والدِ محترم کے وڈیو کلپس بہت لوگ شیئر کر رہے ہیں اس تبصرہ کے ساتھ کہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ نے کئی سال قبل ” پیشنگوئی “ کردی تھی اور وہ بات درست ثابت ہورہی ہے۔
سب سے اہم بات جو لوگ نظر انداز کررہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے ان تمام حالات کو بیان کر کے انکا حل بھی تجویز کیا تھا۔
والدِمحترم رحمہ اللہ بار بار خبردار کرتے رہے کہ انفرادی اور قومی سطح پر اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست کرلو ورنہ اللہ کی طرف سے سزا کا معاملہ ہوگا۔ ہم اللہ کو ناراض کرکے کسی خوش فہمی میں نہ رہیں !
یہ کلپ میری درخواست ہے کہ اس کومکمل سنیں اور اسے جس حد تک ہو سکے شیئر کریں��
اللہ تعالئ ہمیں سمجھنے اور سنبھلنے کی توفیق دے۔ آمین
پیمرا اور متعلقہ اداروں کے نام کھلا خط
بحیثیتِ ایک طالب علم اور پاکستان بھر کے اہلحدیثوں کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے میں نہایت واضح الفاظ میں اس امر کی شدید مذمت کرتا ہوں کہ Green Entertainment کی جانب سے ��رامہ/سیریز “فسانہ مارٹ کا” کو “رمضان اسپیشل” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلامی اقدار اور رمضان المبارک کے تقدس کی کھلی بےحرمتی ہے۔
رمضان المبارک کوئی تفریحی سیزن یا مارکیٹنگ لیبل نہیں۔ یہ بابرکت مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبادت، تقویٰ، تلاوتِ قرآن، قیام، دعا اور اللہ سے قرب حاصل کر��ے کے لیے عطا کیا گیا ہے۔ یہ مہینہ نفس کی تربیت، حیا و پاکیزگی، اور ایمان کی تجدید سے منسوب ہے۔ ایسے مقدس مہینے کے نام کو ایک ایسے ڈرامے کے ساتھ جوڑ دینا جس میں رقص، ناچ گانا، اور غیر سنجیدہ تفریحی مناظر شامل ہوں، یہ عوام کے دینی جذبات کو مجروح کرنے اور رمضان کے روحانی پیغام کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
میں Green Entertainment سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس ڈرامے کو “رمضان اسپیشل” کہہ کر پیش کرنا بند کرے، اور اگر اس مواد میں رقص و موسیقی اور نامناسب تھیمز شامل ہیں تو انہیں فوراً حذف/ترمیم کیا جائے۔ ساتھ ہی متعلقہ ریاستی و ریگولیٹری اداروں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس مع��ملے پر نوٹس لیں اور رمضان کے نام پر اس طرح کی بےحیائی کو معمول بننے سے روکیں۔
رمضان کی حرمت ہمارے لیے ایمان کا معاملہ ہے۔ جو چیز رمضان کی روح سے ٹکراتی ہو، اسے “رمضان اسپیشل” کہنا صرف غلطی نہیں بلکہ قابلِ مذمت اور قابلِ اصلاح اقدام ہے۔
صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان
ڈاکٹر علامہ ہشام الہی ظہیر
Ex Senator Mushtaq Ahmad Khan released from Israeli detention. He reached Jordan. He said he faced torture from Israeli forces and as a protest he announced hunger strike in the prison. Israeli forces used dogs to bite him and denied all medical facilities. #GlobalSumudFlottila
🔶️ ٹرمپ کا منصوبہ یا فلسطینی ریاست کا انجام 🔶️
(حصہ اول)
▪️ اسرائیل کے ہر بحران میں دو اہداف رہے ہیں، خطرات کو ختم کرنا اور مزید زمینوں پر قبضہ کرنا! تاریخ حماس کے 7 اکتوبر حملوں کو کیسے دیکھے گی یہ تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں لیکن اسرائیل نے اسے اپنے اہداف کے لیے استعمال کیا ہے۔
▪️ یہاں شام کی مثال دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی بشار الاسد دمشق سے بھاگا، اسرائیل نے پہلا کام اپنے لیے خطرات کرنے ختم کرنے پر توجہ دی اور شام کی فضائی طاقت کو صفر کر دیا۔ اور شام کو تقسیم در تقسیم اور ا��ائیوں میں بانٹنے پر مسلسل کام کر رہا ہے۔
▪️ اس مثال کو دیکھتے ہوئے ہم فلسطین کو دیکھیں تو وہاں بھی یہی ہوا ہے، آبادکاری کے ساتھ فلسطین کو مغربی کنارے اور غزہ میں تقسیم کیا گیا۔ دو اکائیاں بنائی گئیں۔ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی، غزہ میں حماس حاکم تھی۔
▪️ غزہ کا علاقہ مصر سے جڑے ہونے کی وجہ سے اخوان المسلمین سے متاثر رہا ہے، یہیں سے فلسطینی مزاحمت کا آغاز ہوا اور اسرائیل کے لیے خطرات پیدا کرتا رہا ہے۔ حماس غزہ کی نمائندگی پارٹی تھی۔
▪️ اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ کو تقسیم کر رکھا تھا، الفتح اور حماس بھی ایک فلسطینی ریاست بنانے پر کبھی قائل نہیں ہو سکے ت��ے۔ اور آج صورتحال یہ ہے کہ نیتن یاہو کہتا ہے کہ غزہ کا دوبارہ انتظام فلسطینی اتھارٹی(الفتح کی مغربی کنارے میں قائم حکومت) کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی دوبارہ حماس یا غزہ کے لوگوں کو انتظام سنبھالنے دیا جائے گا۔ اس کا انتظام اسرائیل کی نگرانی میں چند عالمی فلسطینی پوپٹ سنبھالیں گے۔
▪️ ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ لکھ��ا پڑتا ہے کہ ہمیں 54 مسلمان ممالک کے اتحاد پر سوال اٹھاتے ہیں لیکن مغربی کنارے اور غزہ میں کوئی ایک ایسا رہنما نہیں اٹھا جس نے امن یا مزاحمت کے ساتھ ساتھ اتحاد کو بھی اپنی قوت بنانے کا اعلان کیا ہو۔ آج اسرائیل کی نظر میں دونوں ایک جیسے ہیں۔ زمینی صورتحال یہ رہی جب غزہ جل رہا تھا، مغربی کنارے میں کوئی مزاحمتی سرگرمی نہیں دیکھی گئی۔
▪️ اس سارے قضیہ میں لاکھوں معصوم فلسطینیوں نے اپنی جان اور مال کی قربانی دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی انسانی قوانین کو بھی سر عام قربان کر دیا گیا۔ اس نے ایک عالمی انسانی تحریک شروع کی ہے جس کے نتیجے میں مغربی حکومتیں تھوڑی حساسیت دکھا رہی ہیں لیکن ایک کمزور، تقسیم شدہ اور غیر مسلح فلسطینی اکائیاں بنا کر اسے فلسطین کا نام دینا، بہت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پائے گا۔
کیا ٹرمپ کے اس منصوبہ کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک اتنی سرسری بصیرت بھی عاری ہیں جو اسرائیل کی ذہنیت اور اس منصوبہ کو سمجھ سکیں؟ باقی عرب ممالک سے تو سوال نہیں، قطر خو مزاحمتی تحریک کا میزبان رہا ہے وہ ��ماس کے خاتمے کا پروانہ کیسے لکھ کر دے سکتا ہے؟ صدر ایردوان جو مزاحمتی قائدین کے قدموں میں بیٹھ کر جوان ہوئے، آج تک حماس کو اپنی زمینوں کا تحفظ کرنے والا گروہ قرار دیتے ہیں، وہ حماس کے خاتمے کو قبول کر لیں گے؟ کیا پاکستان جس کے بانی قائد نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا تھا، اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے والا معاہدہ کی تائید کر دے گا؟ اس موضوع پر حصہ دوم میں بات کرتے ہیں۔
https://t.co/94LLY8jCZU
سیرت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی تقاضے
۔ امیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ حفظہ اللہ
19 ستمبر 2025
ایوان اکبری ۔ نزد پاک عرب سوسائٹی ۔ فیروزپور روڈ ۔ لاہور
#rabiulawwal#Pakistan#flotillaglobalsumud
🚨 Gaza Alert 🚨
Israeli occupation forces killed 5 Palestinian civilians & injured many in Deir al-Balah via drone strike. Under the guise of “collateral damage,” Gaza faces relentless attacks while media access is blocked & journalists targeted.
#Gaza#StopIsraeliOccupation
جب کسی قوم کے حکمران کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معطل کر دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان خانہ جنگی برپا کر دیتے ہیں ۔ حدیث نبوی
تنظیم اسلامی کی ملک گیر مہم ۔ اتحاد امت اور پاکستان کی سالمیت ( یکم اگست تا 22 اگست 2025 )
جوئے لینڈ کو دوبارہ ریلیز کیا جا رہا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف اس کو روکا جائے بلکہ اس کے بنانے والوں، فنانس کرنے والوں اور سارے متعلقہ لوگوں کے خلاف پاکستان کے قانون کے مطابق کاروائی کرے۔
اسرائیل ٫ امریکہ ٫ بھارت کا ابلیسی اتحاد ٫ علاج مسلم ممالک کا اتفاق و اتحاد - تنظیم اسلامی کی ملک گیر مہم ۔ اتحاد امت اور پاکستان کی سالمیت ( یکم اگست تا 22 اگست 2025 )
امت مسلمہ کے اتحاد اور عروج کا راستہ قرآن کریم کو تھام کر صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی جد و جہد -
تنظیم اسلامی کی ملک گیر مہم ۔ اتحاد امت اور پاکستان کی سالمیت ( یکم اگست تا 22 اگست 2025 )
وقار کے ساتھ موت کے گھاٹ تک گئی، گڑگڑائی نہ زندگی کی بھیک مانگی ، جلادوں سے گھبرائی نہیں ، متانت سے بولی “ ہاتھ مت لگاؤ صرف گولی کی اجازت ہے” ۔۔۔ شیتل بھی بہادر تھی اور اس کا انتخاب “ زرک “ بھی ۔۔