امریکہ چھوڑ کر پختونخوا آیا، عوام کی خدمت کے لیے۔
13 سال بعد نتیجہ یہ کہ ہیلتھ سسٹم مکمل طور پر تباہ۔
HMC کا بہترین سرجن بھی اب ادارے سے جا رہا ہے۔
یہ سب عمران خان کی حکومت اور ڈاکٹر برکی کے ذاتی مفادات کا نتیجہ ہے۔
قابل لوگوں کی یہاں کوئی قدر نہیں۔
جبکہ اسی نظام سے اقتدار، مراعات اور اربوں روپے کے منصوبوں سے وابستہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت نظرانداز کرنے سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں طالبان پی ٹی آئی کا "مسلح ونگ" تو نہیں؟؟ کیونکہ سیاسی پارٹیوں میں بھی طالبان کا نشانہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پی ٹی آئی مخالف ہیں۔۔
طالبان کے مطابق پاکستان کا موجودہ نظام غیر اسلامی یا "کفری" ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کے نزدیک پورا نظام ہی ناقابلِ قبول ہے، تو پھر ان کی کارروائیوں کا زیادہ تر نشانہ پولیس، سکیورٹی اہلکار اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کیوں بنتے ہیں،
جبکہ اسی نظام کے تحت حکومت کرنے والی سیاسی جماعت کے ، وزراء، ارکانِ اسمبلی اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کیوں محفوظ ہیں؟
اگر کسی پولیس اہلکار کی تنخواہ تیس یا چالیس ہزار روپے ہے اور وہ محض اپنی سرکاری ذمہ داری انجام دے رہا ہے، تو اسے "نظام کا محافظ" قرار دے کر قتل کرنا،
بدقسمت خیبرپختونخوا کے شاہی حکمران
مڈل کلاس کے وزیراعلی اور ان کی کمپنی کیلئے کھلے میدان میں ائیرکولر کا خصوصی بندوبست کیا گیا تاکہ مچھر انہیں نقصان نہ پہنچائے
بس اتنی سی کہانی ہے میرے پختونخوا کی
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں کل کے دہشت گرد حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہوں معصوم جانوں کا خون بہانا ناقابل معافی جرم ہے۔ دہشت گرد امن و خوشحالی کے دشمن ہیں اور انشاء اللہ اپنے مزموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ متاثرینِ دہشتگردی کو انصاف کی جلد فراہمی کے لیے دعا گو ہوں ۔
@aneelakhaled سیر و تفریح کیلئے ہیلی کاپٹر موجود لیکن غریب کی جان بچانے کیلئے ندارد۔
اگر سانحہ کوہستان 22.08.2022 سے سبق سیکھتے تو آج یہ نوبت نہ آتی
صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر بدقسمتی سے گزشتہ پندرہ سالوں سے صوبائی حکومت برائے نام ہے
دریائے سوات میں ڈوبنے والے معصوم لوگ آخری لمحے تک بے بسی کی تصویر بن کر یہ انتظار کرتے رہے کہ شاید کوئی انہیں بچا لے گا، مگر انہیں اندازہ نہ تھا کہ جن کی یہ ذمہ داری ہے، ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔
@Shiffa_ZY@aneelakhaled