#OnThisDay
Speech of Former Prime Minister Imran Khan at #UNGA on September 27, 2019. He made a compelling case for Kashmir and all the Muslim Ummah.
#PTISMT
آہ! ہم بھی اس ملک کے باشندے ہیں جہاں چیف جسٹس کی توہین پر 35 سال قید کی سزا دی جاتی ہے، جبکہ رسالت مآب ﷺ کی توہین پر محض 15 دن کے لیے لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔"
امام موسی کاظم علیہ السلام نے پلٹ کر استفسار کیا۔
"اگر آج رسول اللہ ص آ جائیں اور تم سے بیٹی کا رشتہ طلب کریں تو کرو گے۔"
ہارون بہت جذبات میں جوش سے بولا، "واللہ یہ تو خوش قسمتی ہو گی۔ ہم فورا" بلاجھجھک رشتہ قبول کریں گے۔"
امام ع کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور فرمایا۔"ہم نہیں کریں گے۔"
اب ہارون رشید کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
❤️
پس ثابت ہوا کہ اگر کوئی مولوی خود گستاخی کرے، یا کوئی طاقتور گروہ گستاخی کرے
تو مذہبی جماعتیں اس کیخلاف نہیں بولتی ہیں
یہ فرقہ پرست ملاؤں کی جماعتیں صرف کمزور لوگوں کو ٹارگٹ کرتی ہیں
ان حرامیوں کو مذہب کی گستاخی سے درحقیقت کوئی مسئلہ نہیں ہے
کیونکہ ان کیلئے مذہب محض ایک دھندہ ہے
#پاکستان
میں نے اسلامی تاریخ کا جتنا بھی مطالعہ کیا ھے یا موجودہ حالات کو دیکھا ھے ایک بات بہت پکی سامنے آئی ھے ۔ جس نے بھی اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہ سے محبت کی ، عشق کیا اس پر آزمائشوں اور تکالیف کے پہاڑ توڑے گئے ۔آپ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور سے دیکھ لیں حضرت ابو ذر انصاری رض کے ساتھ کیا ہوا۔ آج اس دور میں بھی جو اہل بیت اطہار سے محبت عقیدت کا اظہار کرتا ان کے فضائل بیان کرتا ھے اس پر الزامات کی بوچھاڑ ہو جاتی ھے ۔
ایسا کیوں ہوتا ھے؟
ابو سفیان سواری پر سوار تہا معاویہ مہار کہینچ رھا تھا یزید بن سفیان ھانک رھے تہے
یہ منظر دیکھ کر نبی کریم نے فرمایا اس سوار پر لعنت، مہار کہینچنے والے پر لعنت اور ھانکنے والے پر لعنت۔
اہلسنت کتب حوالہ ۔
1۔تاریخ طبری ۔
2۔الکامل فی التاریخ ۔
3.کتاب الضعفاء ۔
پنج تن پاک
محمد علی فاطمہ حسن حسین
کوئی پوچھے قران سے ثابت کرو اسکو کہو سورہ العمران آیت 61 کی تفسیر پڑھ-
اہلبیت سے محبت کیوں؟
بتاو مجھے اللہ نے قرآن میں حکم دیا
سورہ الشوری آیت 23
اہلبیت کو پاک کیوں کہتے ہو
اسکو بتاو
سورہ الاحزاب آیت 33 دوسرا حصہ اللہ نے پاک کہا ہے-
مومن اہلیبیت ع کا غم منا رہے تھے اور مسلمان چھٹیاں منا رہے تھے یہ فرق ہے مومن اور مسلمان میں۔
اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بھی آلِ رسولؐ کو مانتے ہیں، اگر ماننا یہی ہے، تو پھر یہی ان کے دعوے کی حقیقت اور ان کی اصلیت ہے۔
شہداء کربلا کی تدفین:
عصر عاشور عمر ابن سعد نے جناب سید الشہداء ع کا سر مبارک خولی اور حمید بن مسلم کے حوالے کیا اور دوسرے شہداء کے سرہائے مبارک شمر اور عمرو بن الحجاج کی تحویل میں دے کر کوفہ روانہ کردیے۔ خود اپنے مقتولین کی نجس لاشوں کو جمع کرکے انکا نماز جنازہ ادا کیا اور انکی تدفین و تکفین کی۔ غروب آفتاب کے بعد وہ بھی امام حسین ع اور انکے جان نثاران کے بے گور و کفن لاشے صحرا میں ھی چھوڑ کر اپنے لاو لشکر سمیت اور اسارائے آل محمد ص کیساتھ کوفہ روانہ ھوگیا۔
انکے جانے کیبعد بنی اسد کے کچھ لوگوں نے جو کہ قریب ھی عاضریہ کے مقام پر رہتے تھے آئے اور شہداء کی تدفین و تکفین کے انتظامات کیے۔ وہ اس بات پر عرب میں فخر کیا کرتے ھیں کہ ہم وہ ھیں کہ جنہوں نے امام حسین ع کی نماز جنازہ پڑھی ھے اور آپکو اور آپکے اصحاب کو دفن کیا ھے۔ اب یہاں پر کئی سوالات جنم لیتے ھیں۔ کہ شہداء کی تدفین کس طرح ھوئی؟ کس دن ھوئی؟ انکی شناخت کس طرح ھوئی؟ ان سب کی تفصیل تاریخ کی کتب میں نہ ھونے کے برابر ھیں۔
جہاں تک تعلق ھے کہ تدفین کس دن ھوئی اسکے لیے کتب میں گیارہ یا بارہ محرم کی تاریخیں ملتی ھیں۔ اس بات سے یہ ثابت ھوتا ھے کہ تدفین گیارہ اور بارہ ھی کے درمیان ھوئی ھے۔ شیخ مفید رح لکھتے ھیں کہ ہم اس بات کا تعین و تشخیص نہیں کرسکتے کہ کس شہید کا جسد کہاں ھے؟ ہاں اس قدر یقین ھے کہ حائر حسینی سب کا احاطہ کیے ھوئے ھے۔ تمام ارباب تاریخ و مقاتل اس بات پر متفق ھیں کہ سید الشہداء کو وہیں دفن کیا گیا ھے جہاں آج انکا مزار مقدس ھے۔ اسی طرح جناب عباس ابن علی ع بھی وہیں فرات کے کنارہ پر ھی دفن ھیں جہاں آج انکا مزار ھے۔ مشہور ھے کہ جناب حر کا لاشہ انکے قبیلہ والے اٹھا کر دور لے گئے تھے جہاں آج انکی قبر ھے۔ کربلا زیارت پر جانے والے یہ بات جانتے ھیں کہ انکا مزار کربلا شہر سے کافی باہر ھے۔ نیز انکا سر قلم ھونے اور لاشہ پامال ھونے سے بھی بچ گیا تھا۔
یہ تمام تاریخی باتیں اپنی جگہ لیکن اہل تشیع کا مسلمہ عقیدہ ھے کہ معصوم امام کا جنازہ صرف معصوم امام ھی پڑھا سکتا ھے۔ اور تدفین و تکفین کا انتظام بھی وہی کر سکتا ھے۔ اس لیے یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ امام سجاد ع با اعجاز امامت قید سے کربلا پہنچے اور بنی اسد کی راہنمائی فرماتے ھوئے تمام انتظامات کیے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح امام علی رضا ع نے مدینہ سے بغداد با اعجاز امامت پہنچ کر اپنے بابا امام موسی کاظم ع کی تکفین و تدفین اور نماز جنازہ کا فریضہ انجام دیا جبکہ وہ تو قید بھی نہ تھے۔
بنی اسد بھی حیران تھے کہ امام با اعجاز امامت تشریف لائے اور امام نے شہداء کی شناخت فرمائی۔ اس وقت بہت زیادہ گریہ و بکا ھوا۔ جب امام اپنے بابا کے لاشے پر آئے تو گلے لگا کر بہت گریہ کیا پھر ایک مقام سے کچھ مٹی ہٹائی تو پہلے سے ھی بنی ھوئی قبر ملی۔ امام نے اپنے بابا کو قبر میں اتارا اور لٹا دیا اسکے بعد جناب عباس ابن علی ع کی قبر کھودی اور تنہا ھی انکے جسد مبارک کو قبر میں اتارا۔ بنی اسد مدد کرنا چاہتے تھے تو امام نے منع فرماتے ھوئے کہا کہ میرے ساتھ معاون موجود ھیں۔ آپنے انکو دو بڑے گڑھے کھودنے کا حکم دیا اور پھر ایک میں بنو ہاشم اور دوسرے میں اصحاب کو دفن کرنے کا کہا۔ چنانچہ انہوں نے ویسا ھی کیا۔ مشہور ھے کہ جناب علی اکبر بھی امام حسین ع کیساتھ ھی دفن ھیں اور جناب علی اصغر ع امام کے سینے پر ھی دفن ھیں۔
واللہ العالم !
امام محمد باقر علیہ السلام
حسین بن علی۴ شہید کیے گئے، اور آپ کے جسدِ مبارک پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے تین سو بیس سے زائد زخم پائے گئے
اور روایت ہے کہ یہ تمام زخم آپ کے جسمِ مبارک کے اگلے حصے پر تھے، کیونکہ آپ دشمن کی طرف پیٹھ نہیں کرتے تھے
أمالی صدوق مجلس31، ح1.
یہ شیعہ ہوہی نہیں سکتا۔ اللہ کے علاوہ جو کسی اور کو سجدہ کرے وہ مُشرک ہے چاہے وہ یہ بھی کہے کہ اُس نے تعظیم سے سجدہ کیا ہے۔
میری نظر میں یہ تو مسلمان بھی نہ ہو سکتے۔
یہ شیعت میں چُھپے وہ بھیڑیے ہیں جو اہلِ بیت کی محبت کے پیچھے چُھپ کر وہ وہ حرکات کرتے ہیں جو اللہ سے بغاوت ہے
اہلِ بیت سے محبت کا پہلا تقاضہ یہ ہے کہ آقا ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کرے۔
ان کے لئیے تو ہدایت کی دُعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
لعنت بر یزید ابن ِمعاویہ
لعنت بر عُبیداللّٰه ابن زیاد
لعنت بر عمر ابن سعد
لعنت بر شمر ابن ذی الجوشن
لعنت بر سنان ابن انس
لعنت بر محمد ابن اشعث
لعنت بر خولی ابن یزید اصبحی
لعنت برشبعث ابن ربیع
لعنت بر حکیم ابن طُفیل
لعنت بر حرٙملہ بن کاہل اسدی
لعنت بر حصین ابن نمیر
🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️