ان صاحب کو فیصلہ سازوں نے 3 مرتبہ جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار تک پہنچایا ان کی سنجیدگی کا اندازہ پہلے بھی تھا مگر اتنا نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سوال ہوا۔ جواب سن لیں
شرم تم کو مگر نہیں آتی
جیسے کل 11اکتوبر کو خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر ملک بھر میں”محب وطن شہریوں“ نے مٹھائیاں بانٹی ہیں ٹھیک ویسے ہی 12 اکتوبر کو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے پر محب وطن شہریوں نے مٹھائی تو بانٹی ہی ساتھ ”نواز شریف کو پھانسی دو“ کا مطالبہ بھی کیا۔
اسکرپٹ رائٹر 27 سال گزرنے کے بعد بھی جدت نہیں لا سکا😁
مریم نواز کا باپ ، اس کا چچا سب اس پنجاب پر 1985 سے یعنی 41 سال سے حکومت کر رہے ہیں ۔ کیا وہ کامیابی کا ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں جیسا مشرقی پنجاب کے اس آرٹسٹ وزیر اعلیٰ نے کیا ہے کہ اس نے چار سال میں تعلیم کے حوالے سے ستاسیویں نمبر والے صوبے کو پہلے نمبر پر لا کھڑا کیا
2024 کا الیکشن ایک انقلاب ہی تھا میں نے 10 الیکشن لڑے ہیں میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کمپین نہ ہو امیدوار کا پتہ نہ ہو کامن نشان نہ ہو پولنگ ایجنٹ نہ ہو اور unknown امیدوار جیتنا شروع کر دیں اور بھی massive majority سے جیتے یہ انقلاب ہوتا ہے ! شاہد خاقان عباسی ۔
@saraanwar45 1951 mein Pakistan ne apna amal-dar-amad wala waqt badal kar GMT+5 kar diya tha. Har Pakistani pichlay 75 saal se GMT+5 par hi jee raha hai. Lekin 1943 ke qanoon ke andar likhi hui ibarat ko update karna bhool gaye thay. yeah sirf kazgzi karwaai ho rahi hy, befikar rahain
اللہُ اکبر۔ دل پھٹ گیا دیکھ کر۔
دیوار کی جعلی توڑ کر الیومینیم کی سیڑھی لگا کر یکے بعد دیگرے ننھی لاشوں کو نکالا جارہا ہے۔
یہ لوگ خاک زندہ بچوں کو بچاتے۔ یہ تو لاشیں نکالنے کے لیئے بھی جُگاڑ کا استعمال کررہے ہیں۔
وزیر صحت اور اسے ہسپتال کی انتظامیہ کو گرفتار کریں۔ استعفے گئے بھاڑ میں۔
@MirMAKOfficial پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔ ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے، ریسکیو اہلکار کا موقف
بس جی۔۔ اب TV پر کوئی Logical بات کرنے کی گنجائش نہیں رہ گئی۔
اب یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے جاؤ اور امتیاز سٹور سے ریڈی میڈ تمغے لے کر صحافت کا جنازہ پڑھتے جاؤ۔
خواجہ صاحب آپ نے سب باتیں ٹھیک کی ہیں۔
لیکن بیوروکریٹس کو اس پوزیشن میں کون لایا کہ وہ حکمرانوں کو بھی کما کر دیں اور خود بھی کمائیں اور ان کے اوپر حاکم بن جائیں۔
مجھے یاد ہے 2013 میں نواز شریف وزیراعظم بنے تو چین کے ایک دورے میں کہا انہیں سینئر بیوروکریٹس نہیں چائیں جو قاعدے قانون کی بات کریں۔
انہیں go getters افسران درکار ہیں۔انہیں قانون قاعدے سمجھانے والے نہیں چاہیں بلکہ وہ چاہیں جنہیں ہم جو کچھ کہیں وہ کر گزریں۔
احد چیمہ صاحب شاید اس وقت گریڈ 18/19کے افسر تھے۔وہ ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ آج وہی احد چیمہ آپ کے ساتھ کابینہ میں وفاقی وزیر ہیں اور اپنے سب سینئرز کے باس ہیں۔ چیمہ صاحب اپنے جوئنیر اور سینرز سب کے رول ماڈل ہیں۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ گریڈ سترہ کے اے سی کو گریڈ انیس کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے کا چارج دینے کا رواج شہباز شریف نے ڈالا کہ پھر جوینئر افسر کچھ بھی کر دے گا۔ ڈی سی کو کمشنر کے عہدے کا چارج دے دیا۔ اٹھارہ گریڈ والے کو بیس گریڈ کی پوسٹ کا چارج دے کر بٹھا دیا۔
انہی بابوز کے زریعے ہی ساہیوال اور پورٹ قاسم کے کوئلے پلانٹس میں سات سات ملین ڈالرز کی اوورانواسنگ دکھا کر لمبا مال کمایا گیا۔ آپ کو تو پتہ ہوگا وہ پلانٹس کس کے ہیں کہ آپ اس وقت وزیر واٹر اینڈ پاور تھے۔ نہیں علم تو کسی دن اپ اپنے کولیگ وزیر محمد علی کی انرجی پر ہوش ربا رپورٹ پڑھ لیں کہ کیسے ان بیوروکریٹس کی مدد سے ٹیرف لیا گیا تھا۔
پھر فیڈرل لیول پر نواز لیگ کا ماڈل ہے کہ اہم عہدوں پر ایم ڈی/سی ای و یا چیرمین نہ لگائو بلکہ کسی جونئنر کو ایکٹنگ چارج دے دو اور پھر دھڑلے سے کام کرائو۔ ابھی بھی آوگرا کا فل ٹائم چیرمین لگانے کی بجائے ایک بیوروکریٹ کو چارج دے رکھا ہے۔ ہمارے حکمران اکثر کاروباری ہیں اور ان کو بابوز کی ضرورت رہتی ہے سال میں دو دفعہ انہوں نے شوگر کی ایکسپورٹ تو کبھی امپورٹ منظور کرانی ہوتی ہے۔ دونوں کا الگ الگ فائدہ ہے۔خاندانی کاروبار کے دیگر معاملات بھی انہوں نے دیکھنے ہوتے ہیں۔
آپ کی مہربانی آپ کبھی کبھار ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں۔ دوسرے وزیروں کی طرح آپ بھی خاموش رہ سکتے ہیں۔
میری کچھ سیاستدانوں کے بارے ہمیشہ خواہش رہی کہ وہ کبھی حکومت میں وزیر نہ ہوتے۔ وہ اپوزیشن میں ہی رہتے تو اس ملک اور عوام کا زیادہ بھلا کرسکتے تھے۔ آپ کا شمار بھی انہیں میں کرتا تھا۔ وزیر بننے سے ہوسکتا ہے انہیں یا ان کی سیاست کو فائدہ ہوا ہوگا لیکن عوام اور جمہوریت کو نقصان ہوا کہ ایسی آوازیں نہیں اٹھتیں. وزیر بن کر کمپرومائز ہو جاتی ہیں۔
باقی شہباز شریف ماڈل ہی بیورکریٹس کے زریعے اپنی سیاسی یا خاندانی کاروباری ترقی کا راز رہا ہے۔ بابوز اگر شریف خاندان کے علاوہ نہیں چل سکتے تو شریف حکمران بیوروکریسی کے بغیر نہیں چل پاتے۔دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں کی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ ایک کو زوال تو دوسرے کو زوال، ایک عروج پر تو دوسرا خودبخود عروج پر۔ ان بابوز نے ریاست سے زیادہ حکمران کی خاندانوں کی ذاتی وفاداری کا حلف لے رکھا ہے۔ ان کا عروج و زوال ان سے جڑا ہے۔ اب ہر گریڈ بیس کے سمجھدار افسر نے ایک ایک وزیر ڈھونڈ رکھا ہے جو ان کی ترقی اور پوسٹنگ کا خیال رکھتا ہے۔ سب کماتے، کھاتے اور خوشی خوشی رہتے ہیں۔
"ونڈ کھا، کھنڈ کھا" ایک مشہور کہاوت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مل جل کر کھانا، بانٹ کر کھانا اور خوشی سے زندگی گزارنا بہتر ہے۔اس سے مراد رواداری، سخی پن اور آپسی پیار محبت کا جذبہ ہے۔
سیاستدان اور بیوروکریٹس بھی ونڈ کر کے کھنڈ کھاتے ہیں۔
قرآن پاک کا وہ ترجمہ جس کی تلاش میں 40 برس بیت گئے، کاش یہ پہلے نصیب ہو جاتا مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعة الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر لیکچر کے آخر میں کانفرنس کے شرکا علماء سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے جو بچپن سے میرے دل میں تھے اور عالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دے رہے تھے۔ ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا جس کی بنیاد پر میرے علاقے کے مولانا نے محمود صاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔
میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کا جواب دیا۔ اب میری بھی ہمت بڑھی میں نے پوچھا جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے تو میں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔ پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں ایک مُحکمات اور دوسرے مُتشابہات۔ ضروری ہے کہ مُتشابہات کو مُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے
ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات و مُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ *جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے* *اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے*۔ *جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے*۔ انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے جس کا مطلب ہے کہ *انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے*۔ میں نے پھر بودا سا سوال کیا کہ
میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔ کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ *اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں*۔ میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔ اس پر پروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی
*اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اُس پرچلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ چاہے اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت* کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں میرے یا کسی بھی مولوی کے محتاج کیوں ہوتے ہو۔ قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ ایمان اور استدلال یعنی ریزن (reason) الگ الگ چیزیں ہیں اور ریزننگ بھٹکا دیتی ہے۔
اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ *اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔ * *بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔ * *میرے سامنے سےجیسے اندھیرے چھٹ گئے۔ * میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میرا خدا تو بالکل ویسا ہے جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔ کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔
ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔ کچھ عرصہ بعد ایک نو مسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔ وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی اُٹھان اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔ یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔ آج شیعہ کروڑوں میں ہیں اور کروڑوں ہی سنّی کہیں مالکی ہیں کہیں حنبلی اور کہیں شافعی۔
ہر فرقے میں مزید تقسیم اور فرقے در فرقے ہیں۔ افسوس کہ ایسے لوگ کہیں مُشکل سے نظر آتے ہیں جو وہابی ہوں نہ دیو بندی، بریلوی ہوں نہ اہل حدیث جن کا دین صرف اسلام ہو۔ جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔ سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ *عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے* ۔ اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے
کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکروں میں بٹ چُکے ہیں۔ شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔ سورہ حج میں اللہ کہتے ہیں *پس کیا وہ زمین میں نہیں پھرے تاکہ انہیں وہ دل ملتے جن سے وہ عقل سے کام لیتے یا ایسے کان نصیب ہوتے جن سے وہ سن سکتے*۔
بلوچ سردار اور ایلیٹ کاروبار کے نام پر ہم سے اسمگلنگ کے پرمٹ مانگتے ہیں کہ ہم نے ڈیزل لانا ہے، منشیات لانی ہیں اگر تم یہ روکو گے تو میں دہشتگردی کرواؤں گا۔ اب آپ کو کوئی پیسہ نہیں ملے گا پیسہ صرف بلوچستان کے عوام کے پاس جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
بچپن سے ہی مجھے سورۃ القریش حفظ تھی، لیکن جب میں نے اس کی تفسیر پڑھی تو میرے دل میں اللہ تعالٰی کا خوف اور زیادہ بڑھ گی
1- یہ سورت چار آیات پر مشتمل ہے۔ "لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ" سورۃ قریش کی یہ پہلی آیت ہماری زندگی کے ایک اہم مسئلے یعنی «نعمتوں کا عادی ہو جانا (إِلْفُ النِّعْمَة)» پر بات کرتی ہے۔
میں نے پہلی بار نعمتوں کا عادی ہو جانے پر اس طرح کا عتاب و تنبیہ سنی ہے۔
اہلِ قریش پہلے فقر، بھوک اور ایک سادہ و بدوی زندگی کے عادی تھے۔
2- حالت یہاں تک پہنچ جاتی تھی کہ جب ان میں سے کوئی شدید فقر کا شکار ہوتا، تو وہ اپنے گھر والوں کو "خباء" (ایک الگ تھلگ جگہ/خیمے) میں لے جاتا اور وہ سب وہاں بھوک سے مرنے کے لیے بیٹھ جاتے۔
جاہلیت کے دور میں اس رسم کو "الإعتفار" (اعتفار) کہا جاتا تھا۔
3- قریش کا ایک بڑا خاندان تھا جسے "بنو مخزوم" کہا جاتا تھا۔
وہ شدید بھوک سے مرنے کے قریب تھے۔ جب ان کی یہ خبر "ہاشم بن عبد مناف" (جو کہ ایک بڑے تاجر تھے) تک پہنچی، تو انہیں بیت اللہ کے پڑوسیوں میں اس قدر جہالت اور فقر کی موجودگی پر بہت دکھ اور افسوس ہوا۔
4- چنانچہ ہاشم بن عبد مناف نے آگے بڑھ کر اس بری رسم کو ختم کیا اور ان سے کہا: "تم نے ایک ایسی رسم بنا لی ہے جس کی وجہ سے عربوں میں تمہاری تذلیل ہو رہی ہے، حالانکہ تم اللہ تعالی کے گھر والے ہو اور لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں۔"
5- پھر انہوں نے قبیلے کو مختلف شاخوں (عشائر) میں تقسیم کیا اور ہر مالدار کو حکم دیا کہ وہ اپنے خاندان کے غریبوں کے ساتھ اپنا مال تقسیم کرے، یہاں تک کہ غریب بھی مالدار کی طرح (خوشحال) ہو گیا۔
انہوں نے ان کو تجارت کے اصول سکھائے اور ان کے لیے سال میں دو تجارتی سفروں کا نظم قائم کیا: "سردیوں اور گرمیوں کا سفر"۔
6- گرمیوں میں شام (Syria) کا سفر، جہاں انہوں نے پھلوں کی تجارت سیکھی، اور سردیوں میں یمن کا سفر، جہاں انہوں نے زرعی پیداوار کی تجارت سکھائی۔
یہاں تک کہ شام اور یمن کی خیر وبرکت مکہ میں آنے لگی، وہاں کے رہنے والوں کے حالات بہتر ہو گئے اور "اعتفار" کا خاتمہ ہو گیا۔
پھر اہل قریش نے اللہ کا شکر ادا نہ کر کے نعمت کی ناشکری کرنا شروع کر دی
(نعمت کی ناشکری یہ ہے کہ انسان اس کا عادی ہو جائے اور اسے نعمت ہی نہ سمجھے)۔
7- جب قریش اور اہل مکہ اللہ کی نازل کردہ نعمتوں کے عادی ہو گئے (اور شکر بھول گئے)، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا الٰہی حکم نازل فرمایا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں:
{فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ}
(پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن عطا فرمایا)۔
عام طور پر لوگوں پر اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اگر وہ اس کی باقی تمام نعمتوں پر اس کی عبادت نہیں کرتے تو کم از کم اس ایک ظاہر و باہمی نعمت یعنی (نعمت کے قائم رہنے) پر ہی اس کی عبادت کر لیں۔
8- اور بھوک کے بعد انہیں کھانا کھلانے اور خوف و دہشت میں زندگی گزارنے کے بعد انہیں امن و امان عطا کرنے پر۔ {أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ}
نعمت کے ایسے عادی نہ بنو کہ اس کا انکار کرنے لگو، بلکہ اللہ کا شکر ادا کرو تاکہ اس کی نعمتیں تم سے محبت کرنے لگیں۔
اللہ کی نعمت پر خوش ہوا کرو اور اس کا شکر ادا کرو، خواہ وہ تمہیں ہزارویں بار ہی کیوں نہ ملی ہو، کیونکہ صرف نعمت کا قائم رہنا ہی اپنے آپ میں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
نعمت کا عادی ہو جانا اور اس پر شکر نہ کرنا ناشکری اور ظلم ہے۔
9- اپنی زبان پر ہر وقت "الحمد للہ" جاری رکھو۔
اسے اپنے دل کے اخلاص، رضا اور یقین کے ساتھ کہو، کیونکہ اس کا اجر بہت عظیم ہے…
اے اللہ! تیری ذات کے جلال اور تیری عظیم سلطنت کے شایانِ شان تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔
اے اللہ! ہمیں وہ علم عطا فرما جو ہمیں نفع دے، اور جو علم تو نے ہمیں دیا ہے اس سے ہمیں نفع پہنچا، اور ہمارے علم میں اضافہ فرما۔
"سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ"
(پاک ہے تو، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے تو نے ہمیں سکھایا ہے، بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے)۔
#موناسکندر
ان کے 360 سفارشی VS ہمارے ان گنت سفارشی!
عجیب بات ہے!
جب قرآن میں غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت والی آیات پیش کی جائیں تو فوراً کہا جاتا ہے کہ "یہ تو صرف بتوں کے بارے میں ہیں۔"
چلیں! پھر قرآن سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کن کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
سورۃ النحل (16:21)
«"وہ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور انہیں یہ بھی شعور نہیں کہ انہیں کب دوبارہ اٹھایا جائے گا۔"»
سوال یہ ہے کہ کیا پتھر کے بت بھی قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟
---
سورۃ فاطر (35:22)
«"آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں۔"»
کیا بت بھی قبروں میں دفن ہوتے ہیں؟
---
سورۃ الاعراف (7:194)
«"جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ تمہاری ہی طرح کے بندے ہیں۔"»
کیا اللہ تعالیٰ پتھر کے بتوں کو "تمہاری طرح کے بندے" کہتا ہے؟
---
سورۃ الاسراء (17:57)
«"جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔"»
سوچنے کی بات ہے! جو خود اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کر رہا ہو، وہ تمہارا مستقل وسیلہ اور مشکل کشا کیسے بن گیا؟
---
سورۃ الکہف (18:102)
«"کیا کافر یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا اپنا کارساز بنا لیں گے؟"»
یہاں بھی "میرے بندوں" کا ذکر ہے، پتھر کے ٹکڑوں کا نہیں۔
---
اصل مسئلہ بت کا نہیں، عقیدے کا ہے۔
قوم نوح نے بھی ابتدا میں نیک لوگوں کے مجسمے بنائے تھے۔ کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ ہمارے خالق ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوا جب اللہ کے بندوں کو اللہ اور بندوں کے درمیان مستقل سفارشی، فریاد رس اور حاجت روا سمجھ لیا گیا۔
آج بھی اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ فلاں بزرگ، ولی یا مدفون ہستی دور بیٹھ کر ہماری پکار سنتی ہے، مشکل کشائی کرتی ہے، اولاد دیتی ہے، رزق دلواتی ہے یا اللہ کے ہاں ہماری سفارش کے اختیارات کی مالک ہے، تو پھر قرآن کے سوالات آج بھی وہی ہیں:
- کیا وہ زندہ ہیں؟
- کیا وہ تمہاری پکار سنتے ہیں؟
- کیا وہ تمہاری طرح اللہ کے بندے نہیں؟
- کیا وہ خود اللہ کے محتاج نہیں؟
قرآن کا پیغام نہایت سادہ اور خوبصورت ہے:
مانگو تو اللہ سے۔
پکارو تو اللہ کو۔
امید رکھو تو اللہ سے۔
خوف کھاؤ تو اللہ سے۔
اور سفارشیوں کی فہرست جتنی بھی لمبی ہو، اللہ تک پہنچنے کے لیے کسی "وی آئی پی پاس" کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«"اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (انہیں بتا دیں کہ) میں تو بہت قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے۔"»
اللہ سے زیادہ قریب، اللہ سے زیادہ سننے والا اور اللہ سے زیادہ رحم کرنے والا کوئی نہیں۔
اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور خالص اسی کی بندگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔