حیدرآباد سے واپسی پر میرے اور میری ٹیم کے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں۔ پچھلے ۴ گھنٹوں سے مختلف راستے تبدیل کر چکا ہوں۔ ابھی 4:23 پر سُنسان سڑک پر آکر کراچی کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ سندھ حکومت میرے ساتھ ساتھ میری ٹیم کی زندگی کے ساتھ بھی کھیل رہی ہے۔
جو روایات ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہے یہ مستقبل قریب میں نقصاندہ ثابت ہوگی۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس میں نفرتوں کو اتنا مت پھیلائیں جس سے پھر واپسی ممکن نا ہو۔ جعلی جمہوری قوتیں اس میں کوئی کثر بھی نہیں چوڑ رہی ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے۔
آپٹکس میٹر کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی اور ان کی ینگ ٹیم نے جو آپٹکس کری ایٹ کیے ان سے کارکنوں میں جان پڑی ہے اور پیپلز پارٹی نے جو آپٹکس کری ایٹ کیے ان سے " ن اسٹیبلشمنٹ گٹھ جوڑ " پر مزید مہر لگی ہے ۔ پیپلز پارٹی نے نیک نامی کمائی ہے۔ سعید غنی نے ائر پورٹ پر جا کر پی ٹی آئی مہمانوں کو ریسیو کرکے اچھی مثال قائم کی ہے۔
تاریخی مناظر
وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کا قافلہ جہاں جہاں سے گزر رہا ہے خواتین گھروں کی چھتوں پر ، مرد گھروں سے باہر نکل کر وزیر اعلٰی کے قافلے کا استقبال کررہے ہیں
یاد رہے یہ عام عوام ہے نا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ کراچی آمد۔ کراچی جاگ چکا ہے۔
انصاف ہاؤس کے طرف رواں دواں۔ سینئر قیادت سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سندھ صدر حلیم عادل شیخ بھی ہمراہ ہے۔
پیپلزپارٹی کے سعید غنی نے وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی کا کراچی پہنچنے پر استقبال کیا اور انہیں سندھی اجرک اور ٹوپی پہنائی۔
یہ ایک اچھا Gesture ہونے کے ساتھ مریم نواز کی ناجائز پنجاب حکومت کے منہ پر تماچہ بھی ہے جس نے گھر آئے مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کر کے پنجاب کو شرمندہ کیا تھا۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر پیپلزپارٹی کے راہنما سعید غنی نے استقبال کرتے ہوئے سندھی اجرک پہنا کر اچھی روایت قائم کی ، اسکو جمہوریت کہتے ہیں
وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا کراچی پہنچنے پر حکومت سندھ کی جانب سے استقبال کیا۔ وزیر اعلی اور انکے ہمراہ آنے والے کابینہ ارکان کو اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی۔
DGISPR صاحب !
ویسے اپنی سیاسی پارٹی کا نام تو بتا دیں ، کیونکہ آج کی پریس کانفرنس سے ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ آپ نے باقاعدہ طور پر سیاسی پارٹی کا اعلان کر دیا ہے ، اتنے الزامات کسی اور سیاسی پارٹی نے نہیں لگائے ہیں جو آج آپ نے لگائے ہیں اور وہ آرٹیکل نمبر بھی بتا دیں جس میں کسی بھی آرمی چیف یا ترجمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت کر سکتے ہیں !
تم سب بے حیا اور بے ضمیر لوگ ہو جس بے رحمی اور درندگی کے ساتھ تم نے میری انگلی توڑی تھی اس سے کہیں بہتر تھا کہ تم کھلے عام لاٹھی چارج ہی کر دیتے میں تم لوگوں سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہوں تم سب سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی افعال کے مرتکب ہو اور تاریخ تمہارے اس ظلم اور جبر کو کبھی فراموش نہیں کرے گی
یہ لیجئے۔ عمران خان پر جو 190 ملین پاؤنڈز کا کیس بنا رکھا ہے، وہ پیسہ اج تک عمران خان نے تو استعمال ہی نہیں کیا۔ وہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں امانت رہا۔
جبکہ شہباز رانا کی خبر کے مطابق، اب وہی پیسہ شہباز شریف اپنے پراجیکٹس میں استعمال کریں گے۔
مریم نواز ایک طبقہ کی نمائندگی کر رہی ہے جس دن ہمیں مینار پاکستان جلسے کی اجازت مل گئی دو گھنٹوں میں ثابت کر دیں گے کہ ہم عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں ہم مریم نواز کو چیلنج نہیں کر رہے مریم نواز کو عوام نے چیلنج کر رکھا یے۔
اویس یونس
میو ہسپتال لاہور میں ڈاکٹر فیصل مسعود کے ساتھ مریم نواز کے ہتک آمیز سلوک کی شدید مذمت کرتے ہیں
ہتک امیز رویہ دراصل ایک ڈاکٹر نہیں تمام ڈاکٹرز اور وائٹ کوٹ کی تکریم کے خلاف تھا۔
ڈاکٹر شعیب نیازی
صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی کا بیان
پاک فوج کے سجیلے جوان فائرنگ کی بوچھاڑ میں عوام کی گاڑیاں توڑتے ہوئے، تنخواہیں اور سہولیات ان سجیلے جوانوں کو اسی عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے ملتی ہے۔
#IslamabadMassacre#IslamabadMassacre
https://t.co/ZFPDebHNxC
”حکومت کا یہ دعویٰ کہ گولی نہیں چلی، جھوٹ ہے، اب تو اندھا، بہرہ بھی مان چُکا کہ گولی چلی اور شہادتیں بھی ہوئیں۔ ذمہ دار وہی ہیں، جنہوں نے گولیاں چلائیں اور چلوائیں۔ ڈی چوک جانا غلط نہیں، ڈی چوک کوئی انڈیا کی بارڈر لائن نہیں کہ جو کراس ہونی تھی تو گولیاں چلنی تھیں۔ کہتے ہیں کہ اُنکے پاس اسلحہ تھا، جی اسلحہ تھا، کیا؟ عمران خان کی تصویر، پی ٹی آئی کا جھنڈا، بُھنے ہوئے چنے اور جیب میں 5 سو یا ہزار کا نوٹ اُن کا اسلحہ تھا۔“ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
#اسلام_آباد_قتل_عام
#IslamabadMassacre