امجد اسلام امجد
دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
ہجر کے دوراہے پر ایک پل نہ ٹھہرا وہ
راستے بدلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
آنکھ سے نہ ہٹنا تم آنکھ کے جھپکنے تک
آنکھ کے جھپکنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے
بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
خشک بھی نہ ہو پائی روشنائی حرفوں کی
جان من مکرنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
فرد کی نہیں ہے یہ بات ہے قبیلے کی
گر کے پھر سنبھلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
درد کی کہانی کو عشق کے فسانے کو
داستان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
دستکیں بھی دینے پر در اگر نہ کھلتا ہو
سیڑھیاں اترنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
خواہشیں پرندوں سے لاکھ ملتی جلتی ہوں
دوست پر نکلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
عمر بھر کی مہلت تو وقت ہے تعارف کا
زندگی سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
رنگ یوں تو ہوتے ہیں بادلوں کے اندر ہی
پر دھنک کے بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
ان کی اور پھولوں کی ایک سی ردائیں ہیں
تتلیاں پکڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
زلزلے کی صورت میں عشق وار کرتا ہے
سوچنے سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
بھیڑ وقت لیتی ہے رہنما پرکھنے میں
کاروان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کا
حسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
مستقل نہیں امجدؔ یہ دھواں مقدر کا
لکڑیاں سلگنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
#اردو_زبان
مرے ہم سفر، تجھے کیا خبر!
یہ جو وقت ہے کسی دُھوپ چھاؤں کے کھیل سا
اِسے دیکھتے، اِسے جھیلتے
مِری آنکھ گرد سے اَٹ گئی
مِرے خواب ریت میں کھو گئے
مِرے ہاتھ برف سے ہو گئے
مِرے بے خبر، ترے نام پر
وہ جو پُھول کھلتے تھے ہونٹ پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر،
وہ نہیں رہے
وہ نہیں رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں وہ بکھر گیا
وہ ہَوا چلی
کسی شام ایسی ہَوا چلی
کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں، وہ گرا دیئے
وہ جو حرف درج تھے ریت پر، وہ اُڑا دیئے
وہ جو راستوں کا یقین تھے
وہ جو منزلوں کے امین تھے
وہ نشانِ پا بھی مِٹا دیئے!
مرے ہم سفر، ہے وہی سفر
مگر ایک موڑ کے فرق سے
ترے ہاتھ سے مرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اُسے ناپتے، اُسے کاٹتے
مرا سارا وقت نکل گیا
تو مِرے سفر کا شریک ہے
میں ترے سفر کا شریک ہوں
پہ جو درمیاں سے نکل گیا
اُسی فاصلے کے شمار میں
اُسی بے یقیں سے غبار میں
اُسی رہگزر کے حصار میں
ترا راستہ کوئی اور ہے
مرا راستہ کوئی اور ہے
(امجد اسلام امجد)
#اردو_زبان
کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کے
آتی ہے جان من یہ قیامت کبھی کبھی
تنہا نہ کٹ سکیں گے جوانی کے راستے
پیش آئے گی کسی کی ضرورت کبھی کبھی
ساحر لدھیانوی
#اردو_زبان
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ❤️
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبیں افسردہ افسردہ، قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
غلامانِ محمّدﷺ دُور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ
کہاں میں اور کہاں اُس روضۂِ اقدس کا نظارہ
نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
پروفیسر سید اقبال عظیم
السلام عیلکم
بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بے قرار اُسے پکارتا ہے تو وہ اُس کی دُعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دُور کردیتا ہے، اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللّٰهﷻ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ نہیں! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
﴿سورۃ النمل، ۶۲﴾
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں
سُورَةُ النَّحۡلِ - 20
لوگو! ایک مثال بیان کی جارہی ہے، اب اُسے کان لگاکر سنو! تم لوگ اللہ کو چھوڑکر جن جن کو دُعا کے لئے پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، چاہے اس کام کے لئے سب کے سب اِکٹھے ہوجائیں، اور اگر مکھی اُن سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اُس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔
﴿الحج، ۷۳﴾
وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ
اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں
سُورَةُ الأَعۡرَافِ - 197
ایک بار کسی نے مصری ناول نگار، نوبل ایوارڈ یافتہ مصنف نجیب محفوظ سے ان کی زندگی کے آخری ایام میں سوال کیا:
"زندگی کے طویل سفر میں، آپ کو کس چیز پر پچھتاوا ہے؟"
نجیب محفوظ نے جواب دیا:
"زندگی میں کسی شے پر پچھتاوا نہیں، مگر دل میں ایک کسک ضرور ہے اُن لمحوں کی، جو میں نے اپنی خواہشوں کے مطابق جینے سے باز رہ کر گزار دیے، صرف اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے۔"
ترجمہ: اسداللہ میر الحسنی
منقول
کچھ لوگ!!!
جو ہم سے بچھڑے ہیں
وہ لوگ نہیں تھے گنوانے کے
وہ لوگ تو ایسے رہبر تھے
جو راہ دِکھا کر چلے گئے
وہ لوگ تو جیسے ہیرا تھے
جو گِرتے ہی کھو جاتے ہیں
وہ لوگ تو ایسے خزانے تھے
جو کھلتے ہی چھن جاتے ہیں
وہ لوگ تو ایسا زیور تھے
جسے مٹی تلے چھپاتے ہیں
وہ لوگ تو ایسے اثاثے تھے
👇
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم
اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے
یہ محبت کو اپنی گوارا نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو
دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں
دی صدا دار پر اور کبھی طور پر
کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ
صاف کہہ دو کہ ملنا گوارا نہیں
گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقیناً سنے گا صدائیں مری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں
اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹا لیجئے
میرا ذوقِ نظر آزما لیجئے
آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر
یا تو نظریں نہیں یا نظارہ نہیں
جانے کس کی لگن کس کی دھن میں مگن
ہم کو جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی
پھر بھی کہتے ہو ہم نے پکارا نہیں
استاد قمر جلالوی
مومن خاں مومن کی لازوال غزل
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شام
شب فراق کے گیسو فضا میں لہرائے
کوئی پکارو کہ اک عمر ہونے آئی ہے
فلک کو قافلۂ روز و شام ٹھہرائے
یہ ضد ہے یاد حریفان بادہ پیما کی
کہ شب کو چاند نہ نکلے نہ دن کو ابر آئے
صبا نے پھر در زنداں پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے
فیض احمد فیض
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو
جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو
انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف
چوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گے
پھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیں
اب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیں
لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گے
ان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
ورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گے
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی......
کفیل آزر امروہوی
@UrduVirsa تونے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے