ہماری قوم کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم "خود شناسی" کی کلاس میں ہمیشہ غیر حاضر رہتے ہیں اور "دوسروں پر تنقید" کے امتحان میں ٹاپ کر جاتے ہیں۔
ہم ہر وقت اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی غیب سے سپر ہیرو آئے گا اور راتو رات ملک کی تقدیر بدل دے گا، لیکن ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو حقیقت کچھ اور ہی ملتی ہے۔
ایک چھوٹے سے گاؤں کی مثال ہی لے لیں۔ گاؤں میں کل ملا کر اتنے ووٹر نہیں ہوتے جتنے صبح کی چائے کے ساتھ "وزیرِ اعظم بننے کا خواب" دیکھنے والے امیدوار میدان میں اتر آتے ہیں! ہر دوسرے گھر سے ایک نیا سیاسی رہنما جنم لے رہا ہوتا ہے۔ اب جس گاؤں کے دس بندے ایک ساتھ بیٹھ کر یہ طے نہ کر سکیں کہ نالی کی صفائی کس سے کروانی ہے، وہ ملک کی معیشت سنبھالنے کے دعوے کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی سچی بات بتائے، تو ہم اصلاح کرنے کے بجائے اگلے سے ہمیشہ کے لیے سلام دعا بند کر دیتے ہیں اور "بُغض کے نئے ریکارڈ" قائم کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہم سے اکٹھا ہو کر گاؤں کا ایک پکا راستہ تو بنتا نہیں، لیکن ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر "تیسری عالمی جنگ" کی حکمتِ عملی ہم ایسے بناتے ہیں جیسے جنرل اسمبلی کے سیکرٹری ہم ہی ہوں-
سیدھی سی بات یہ ہے کہ جو قوم اپنے گھر یا گاؤں کے چار لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں کر سکتی، وہ پورا ملک بدلنے کا خواب کیسے دیکھ سکتی ہے؟
ملک کو بدلنے کے لیے کسی جادو کی چھڑی کی نہیں، بلکہ ذرا سی عقل، تھوڑے سے اتحاد اور اس بات کو ماننے کی ضرورت ہے کہ "خرابی صرف حکومت میں نہیں، تھوڑی بہت ہم میں بھی ہے!"
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم کبھی ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر صرف اپنے محلے یا گاؤں کی بہتری کے لیے ایک ہو سکیں گے، یا فی الحال امیدواروں کی تعداد میں ہی اضافہ ہوتا رہے گا؟
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SHABAZGIL@OfficialShehr@samiabrahim@RealWaqarMaliks@MaleehaHashmey@ImranKhanPTI
مجھے سمجھ نہیں اتی ہے کہ لوگ اس کا ساتھ کیوں نہیں دیتے جو مظلوموں اور غریبوں کے ساتھ دیتا ہے اور ان کا احساس کرتا ہے!!👍
اگر آپ کو اس کی سمجھ ہے تو مجھے بھی ضرور بتائیں ۔👍
@chsandhilaa تم اتنی بڑی منافقت کر رہے ہو شرم تو اتی نہیں ہو گی!!
اتنی کم ظرفی اتنی آسانی سے آپ لوگ ہی کر سکتے ہو!
یہ بھی ساتھ لکھو کے وہاں کم سے کم اجرت 50€ جو کے 15000 rs سے زیادہ ہی بنتے ہیں
@SHABAZGIL I don’t think so that a person like u is going to even discuss about these such useless people!!!
In k liye social media k baqi log hi kfi hai!!
پاکستان میں جیسے ہی الیکشن کا بگل بجتا ہے، ایک عجیب و غریب موسمی بخار پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گلی محلے کے چائے والے ڈھابوں سے لے کر ڈرائنگ رومز تک، ہر دوسرا شخص اچانک 'سیاسی ارسطو' بن جاتا ہے۔😉
الیکشن قریب آتے ہی حقیقت اور خیالی باتوں کا فرق مٹ جاتا ہے۔ امیدواروں کے وعدے سن کر یوں لگتا ہے جیسے اگلے ہی مہینے پاکستان سے براہِ راست چاند پر بس سروس شروع ہونے والی ہے۔🤔
سچ کیوں نہیں بولتے؟ کیونکہ سچ کڑوا ہوتا ہے اور کڑوی چیزیں الیکشن مہم میں نہیں بکتی۔ سچ بولنے سے تالیاں نہیں بجتیں اور نہ ہی جذباتی نعرے لگتے ہیں۔ اس لیے سب کو "سب اچھا ہو جائے گا" کی گولی دی جاتی ہے، حالانکہ دل میں سب جانتے ہیں کہ بجٹ میں چائے کی پتی لانے کے پیسے نہیں ہیں۔😇
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ صرف پرچی پر ٹھپہ لگانے کا نام نہیں، یہ ایک بھاری امانت ہے۔👍
خود سے سوال کریں: کیا آپ نے کبھی اپنے ضمیر سے پوچھا ہے کہ یہ حق آپ نے سچائی کی بنیاد پر ادا کیا، یا محض کسی چوہدری، وڈیرے یا برادری کے دباؤ میں آ کر "جی حضوری" کی؟🫵🏻
یہ آپ کا واحد اور طاقتور ترین حق ہے۔ اگر اسے بھی کسی کی خوشنودی کے لیے استعمال کر لیا تو پھر شکوہ کیسا؟
اب وہ پر��نے الیکشن نہیں رہے!
ایک وقت تھا جب رکشوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر، کان پھاڑ دینے والے گانوں اور بریانی کی دیگوں سے الیکشن جیتا جا سکتا تھا۔ اب ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پرانے طرز کی کیمپیننگ (Campaigning) کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی۔
سسٹم بے نقاب ہو چکا ہے: آج کے دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔ عوام اب کافی حد تک باشعور ہو چکی ہے اور سسٹم کی اندرونی کہانیاں (System Exposed) سب کے سامنے آ چکی ہیں۔ اب جذباتی نعروں سے زیادہ لاجک اور عمل کی ضرورت ہے۔ عوام جانتی ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔
، دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے ذرا خود کو بھی دیکھیں۔
اور جو لوگ قیادت کا خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں خود سے پوچھنا چاہیے: "کیا تم یہ بوجھ اٹھا سکتے ہو؟"
اگر آپ میں اس امانت کو سنبھالنے کی اہلیت، ایمانداری اور ہم�� ہے، تو ہی آگے بڑھیں اور قدم بڑھائیں۔ ورنہ محض پروٹوکول اور کرسی کے شوق میں اس قوم کے وقت اور جذبات سے نہ کھیلیں۔
ملک عبدالمجید کا بیٹا ملک نوید
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
شفقت مسعود پاکستان میں یزیدیت کے اس بدترین ماحول میں اپنے حصّے کی شمع جلاتے ہوئے مظلوموں کی توانا آواز بنے ہوئے تھے، فسطائی ریاست کے ایک اور جرم کے خلاف اور @shafqatmm1 کی رہائی کے لیے اپنی بھرپور آواز اٹھائیں۔
#FascismUnderAsimLaw
آواز اٹھائیں 🚨
اطلاعات آرہی ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ شفقت چوہدری کو رات گھر سے اٹھا لیا گیا ہے، جتنا بھی ممکن ہو بازیابی کے لئے آواز اٹھائیں
کیونکہ کل یہ وقت آپ پر بھی آ سکتا ہے
آج پمز ہسپتال کے در و دیوار ان ماؤں کی چیخوں سے گونج رہے ہیں جن کے جگر کے ٹکڑے ان سے ��ھین لیے گئے۔ دل دہل جاتا ہے، روح کانپ اٹھتی ہے جب تصور میں وہ معصوم چہرے آتے ہیں جنہیں ابھی زندگی کی بہاریں دیکھنی تھیں۔ ظالمو! ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا؟ ان ننھی جانوں نے اس فرسودہ اور ظالم نظام کا کیا بگاڑا تھا؟
ان کے والدین کا دکھ سوچ کر ہی سانس رکنے لگتی ہے۔ ان کا جرم کیا تھا؟ کیا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اس ملک کے عام اور غریب شہری تھے؟ کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنے بیمار بچوں کی ولادت کی امید لیے ریاست کے ایک "سرکاری ہسپتال" کی چوکھٹ پر آ گئے تھے؟ یہاں غریب ہونا، اور پھر سرکاری ہسپتال کا رخ کرنا، گویا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہو گیا ہے۔ ہم نے کیسے معاشرے کی بنیاد رکھ دی ہے جہاں شفا خانے مقتل گاہوں کا منظر پیش کر رہے ہیں؟
یہ صرف چند بچوں یا خاندانوں کا المیہ نہیں ہے، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ماتم ہے۔ ہم ایک ایس�� قوم بن چکے ہیں جس کی آنکھوں کا پانی مر چکا ہے۔ ہم روز ایک نیا سانحہ دیکھتے ہیں، چند دن سوشل میڈیا پر واویلا کرتے ہیں، اور پھر کسی نئے سانحے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے ہی قاصر ہو چکے ہیں کہ اس خاموشی اور بے حسی کی قیمت ہمیں اپنے بچوں کی جانوں سے چکانی پڑ رہی ہے۔
"جتنا سہو گے، اتنا تڑپو گے۔"
یہ ایک جملہ نہیں، بلکہ ہماری پوری قومی تاریخ کا تلخ ترین سچ ہے۔ ہم نے ظلم کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے، ہم نے احتساب مانگنا چھوڑ دیا ہے۔ جب تک ہم خاموشی سے یہ سب سہتے رہیں گے، ہمارے بچے یوں ہی سرکاری ہسپتالوں کی راہداریوں، سڑکوں اور گلیوں میں بے موت مرتے رہیں گے۔
خدا کے لیے جاگیے! اس سے پہلے کہ یہ آگ ہمارے اپنے گھروں تک پہنچے، اس بے حسی کی چادر کو اتار پھینکنا ہوگا۔ اگر آج ہم ان معصوموں کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے، تو کل تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ان معصوموں کا خون ہمارے مرے ہوئے ضمیروں پر ایک ایسا قرض ہے، جو شاید ہم کبھی نہ چکا سکیں۔
#پمزواقعہ