راحت اندوری کی غزل
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے
جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہ��انتا ہے
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے
اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کے
جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے
رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ
ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے
میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا
تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے
مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید
لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا میرے یار سمجھتے ہیں مجھے
نیک لوگوں میں نیک گنا جاتا ہے مجھے
اور گناہ گار, گناہ گار سمجھتے ہیں مجھے
#Yaad_e_Jani#Urdupoetry#Poetry
بےخبری اچھا عمل ھے
جب تک آپ حقیقت کی کڑواہٹ سے بے خبر رھتے ھیں
سکون میں رہتے ھیں
جب آپ اس کڑواہٹ کو اندر اتار لیتے ھیں۔ پھر سکون کی بجائے آپ خود کڑوے یا زہریلے ہو چکے ہوتے ھیں
احساس بدلتے دیر نہیں لگتی
لیکن اس بدلے ہوئے احساس کا احساس ھو جانا
روح اور احساس کی زندگی ضرور ختم کر دیتا ھے
،،،،🖤
سُکُونِ قَلب تُم سے ہے سُکُونِ جاں بهی تُم ہَو،
تَعَجُّب ہے کہ سِینے میں جَہاں دِل تها وَہاں تُم ہَو،
سَمائی ہے تَیری ہَستی مَیری ہَستی میں کُچھ اَیسے،
کہ لَگتا ہے کُچھ اَیسے اَب جَہاں مَیں ہُوں وَہاں تُم ہَو،
@EvvasaraabH#قومى_زبان