مرغیوں کے کچرے سے نکلنے والا گندا تیل ہمارے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔
نتیجتاً ٹائیفائیڈ، ڈائریا، جلدی بیماریوں اور دیگر خطرناک امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سب سے بڑا افسوس: ان بڑے تاجروں اور فیکٹری مالکان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی۔
کیا غریب عوام کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں:
فیکٹریوں اور گندے تیل کی تجارت پر فوری پابندی عائد کی جائے۔
ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
محکمۂ صحت اور انتظامیہ فوری نوٹس لے۔
یزید کون تھا؟ واقعہ کربلا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ سے یزید کے والد کا کیا رشتہ تھا؟
حضرت امیر معاویہ رَضیَ اللہُ عَنْہ کا رسول اللہ ﷺ سے دہرا
اور بہت قریبی رشتہ تھا۔ ان کے درمیان بنیادی طور پر دو اہم رشتے تھے:
حضرت امیر معاویہ رَضیَ اللہُ عَنْہ کی سگی بہن، حضرت ام حبیبہ (رملیہ بنت ابی سفیان) رَضیَ اللہُ عَنْہا، رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے تھیں یعنی وہ ام المؤمنین تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت امیر معاویہ رَضیَ اللہُ عَنْہ رسول اللہ ﷺ کے سالے تھے۔ اسی مصلحت اور نسبت کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں انہیں "خال المؤمنین" (مومنوں کے ماموں) کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
شجرہ نسب کے اعتبار سے حضرت امیر معاویہ اور رسول اللہ ﷺ کا تعلق قریش کے ایک ہی اجداد سے جا کر ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا نسب محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔
حضرت امیر معاویہ کا نسب معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔
ہاشم اور عبد شمس آپس میں سگے بھائی تھے۔
اس طرح عبد مناف پر جا کر دونوں کا خاندان ایک ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ آپس میں بھائی بھی بنتے تھے۔
حضرت امیر معاویہ رَضیَ اللہُ عَنْہ عہدِ فاروقی (حضرت عمر فاروق رَضیَ اللہُ عَنْہ کے دور) میں شام کے گورنر مقرر ہوئے تھے۔
انہوں نے تقریباً 20 سال تک وہاں انتہائی کامیابی سے نظم و نسق چلایا، ایک مضبوط فوج تیار کی اور پہلی اسلامی بحری فوج کی بنیاد رکھی۔
اس طویل دور نے انہیں ایک انتہائی مضبوط سیاسی اور فوجی پوزیشن دے دی تھی۔
حضرت عثمان غنی رَضیَ اللہُ عَنْہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی المرتضیٰ رَضیَ اللہُ عَنْہ خلیفہ بنے، تو حضرت امیر معاویہؓ نے قاتلینِ عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کیا۔
اس معاملے پر دونوں بزرگوں کے درمیان سیاسی اختلافات بڑھے، جس کے نتیجے میں جنگِ صفین جیسے المناک واقعات پیش آئے۔
اس دوران سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی؛ حجاز، عراق اور دیگر علاقے حضرت علیؓ کے پاس تھے اور شام پر حضرت امیر معاویہؓ کی خود مختار حکومت تھی۔
جنگِ نہروان میں خارجیوں (ایک انتہا پسند گروہ جو خلافت کے باغی ہو چکے تھے) کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ اس شکست کے بعد تین کٹر خارجیوں نے مکہ مکرمہ میں چھپ کر ایک خوفناک سازش تیار کی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ عالمِ اسلام کی تین بڑی شخصیات کو ایک ہی دن قتل کر دیا جائے تاکہ (ان کے بقول) امت کا تصفیہ ہو سکے۔
عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت علیؓ کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی۔
دوسرے نے شام میں حضرت امیر معاویہؓ پر حملے کا ذمہ لیا (وہ اس حملے میں بچ گئے)۔
تیسرے نے مصر میں حضرت عمرو بن عاصؓ پر حملے کا ذمہ لیا (وہ اس دن بیمار تھے، اس لیے بچ گئے)۔
ابنِ ملجم (لعنت اللہ علیہ) کوفہ پہنچا اور موقع کی تلاش میں رہا۔ 19 رمضان المبارک 40 ہجری کی صبح، جب حضرت علیؓ کوفہ کی مسجدِ جامع میں نمازِ فجر کے لیے تشریف لائے اور لوگوں کو نماز کے لیے بیدار کر رہے تھے، تو ابنِ ملجم نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ پر تلوار سے وار کیا۔
اس نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار آپؓ کے سرِ مبارک پر اس جگہ ماری جہاں پہلے سے ایک جنگ کا زخم موجود تھا۔
جیسے ہی تلوار آپ کے سر پر لگی، آپؓ کی زبانِ مبارک سے یہ تاریخی جملہ نکلا:
"فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" (ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا)۔
حملے کے فوراً بعد ابنِ ملجم کو پکڑ لیا گیا۔ جب اسے زخمی حالت میں حضرت علیؓ کے سامنے لایا گیا، تو آپؓ نے اپنے بیٹوں (امام حسن اور امام حسین) کو وصیت فرمائی:
"اس قیدی کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا۔ جو کھانا تم خود کھاؤ، وہی اسے کھلانا۔ اگر میں زندہ بچ گیا تو اپنے خون کا فیصلہ خود کروں گا، اور اگر میں شہید ہو گیا تو اس کے بدلے صرف ایک ہی وار کرنا (جیسا اس نے مجھ پر کیا)، اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹنا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مثلہ کرنے (اعضاء کاٹنے) سے منع فرماتے سنا ہے۔"
زہر جسم میں پھیلنے کی وجہ سے حضرت علی رَضیَ اللہُ عَنْہ دو دن تک شدید علیل رہے اور بالاخر 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ اس وقت آپؓ کی عمر مبارک تقریباً 63 سال تھی۔
آپؓ کی نمازِ جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت امام حسن رَضیَ اللہُ عَنْہ نے پڑھائی اور خارجیوں کے فتنوں اور بے حرمتی کے خوف سے آپؓ کو رات کے اندھیرے میں نجف (موجودہ عراق) میں انتہائی رازداری سے سپردِ خاک کیا گیا۔
حضرت علی رَضیَ اللہُ عَنْہ کی شہادت کے بعد عراق کے لوگوں نے 41 ہجری میں ان کے بڑے صاحبزادے حضرت حسن رَضیَ اللہُ عَنْہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
دوسری طرف شام میں حضرت امیر معاویہؓ کی قوت برقرار تھی۔ دونوں لشکر ایک بار پھر آمنے سامنے ہونے والے تھے اور امت مسلمہ میں بڑے پیمانے پر خون خرابے کا خطرہ تھا۔
@Badass1ZQ1 اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو احسن طریقے سے کھانا بڑی اچھی بات ہے ان کو ہر کوئی کھا سکتا ہے اگر اپنی گرہ سے میسر ہوں یا کوئی دعوت میں کھلادے۔ علمائے اکرام کے بغض کی وجہ سے ہی جناب غلط رنگ دے رہے ہو ۔
@s0nhri_sn0w کم عقل انسان اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے اور کوئی بندہ اپنی طاقت سے کچھ بھی کرنے یا دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ لیکن اللہ تعالی کی عنایت کردہ طاقت اور رزق سے سب کچھ کرنے کا اختیار رکھتا ہے جیسے کہ تم ٹویٹر استعمال کرتے ہوئے اپنی جہالت کا ثبوت دے رہے ہو۔ یہ بھی تمہاری اپنی طاقت نہ ہے۔
مجھے کسی مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کے 2لاکھ 50 ہزار مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 6 افراد ہیں مطلب ہم
گھر میں آئی ایم ایف کے 15 لاکھ قرضدار ہیں
تو کیا ہم پر عید کی قربانی فرض ہیں اس طرح پورے ملک کے فرد فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہیں ان پر قربانی ہو سکتا ہیں
نوٹ ہم کیسے قرضدار ہوئے کیوں ہوئے کس نے لیا قرضہ ہمیں پتہ بھی نہیں
اس مسلے کا کوئی حل نکال کر دیں
اور ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے
کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مر جائے تو پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔
کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔؟؟
اور ساتھ میں یہ بھی کہ
ہم اس وقت غلام اور ایک اوپن جیل میں قید بھی ہیں کیا غلاموں اور قیدیوں پر بھی قربانی جائز ہے۔ منجانب : میں آپ اور ھم
درخواست
بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب،
سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔
عنوان : جب مرجائیگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب عالی،
گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 15 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔
(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟
(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟
(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟
(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
(14) جب ہر ماہ بلنگ ہو رہی ہے تو فکس چارجز کس بات کے۔
ایک ہی گھر کے دو میٹرکے
111 یونٹ استعمال کیے فکس چارجز 900 روپے
57 یونٹ استعمال کیے تو فکس چارجز 400
(15) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
منجانب؛
*عام شہری*
صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔
(نوٹ):
سب احباب اس تحریر کو شیئر کریں، اس سے بھی آپ کے بچوں کا مستقبل جڑا ہے.
ایک دن حضرت عمر بن خطابؓ مدینہ کی گلیوں میں معمول کے مطابق گشت کر رہے تھے۔
اچانک آپؓ کی نظر ایک بوڑھے یہودی پر پڑی جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بھیک مانگ رہا تھا۔
بڑھاپا، کمزور بینائی، اور کپکپاتے ہاتھ صاف ظاہر تھا کہ عمر بھر کی محنت کے بعد یہ شخص بے سہارا ہو چکا ہے۔
حضرت عمرؓ رک گئے۔ غور سے دیکھا اور پوچھا:
“تم کیوں مانگ رہے ہو؟”
بوڑھے نے جواب دیا:
“میں جزیہ دیتا تھا، اب بوڑھا ہو گیا ہوں، کام کے قابل نہیں رہا، اس لیے مانگ رہا ہوں۔”
یہ سن کر حضرت عمرؓ کا چہرہ بدل گیا۔ آنکھوں میں نمی آ گئی۔ فوراً فرمایا:
“یہ انصاف نہیں کہ ہم تم سے جوانی میں جزیہ لیں اور بڑھاپے میں تمہیں چھوڑ دیں۔”
آپؓ اس یہودی کو اپنے ساتھ بیت المال لے گئے، اسے مستقل وظیفہ مقرر کروایا اور حکم دیا:
“ایسے تمام غیر مسلم بزرگوں کا خرچ بیت المال سے دیا جائے جو کام کے قابل نہیں رہے۔”
پھر وہ تاریخی جملہ فرمایا جو عدلِ اسلامی کی اصل روح ہے:
“ہم نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا اگر تمہیں بے سہارا چھوڑ دیا جائے۔”
یہ واقعہ کیوں غیر معمولی ہے؟
یہ واقعہ نہ جنگ سے جڑا ہے، نہ سیاست سے
یہ کسی مسلمان کے بارے میں نہیں، بلکہ ایک غیر مسلم شہری کے لیے ہے
اس میں عبادت نہیں، بلکہ ریاست کی اخلاقی ذمہ داری بیان ہوئی ہے
یہ دنیا کا شاید پہلا سوشل سیکیورٹی سسٹم ہے جو مذہب سے بالاتر ہو
Congratulations Babar on joining Saeed Bhai on top of the list, InshAllah you are not even half way and tonnes of runs will flow from your bat, many more centuries will be decorated in your glorious career. Keep going and all the best! 🇵🇰 @babarazam258
میڈم صاحبہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ لوگ احساس سے گوندھے
ہوئے ہیں۔
انکو کہا جا رہا مریم صاحبہ کی تصویر والا بینر لگائیں ورنہ یہ سب ہٹا دیں۔
گزشتہ شب سے اب تک درجنوں ایسے واقعات ہو چکے۔
خدا رہا یہ روش انتہائی بری ہے۔
@MaryamNSharif
ربیع الاول وہ مہینہ ہے جس میں دنیا کو رحمت للعالمین ﷺ کی آمد کی خوشخبری ملی۔
یہ مہینہ خوشی، برکت اور نور کا پیغام لاتا ہے۔
آئیے اس مبارک ماہ میں اپنی زندگیوں کو سنتِ رسولﷺ کے مطابق ڈھالیں اور محبتِ رسولﷺ کو اپنے دلوں میں تازہ کریں۔
درود و سلام کو اپنی زبانوں کی زینت بنائیں