’’اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ چاہیے‘‘-(آلِ عمران:160)
ہرکه خواہد معرفت قرب از اِلٰه
وقتِ خواندن با تصوّر کن نگاه
جس کی طلب قرب اللّهُ حضوری ہو اُسے چاہیے کہ وہ دعوتِ تصورِ اسم اللّهُ ذات پڑھتے وقت رازِ کن کو مدّ نظر رکھے۔
امیر الکونین، ص 416، 417
از حضرت سخی سلطان باھو رح
#RumiBahooIqbal#AmeerUlKonain#TheRulerofWorlds
واقعہ کربلا کی بنیاد کب پڑی؟
سیدنا حضرت امام حسین (رض) کو رسول اللہﷺ نے خواب میں کیا حکم فرمایا؟
سیدنا امام حسین (رض) کا یزید کے خلاف دو ٹوک مؤقف
یزید کے ظلم وفسق کی ناقابلِ تردید نشانیاں
شہادت کے بعد سرِ اقدس کی حیرت انگیز کرامات
قسط 2/2
مکمل لیکچر کیلئے وزٹ کیجئے
https://t.co/kUmkfKybf6
از خیالے دوست گیری خلق را
چوں نگیری شاهِ غرب و شرق را
تو ایک خیال سے مخلوق کو دوست بنا لیتا ہے مغرب اور مشرق کے شاہ کو کیوں نہیں بنا لیتا؟۔
مثنوی مولانا روم ص 140 دفتر ششم
از مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ
#RumiBahooIqbal#MasnaviSharif
https://t.co/iBarWv0Jyd
قرآن کریم نے انبیاء کرام (علیھم السلام) کے جو اوصاف بیان کئے ہیں ان میں ایک بڑا وصف اجنبیوں کی مہمان نوازی ہے- از روئے قرآن مسافروں کی مہمان نوازی پیغمبروں کے اخلاق کا فیض ہے- اللہ تعالیٰ جو مہمان کسی کی طرف بھیجتا ہے ان کے ذریعے گھروں کو روشنی عطا فرماتا ہے- اس لئے ہمیں گھر کو فانوس اور مہمان کو شمع بنا لینا چاہئے۔
مکمل مضمون: مسافر کےحقوق، ماہنامہ مرآۃ العارفین انترنیشنل، جنوری 2021
کربلا کا مکمل واقعہ - آغاز سے اختتام تک (پاٹ 1/2)
• واقعہ کربلا کے اسباب و محرکات
• حضرت امام حسینؑ کا مکہ سے کوفہ تک کا سفر
• کربلا کے میدان میں اہل بیتؑ کی آمد
• یزیدی افواج کے مظالم اور اہل حق کی بے مثال قربانی
مکمل لیکچر کیلئے وزٹ کیجئے
https://t.co/LFJJk3T1fs
مومن کی زندگی کا نقطۂ معراج ہے کہ وہ اپنے حبیبِ مکرّم (ﷺ) کی صفتِ رحمت کا عملی پیکر اور عملی نمونہ بن جائے تاکہ اُس کے وجود سے اللہ کی مخلوق کیلئے رحمت، امن اور محبت کے چشمے پھوٹتے ر ہیں کیونکہ آقا کریم (ﷺ) تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں.
مکمل خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس، لاہور 30 جنوری 2019ء
اہل راز، صوفیاء، نرم دل والے دردمند لوگ مسافر کو خدائی مہمان کہتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اپنے مہمان سے بڑھ کر مسافر کی خدمت کرنا زیادہ اجر کاعمل ہے- کیونکہ وہ خدا کے توکل پر سفر کر رہا ہوتا ہے اور خدائی مہمان بن کر زمین کے اوپر چل رہا ہوتا ہے- شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ:
بزرگاں مسافر به جان پرورند
که نام نکوئے به عالم برند
اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو بزرگی و عظمت عطا کرتا ہے وہ اپنے قریب سے گزرنے والے مسافر پہ اپنی جان بھی نثار کر دیتے ہیں اور اس خدمت کے باعث اللہ عزوجل ان کو اپنی اس زمین میں نیک نامی عطا فرماتا ہے-
مکمل مضمون: مسافر کے حقوق، مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، جنوری 2021
اگر زبان ذندہ دل مردہ از دنیا ہرگز معرفت نہ بردہ افسردہ
جس کی زبان علم سے زندہ مگر دل مردہ رہا وہ معرفتِ الٰہی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا، وہ دنیا سے افسردہ ہی جاتا ہے۔
امیر الکونین، ص 414، 415
از حضرت سخی سلطان باھو رح
#RumiBahooIqbal#AmeerUlKonain#TheRulerofWorlds
اُچھالی شریف (خوشاب) میں منعقدہ فکری نشست "سید الشہداء امام حسین (رض) و ذکرِ اہل بیت" سے خصوصی خطاب:
گفتگو کے اہم نکات:
-اہلِ بیت سے محبت کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے:
"بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول ﷺکے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے" (احزاب:33)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو نکلے اور ﷺ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے -اتنے میں سیدنا حسن(رض) آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین(رض) آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃ الزہراء(رض) آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی (رض) آئے تو ان کو بھی شامل کر کے سورۃ احزاب کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔(صحيح مسلم،كتاب فضائل الصحابة)
- ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"آپ ﷺ فرمائیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوائے قرابت (اہلِ بیت) کی محبت کے"(الشوریٰ:23)
قرابت داروں کے متعلق اصحابہ کرام نے دریافت کیا کہ ان میں کون شامل ہیں تو آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ ان میں حضرت علی، حضرت فاطمہ اور ان کے دو بیٹے(حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین (رض)) ہیں ۔ (العجم الکبیر طبرانی)
-حدیث : "میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے گویا اور دوسری میری" عترت" یعنی میرے اہل بیت ہیں –" (سنن الترمذی)
- سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے لونڈوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ (صحيح البخاري،كتاب الفتن)
حضرت ابوہریرہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ساٹھ ہجری نہ دکھانا ۔ یہی وہ سال تھا جب یزید تخت نشین ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے جو پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میری امُت قریش کے لونڈوں کے ہاتھوں تباہ ہوگی اس سے یزید کے دورِ حکومت کی طرف اشارہ تھا-
-سیدنا حضرت امام حسین رض نے یومِ عاشور کی صبح یزیدی لشکر کو مخاطب ہوکر فرمایا: اے لوگو!میرے حسب و نسب پہ غور کرو اور دیکھو تو صحیح میں کون ہو؟ اپنی طرف غور کرو کہ تم کس کے ساتھ کیا کررہے ہو، اپنے پر ملامت کرو-غور کرو آیا تمہارے لیے میرا قتل کرنا میری عزت کا خیال نہ کرنا جائز ہے تم پر؟
جے کجھ ملاحظہ سرور(ﷺ) دا کردے تاں خیمے تمبو کیوں سڑدے ھو ُ
پر صادق دین تنہاں دے باھو ُؒ جو سر قربانی کردے ھو ُ (ابیاتِ باھوؒ)
-اہلِ ایمان کو کربلا اور سیدنا حضرت امام حسین (رض) کی ذاتِ گرامی سے متعلق کبھی بھی تشکیک کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔قرآن کریم کی رُو سے حضور اکرمﷺ کی آل اولاد سے محبت ہم پر فرض اور قرض ہے ۔
بڑے لوگوں کی تباہی و بربادی لغزشوں سے ہے، زاہدوں کی تباہی خواہشات سے ہے، ابدال کی ہلاکت خلوتوں میں خطرات سے ہے اور صدیقین کی ہلاکت ادھر اُدھر توجہ کرنے سے ہے۔
الفتح الربانی، ص 26
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ
#AlFathUrRabbani#TheSublimeRevelation
بیت:-
" سب سے بہتر لذت قربِ خدا کی لذت ہے، لذتِ دنیا کسی کام کی نہیں کہ یہ بے بقا ہے۔"
امیرالکونین
ص 147
#SayingsOfSultanBahoo#SultanBahoo
https://t.co/4NZWIebFMn
https://t.co/vBxE8pegqm