27 March 2022 marked the beginning of our struggle for Pakistan’s Haqeeqi Azadi.
In the last 2 years, despite facing oppression and injustice at the hands of the predatory class and status quo forces, PTI has evolved into an unstoppable force. This has been made possible by the relentless struggle and efforts of our party workers, volunteers, and the ordinary citizens of Pakistan, particularly the youth and the women of this country.
Insha’Allah, our efforts will soon bear fruit, and we will establish Pakistan on the basis of our three guiding principles: rule of law, self-esteem & humanity.
Pakistan’s army may have gotten away with its latest election heist. But can it maintain control? There are two reasons to think the country’s generals could struggle https://t.co/ZaVLZYIDMO 👇
27 برس قبل پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف کے قیام کیلئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہی آزاد عدلیہ پر استوار ہوتی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہم نے اپنی نگاہوں کے سامنے قانون کی حکمرانی کے تار و پود بکھرتے دیکھے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران پوری ڈھٹائی سے دستور و قانون سے انحر��ف کیا گیا اور آئین کو تاراج کرنے کے ساتھ نہات دیدہ دلیری سے اسے نیچا دکھایا گیا جس سے عدلیہ کی بچی کُھچی ساکھ اور اس کے اختیار و حیثیت کا بھی جنازہ نکل گیا۔
چنانچہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان 6 بہادر ججز کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے اراکین کے نام اپنے خط کے ��ریعے اعلیٰ عدلیہ کی نہایت تشویشناک کیفیّت پر سے پردہ ہٹایا ہے۔ یہ خط اپنے دو عدد منسلکہ جات کے ذریعے خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پوری ڈھٹائی سے عدالتی معاملات میں اس شرمناک مداخلت کو ریکارڈ پر لاتا ہے جو ملک میں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ایک نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت فردِ جرم سے کسی طور پر بھی کم نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران جس انداز میں ججز کو ڈرا دھمکا کر انہیں سیاسی بنیادوں پر فیصلے جاری کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے اس سے ان ججز کے فیصلوں اور عدالتی امور میں شفافیّت کے پورے عمل پر ان گنت سوالات سر اٹھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ اس پورے عمل سے ریاست کے ��یانیے کی صحت اور 9 مئی کے واقعات و نتائج کی حقیقت، جن کے پس منظر میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر باقاعدہ ایک یلغار کی صورت میں نیم فوجی دستوں کے ذریعے (ہائیکورٹ کے اندر سے) اغوا اور ان سے کی جانے والی بدسلوکی کارفرما ہے، کے حوالے سے بھی نہایت سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تب سے لیکر اب تک (ملک میں) سیاسی انتقام کی ایک لہر اٹھائی گئی ہے جس کے تحت سیاسی کارکنان اور قائدین کو اغوا کرکے انہیں اذّیت و تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول یا روایت بن کر رہ گیا ہے اور عدالتیں اپنے اختیارات بروئے کار لانے یا (ان زیرِعتاب سیاسی کارکنان/قائدین کو) انصاف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر اہم یہ ہے کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کی ذیلی عدالتیں ہی ہیں جہاں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے زیادہ ت�� مقدمات جن میں ان کی غیرقانونی گرفتاری اور (جعلی، بےبنیاد، من گھڑت اور جھوٹے مقدمات میں) دی جانے والی سزاؤں (کے خلاف اپیلوں وغیرہ) کے معاملات شامل ہیں، زیرِ سماعت ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ عدالت دباؤ اور مداخلت کے زیرِ اثر ہے جس سے ان مقدمات پر کی جانے والی عدالتی کارروائی پر بھی نہایت سنگین نوعیت کے شکوک �� شبہات جنم لیتے ہیں۔
چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ سپریم جیوڈیشل کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معزز ججز کی جانب سے لگائے جانے والے نہایت سنجیدہ الزامات کی ایک غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے اور ان ہزاروں سیاسی قیدیوں کیلئے سہولت و انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں قید ہیں۔
مجھے فالو کرنے والا ہر اکاؤُنٹ جو 5 ہزار سے کم ہے اس ٹویٹ کو لائک کر کے کامنٹ کرے۔ میں نے ہر انصافین کو پروموٹ کرنا ہے۔
جس جس کا اکاؤُنٹ ٹویٹ ہوگا سب ایک دوسرے کو فالو کریں۔ آپکو اندازہ نہیں ایک ساتھ آپ کتنی بڑی اور کتنی مظبوط طاقت ہیں۔
لاہور والے اپنے کامنٹ میں لاہور منشن کریں آپکی خاص پروموشن ہوگی۔ اور آگے کی ریلی کے لئیے بات بھی۔✨