قوموں کی سوچ کا دھارا بدل دینے والے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ لوگ اکثر ذاتی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور مشہور ہوجاتے ہیں، مگر وہ جو اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اپنے پسماندہ طبقے کے لوگوں کی فلاح سوچیں اور قوم کے سوچنے کے انداز کو تبدیل کردیں وہ اصل فاتح ہوتے ہیں۔
عمران خان وہ فاتح انسان ہے۔
اور اسکا واسطہ کم ظرف مخالف سے ہے۔
#ReleaseImranKhan
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے
“عمران خان سے وفا کے جرم” میں آج لاہور کے آٹھویں جھوٹے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید صاحب کو مزید 23-23 سال کی سزائیں سنا دی گئیں۔
اب تک دی گئی جھوٹی سزائیں:
ڈاکٹر یاسمین راشد: 286 سال
سینیٹر اعجاز چوہدری: 286 سال
عمر سرفراز چیمہ: 286 سال
میاں محمود الرشید: 274 سال
انکے علاوہ بھی 4 اور ورکرز کو بھی آج سزائیں سنائی گئیں جو وقوعہ کے دن تھے جیل میں تھے۔
اس کیس میں مدعی نے خود بتایا کہ نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی یہ چاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں۔
#PakistanUnderFascism
🧵Part 1/n
“یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners
افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عمران خان نے عام پاکستانیوں کو علاج کیلئے 10 لاکھ دیے لیکن بد قسمتی سے آج جیل میں اس کی آنکھ کا مسئلہ ہے ، بیماری کی حالت میں ہیں ہم اتنے ظالم ہیں کہ اس کو علاج کیلئے نہیں لے کر جاسکتے ۔شاہد خٹک
لیول پلینگ فیلڈ
آج جب میں، سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا گلگت بلتستان پہنچے تو انتظامیہ نے ہمیں اندر جانے سے روک دیا، پولیس کی گاڑیاں ہمیں واپس کے پی تک چھوڑ کر آئیں ، ہمیں صوبہ بدر کر دیا گیا، دوسروں کو پروٹوکول دیے جا رہے ہیں اور ہمارے ساتھ یہ رویہ ہے
گلگت بلتستان الیکشن مہم کے دوران ہمارے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور پنجاب کی دیگر قیادت کو روکا گیا۔ نواز شریف اور بلاول بھٹو گلگت بلتستان میں ہیں، جبکہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں، جن کا نام بھی کوئی نہیں جانتا، وہ بھی وہاں موجود ہیں۔ تحریک انصاف کو اپنے آئینی اور قانونی حق سے روکا جا رہا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کے پاس حکومت ہوگی۔ کیا عوام یہ فیصلہ کریں گے، یا مقتدرہ کے چند لوگ آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔ محمود خان اچکزئی کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کرتا ہوں۔ حکومت کا ظلم، بربریت اور فاشسٹ رویہ قابلِ مذمت ہے، یاد رکھیں کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا، انصاف کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں قانون، آئین اور عوام کی حکمرانی کو موقع دیا جائے۔ اگر ایسے الیکشن کرانے ہیں تو مجلسِ شوریٰ بنا کر سلیکشن کر لیں۔ یہ الیکشن نہیں، بہت بڑا فراڈ ہے۔ اگر اس طرح الیکشن ہوں گے تو انہیں کون مانے گا۔ الیکشن کا اختیار گلگت بلتستان کے عوام کے پاس ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ان کے نمائندے کون منتخب کرے گا۔ گلگت بلتستان کے عوام عمران خان سے اظہارِ یکجہتی کریں۔ عمران خان ملک میں آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود ایک قومی رہنما کی طرح بات کرتے ہیں، جبکہ نواز شریف اور ان کا خاندان اقتدار میں ہو کر بھی ایسے گفتگو کرتا ہے جیسے وہ قیدی ہوں
گلگت بلتستان میں پری پول دھاندلی کی کوششیں، کارکنوں کی گرفتاریاں اور سرکاری وسائل کا استعمال عوام سے چھپا نہیں۔ بلاول بھٹو اور نواز شریف جتنی مرضی کوشش کر لیں، جی بی کے عوام باشعور ہیں اور حقائق کو خوب سمجھتے ہیں
گلگت بلتستان کے لوگوں کو صرف ایک ووٹ ڈالنا ہے — عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے حق میں۔ کیونکہ جی بی کے عوام عمران خان سے محبت کرتے ہیں، اور یہ محبت کسی دھاندلی یا دباؤ سے ختم نہیں ہو سکتی
“رجیم چینج کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے۔ یہ بات تکلیف دہ ہے کہ اس مرتبہ صاحبِ حیثیت لوگوں کے پاس بھی ایک بکرے کی قربانی کرنے کی سکت تک موجود نہیں تھی، انھوں نے مشکل سے سنت ابراہیمی کی تکمیل کی۔ غریب طبقے کی کمر تو پہلی ہی توڑی جا چکی ہے۔
اب یہ جعلی حکومت بجٹ پیش کرنے لگی ہے جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اس بجٹ میں پھر سے دو طبقات کچل دیئے جائیں گے ایک ملازم پیشہ افراد اور دوسرا کسان۔ اس جعلی حکومت نے زرعی معیشت اور کسان کی کمر توڑ دی ہے۔کسی زرعی ملک میں کسان کے بدحال ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہاں بے روزگاری میں اضافہ اور قوت خرید میں کمی واقع ہو گی۔ انڈسٹری پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔
چھبیسویں ترمیم کے بعد اب ستائیسویں ترمیم لانے کی تیاری ہے تاکہ انصاف مکمل طور پر دفن کر دیا جائے اور عوام مزید مایوس ہو جائیں۔ پہلے دن سے ان کا مقصد ہمیں خوفزدہ کرنا اور عوام کی آواز کو دبانا ہے۔ اسی لیے نو مئی کروایا گیا۔ مجھے کہا جاتا ہے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا مطالبہ نہ کروں اور نو مئی کی ذمہ داری قبول کر لوں اور اس 17 سیٹوں والی جعلی فارم 47 کی حکومت کو مان لوں۔ میری ساری جدوجہد کا مقصد ہی قانون اور آئین کی بالادستی ہے۔
ہمارے سارے آئینی و قانونی راستے بند کر دیئے ہیں اس لئے میں نے پارٹی کو ملک گیر تحریک کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے۔
مینڈیٹ میرا نہیں آپ کا چھینا گیا ہے، آپ سب کو اس تحریک میں شامل ہونا ہو گا۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے بحیثیت قوم جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کے منشور اور نظریہ کو دیکھتے ہوئے ہمیں ووٹ دیئے اور خیبر پختونخواہ میں ہماری جو حکومت بنی ہے وہ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتی ہے۔ میں نے علی امین کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ میری مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش نہیں ہو گا-“
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو۔۔۔ ۱۰جون ۲۰۲۵
"سابق آرمی چیف کیوں ملنے جائے گا عمران خان کو؟ یہ عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، بیرسٹر گوہر نے کہا یہ بات بالکل جھوٹ ہے ۔ ان کو جب لگتا عوامی ٹمپریچر بڑھ رہا یہ ڈیل کی باتیں پھیلانا شروع کردیتے کوئی ڈیل نہیں ہورہی"۔ @Aleema_KhanPK
مجھے بھی بہت آفرز دی گئیں کہ تمہیں ایم این اے بنا دیں گے تمہیں وزیر بنا دیں گے تم کیا چاہتے ہو یہ پاکستان کا جھنڈا ہمیشہ رہے گا عمران خان ہمیشہ نہیں رہے گا اس سے پہلے بھی جو آئے وہ بھی چلے گئے تم شخصیت پرستی چھوڑ دو تم پاکستان کو دیکھو فوج ہمیشہ رہے گی، یہ (ملٹری اسٹیبلشمنٹ) اس طرح کی باتیں ہر ایک کو کرتے ہیں انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میں ان کی باتوں میں آ جاؤں لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ لوگوں کو صرف اور صرف خریدتے ہیں، بازار میں جس کی قیمت لگ جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی یہ ہمیشہ سے عمران خان نے ہمیں سمجھایا ہے اور سکھایا ہوا تھا، میں نے ایک نظریہ کی وجہ سے سیاست شروع کی اور آج اللہ کا شکر ہے کہ اسی نظریہ پر کھڑا ہوں چاہے جلا وطنی میں ہوں جتنی بھی مشکلات گزری ہیں لیکن جب عمران خان کو دیکھتا ہوں کہ ایک ہزار اکتیس دن ہو گئے ہیں وہ شخص جو پاکستان کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہے تمام مسلمان امہ انہیں چاہتی ہیں ان کے لیے دعائیں کرتی ہیں وہ اتنی مصیبت میں ہیں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں بجلی نہیں ہوتی ٹیلیویژن نہیں ہوتا خبروں تک رسائی نہیں ہے لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا انہیں آنکھ کی تکلیف ہے گند میں مکھیاں مچھروں میں وہ رہ رہے ہیں لیکن ٹوٹ نہیں رہے عاصم منیر کی جو یزیدیت ہے اس کے آگے وہ سر نہیں جھکا رہے تو یہ ہمیں حوصلہ دیتی ہے، میری خیبر پختونخواہ کے تمام ایم پی ایز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے عمران خان کے نام پر تمہیں ووٹ پڑے ہیں تم ایم پی اے بن گئے ہو وزیر بن گئے ہو اور اللہ نے عزت دی ہے تو یہ آپس کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کو چھوڑ کر آپ سب کو چاہیے کہ ایک ایجنڈے پہ آئیں اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
خیبرپختونخوا کے عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا بجٹ عمران خان کی سوچ کے مطابق ہو۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ بجٹ 2026/26 پیش کرنے سے پہلے اپنے قائد عمران خان سے مشاورت کریں اور ان کے ویژن کے مطابق بجٹ پیش کریں۔ ہم نے ملاقات کی کوشش کی مگر اجازت نہیں دی گئی، اس لیے عدالت میں آئے ہیں کہ عدالت مداخلت کرے اور ملاقات کروائے۔
عمران خان کی آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد جا چکی ہے۔ ان کا نہ علاج کروایا جا رہا ہے نہ فیملی و رفقاء کو ملنے دیا جا رہا ہے۔ یہ صرف عمران خان کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ ان اداروں کے ساتھ بھی زیادتی ہے جنہوں نے ہر ہفتے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
گلگت بلتستان نے پیغام دے دیا:
عوامی مینڈیٹ دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا!
عمران خان کی جدوجہد آج بھی لوگوں کے عزم اور حوصلوں میں زندہ ہے۔
آخر کب تک عوام کی آواز کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا؟
#گلگت_بلتستان_کپتان_کا