وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نے
غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قُرآں ، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
علامہ محمد اقبالؒ
نعت رسول مقبول ﷺ
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے،
کمال خلّاق ذات اس کی،
جمال ہستی حیات اس کی،
بشر نہیں عظمت بشر ہے،
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
وہ شرح احکام حق تعالٰی،
وہ خود ہی قانون خود حوالہ،
وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری،
وہ آپ مہتاب آپ ہالہ،
وہ عکس بھی اور آئینہ بھی،
وہ خط بھی نقطہ بھی دائرہ بھی،
وہ خود نظارہ ہے خود نظر ہے،
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
شعور لایا کتاب لایا،
وہ حشر تک کا نصاب لایا،
دیا بھی کامل نظام اس نے،
اور آپ ہی انقلاب لایا،
وہ علم کی اور عمل کی حد بھی،
ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی،
وہ ہر زمانے کا راہبر ہے،
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
وہ آدم و نوح سے زیادہ،
بلند ہمت بلند ارادہ،
وہ زہد عیسی سے کوسوں آگے،
جو سب کی منزل وہ اس کا جادہ،
ہر اک پیمبر نہاں ہے اس میں،
ہجوم پیغمبراں ہے اس میں،
وہ جس طرف ہے خدا ادھر ہے،
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
بس ایک مشکیزہ اک چٹائی،
ذرا سے جو ایک چارپائی،
بدن پہ کپڑے بھی واجبی سے،
نہ خوش لباسی نہ خوش قبائی،
یہی ہے کل کائنات جس کی،
گنی نہ جائیں صفات جس کی،
وہی تو سلطان بحروبر ہے،
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
جو اپنا دامن لہو سے بھر لے،
مصیبتیں اپنی جان پر لے،
جو تیخ زن سے لڑے نہتا،
جو غالب آ کر بھی صلح کر لے،
اسیر دشمن کی چاہ میں بھی،
مخالفوں کی نگاہ میں بھی،
امیں ہے صادق ہے معتبر ہے
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
جسے شہ شش جہات دیکھوں،
اسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں،
عنان کون و مکاں جو تھامے،
کدال پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں،
لگے جو مزدور شاہ ایسا،
نہ زر نہ دھن سربراہ ایسا،
فلک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
وہ خلوتوں میں بھی صف بہ صف بھی،
وہ اس طرف بھی وہ اس طرف بھی،
محاز و منبر ٹھکانے اس کے،
وہ سر بسجدہ بھی سر بکف بھی،
کہیں وہ موتی کہیں ستارہ،
وہ جامعیت کا استعارہ،
وہ صبح تہزیب کا گجر (صبح صادق) ہے
میرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر: مظفر وارثی رح
..انگریز نے 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کر لیا، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے اس وقتی، انگریز اس تعلیم کو خطرناک سمجھتا تھا چناں چہ یہ لوگ کنگز کالج لندن کے ایک نوجوان پروفیسر گوٹلیب ولیم لیٹنر کو لاہور لے آئے، لیٹنر بھی ایک عجیب وغریب کردار تھا، یہ 50 زبانیں جانتا تھا عربی، ترکی اور فارسی مقامی لوگوں کی طرح بولتا تھا، کچھ عرصہ مسلمان بھی رہا تھا.
اس نے داڑھی بڑھا کر اپنا نام عبدالرشید سیاح رکھا اور تمام اسلامی ملکوں کی سیاحت کی، وہ مسجدوں میں نماز تک پڑھ لیتا تھا، وائسرائے نے اسے ہندوستان بلایا اور اسے پنجاب کا نظام تعلیم بدلنے کی ذمہ داری سونپ دی، لیٹنر نے پنجاب کا دورہ کیا اور وائسرائے کو لکھا، مجھے پڑھے لکھے پنجاب کو جاہل بنانے کے لیے 50 سال درکار ہوں گے، وائسرائے نے اسے 50 سال دے دیے، اسے انسپکٹر جنرل آف سکولز پنجاب بنا دیا تھا، پھر لیٹنر کو گورنمنٹ کالج لاہور کا پرنسپل بنا دیا گیا.
اس نے آگے چل کر پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد بھی رکھی، یہ ان دونوں اداروں کا ابتدائی سربراہ تھا، انگریز نے پنجابیوں کو غیر مسلح اور ان پڑھ بنانے کے لیے پنجاب میں "ہتھیار" جمع کرائیں اور حکومت سے تین آنے لے لیں اور عربی، سنسکرت اور گورمکھی کی کتاب دیں اور چھ آنے وصول کر لیں، جیسی سکیم بھی متعارف کرائی اور پورے پنجاب سے کتابیں اور اسلحہ جمع کر لیا، انگریز نے اس کے بعد انگریزی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان بنا دیا اور سکولوں کو عبادت گاھوں سے الگ کر دیا.
جاگیر داروں اور زمین داروں کے بچوں کو انگلش میڈیم تعلیم دے کر متوسط طبقے کو دبانے کی ذمہ داری بھی دے دی گئی، انگریزوں کو سمجھ دار، قانون پسند اور انصاف کا پیکر بنا کر پیش کرنا بھی شروع کر دیا گیا، مقامی زبانوں اور کتابوں کو جہالت کا مرکب قرار دے دیا گیا، ولیم لیٹنر کا منصوبہ کام یاب ہو گیا اور اس نے 50 کی بجائے 30 برس میں پورے پنجاب کو غیر تعلیم یافتہ اور جاہل بنا دیا، لیٹنر نے اپنے ہاتھ سے لکھا میں نے پورے پنجاب کا دورہ کیا. آج یہاں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں ھے. اس نے سیالکوٹ کے ایک گاﺅں چوڑیاں کلاں کی مثال دی، اس کا کہنا تھا کہ میں پنجاب آیا تو اس گاﺅں میں ڈیڑھ ہزار پڑھے لکھے لوگ تھے، آج یہاں صرف 10لوگ گورمکھی اور ایک اردو پڑھ سکتا ھے اور یہ بھی چند برسوں میں مر کھپ جائیں گے. لیٹنر نے پنجاب میں رہ کر اردو سیکھ لی اور پھر اردو میں دو والیم کی تار
ایک بات رکھیں پاکستان کے مدرسوں میں ایسے کئی لیٹنر پانچ دہائیوں سے شامل کر دیے گئے تھے اور بڑی بڑی یونیورسٹیز اور مہنگے سکولز میں 4 دہائیوں سے داخل کر دیے گئے ہیں۔
”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں“
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو
کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو
اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی
ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر
کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو
کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے
کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ
اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔
منیر نیازی
ملک بھر میں ماہِ ربیع الاول 1448ھ کا چاند نظر نہیں آیا، کل بروز جمعہ 30 صفر، بروز ہفتہ 15 اگست کو یکم ربیع الاول اور 26 اگست بروز بدھ کو بارہ ربیع الاول ہوگی۔
*مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان*