This is what the corrupt & murderous cabal of crooks have wrought on the nation. They have violated our Constitution, fundamental rights & rule of law. Innocent, unarmed PTI workers, incl women, were targets of police violence & brutality with one worker murdered while in custody
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
صرف 10% مہنگائی پر محمد مالک وزیراعظم عمران خان کا گریباں پکڑ رہا تھا
لیکن آج 458 روپے فی لیٹر پٹرول اور 50% مہنگائی پر گیدڑ کی طرح خاموش ہے
اسے کہتے ہیں بکاؤ میڈیا اور لفافے 🖐🏿
”یہ کہتے ہیں ہم پر کیسے آئے گا آنکھ میں کوئی ڈنڈا سوٹا یا پتھر تھوڑی لگا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں عمران خان سے ڈاکٹر، رشتے دار اور وکلاء سے ملاقات بند کرنے کا سلسلہ کوئی 60 روز قبل شروع ہوا،وہ دو ماہ سے قید تنہائی میں ہیں“۔ بیرسٹر اعتزاز احسن
آپکو پتا ہے لطیف کھوسہ نے آج ہی دعوہ کیا تھا کہ آج عمران خان رہا ہو جائے گا ! لیکن جج نے جب جیل رولز پوچھے تو کہتا ہے مجھے وقت دیں میری تیاری نہیں ! اور اہم بات لطیف کھوسہ یہ کیس لڑنے کی فیس کروڑوں میں لے رہا ہے
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔
یاد رکھو!
خود کو دھوکہ دینے سے کوئی فائدہ نہیں، فیصلہ سڑکوں پر ہی ہونا ہے۔
پھر کل۔کا انتظار کیوں؟ آج کیوں نہیں - نکلو عمران خان کے لئے، نکلو پاکستان کے لئے
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کو 7 مارچ 2022ء کو بلا کر دھمکایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کو ہٹایا جائے ورنہ سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اگلے ہی دن 8 مارچ کو عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں جمع کروا دی جاتی ہے۔ سابق آرمی چیف باجوہ نے عمران خان کی کمر میں چھڑا کھونپا، بعد میں حالت یہ ہوئی کہ خود کو آرمی چیف کہلوانے سے ڈر رہا تھا۔“
قاسم خان سوری
@QasimKhanSuri
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔