آج اگر ہمارے ادارے تباہ ہوگئے تو اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے ،کیونکہ پاکستان کے تمام اداروں میں کہیں نہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیل بیٹھے ہیں ،اس لیے اگر پاکستان میں تیل اور سونے کے کنویں بھی نکل تو بھی ہمارا ملک مقروض ہی رہے گا ۔۔
جب بہنیں خود اپنے بھائی کی رہائی کی کوشش کر رہی ہیں تو ان جرنیلوں کے لونڈوں کو موروثی سیاست یاد آ گئی۔
یہ کیسے بے غیرت لوگ ہیں جن کو عمران خان کی قید تو قبول ہے مگر بہنوں کا اپنے بھائی کی رہائی کے لیئے احتجاج قبول نہیں
تمام لوگ اعجاز چوہدری صاحب کے لئے آوقز اٹھائیں۔ انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔
اسد اللہ خان کے۔مطابق اعجاز چوہدری صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا اور سٹنٹ ڈلا۔ جب سٹنٹ ڈلا تو اس کا گردوں پر اثر ہوا اور کافی عرصے تک ڈاکٹرز کہتے رہے کہ گردوں کے ماہرین کو دکھایا جائے کیونکہ گردوں کے باقاعدہ علاج کی ضرورت ہے لیکن اسکو ویسے ہی تاخیر کا شکار کیا جاتا رہا جیسے عمران خان کی اۤنکھ کے مسئلے کو لٹکایا جاتا رہا۔۔ اور پھر جب چیک اپ کرایا گیا تو پتہ چلا کہ اعجاز چوہدری صاحب کا گال بلیڈر remove کرنا پڑے گا۔۔جب گال بلیڈر remove کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ انہیں تو بہت زیادہ انفیکشن ہے۔۔پہلے انفیکشن کا علاج کرنا ہوگا۔۔۔یعنی انفیکشن کا مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے انکا گال بلیڈر نہیں remove کیا جا سکا اور چونکہ گال بلیڈر نہیں remove کیا جاسکا تو گردوں کا علاج بھی نہیں ہوسکا اور اس وقت انکی گردوں کی سٹیج تھری اۤگئی ہے اور خدشہ یہ ہے کہ اگر ابھی بھی علاج نہ کیا گیا تو انکو ڈائیلسز پر ڈالنا پڑے گا
جب ضیاء الحق کا جہاز کریش ھوا تھا ،میں آج محسوس کر سکتی ھوں کہ پیپلز ہارٹی والوں کی زندگی کا وہ خوشگوار دن ھوگا !ضیاء کو بھی بڑی خوش فہمی تھی خود کو مومن سمجھتا تھا۔
ہم نے 55 روپے فی لیٹر پٹرول بڑھایا ہے ہم 110 روپے بڑھا لیتے تو آپ کیا کر لیتے۔ شمائلہ رانا، مسلم لیگ نون
بات تو سہی ہے۔ یہاں جمعوریت تو ہے نہیں، آمریت ہے۔ اور ہم عوام تو ہیں نہیں، بھیڑ بکریاں ہیں۔