ماہ مبارک رمضان کی نویں سحری
امیرالمؤمنین علی علیه السلام فرماتے ہیں
آپؑ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو آپؑ نے فرمایا:
لَا مَرْحَبًۢا بِوُجُوْهٍ لَّا تُرٰى اِلَّا عِنْدَ كُلِّ سَوْاَ��ٍ.
ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں
ماہ مبارک رمضان کی آٹھویں سحری
امیرالمؤمنین علی علیه السلام فرماتے ہیں
اَلْاَمْرُ قَرِیْبٌ وَّ الْاِصْطِحَابُ قَلِیْلٌ.
آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔
قَدْ اَضَآءَ الصُّبْحُ لِذِیْ عَیْنَیْنِ.
آنکھ والے کیلئے صبح روشن ہو چکی ہے۔
نھج البلاغه/
@RealTahirQadri پھر ہم شکل پیامبر ص پر کیوں تلوار اٹھائی؟
اور ہم شکل پیامبر ص سے حکومت لے کر کیوں خود خلیفہ بن بیٹھے؟
ہم شکل پیامبر آن سے بہتر حکومت نہیں کر سکتے تھے؟