے گا کہ خیر ہے یہ تو ہوتا رہتا ہے پاکستان میں!
#KhanIllegallyJailed3Years
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
@MuzzammilAslam3@FaiziWithKhan Oye sui kutti k muu walay bandar, beghairat, gernali tout salay!
Laanat teri agli pichli naslo pe aur teray pe, watan farosh dallay!
جرنیلوں نے KP میں ہیسوں کے اوپر اپنا بندہ بٹھایا ہوا ہے، مزمل اسلم جرنیلی بچہ ہے، جرنیلوں نے سر پلس بجٹ بھی منظور کروایا، KP میں آپریشن بھی وزیراعلی سہیل آفریدی کی مرضی سے ہو رہے ہیں یہ جھوٹ ہے کہ سہیل آفریدی کہہ رہے ہیں کہ بدمعاشی ہو رہی ہے یہ سب ان کی مرضی سے ہو رہا ہے
شہباز گل
مزمل صاحب ساری دنیا عمران خان کی صحت کے حوالے سے پریشان ہے اس پر آواز اٹھا رہی ہے آپ نے اپنا الگ ہی کٹا کھولا ہوا ہے ، کیا آپ عوام کی توجہ صحت سے ہٹانا چاہتے ہیں؟
ٹھنڈا ہو کر کھائیں ، شہباز گل کی مزاحمت اور جدوجہد پر انگلی اٹھا کر آپ اپنا ہی گریبان چاک کروا رہے ہو، ہوش کے ناخن لیں
@MuzzammilAslam3
عمران خان کے ذاتی معالجین کو رسائی دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ وہ تو سیاسی گفتگو نہیں کرتے ۔ اور ان پر سب کو اعتماد بھی ہے۔۔ وہ ملُ کر تصدیق کریں کہ عمران خان ٹھیک ہ��ں تو سارا شور تھم جاۓ گا۔حکومتی وزیر تو کعبے کی چھٹ پر کھڑے ہو کر بھی یقین دلائیں کہ خان ��احب ٹھیک ہیں تو کون مانے گا؟