پاکستانی عوام کا نمائندہ کون ہے ؟
اب روف کلاسرہ بتا رہے کہ ضرار ہاشم کو ٹیلی کام سیکٹر سے لا کر سیکٹری آئی ٹی اور کمیونیکیشن لگایا گیا ہے یہ جاز اور دیگر موبائل کمپنیوں میں جاب کرتے رہے وہ متنازعہ ترین قانون غالبا انہوں نے ڈرافٹ کیا ہے
کیسا ملک ہے شوگر مل مالکان شوگر کی پالیسی بنا رہے نجی بجلی گھروں والے بجلی کی پالیسی اور فون کمپنیاں اپنے بندے سے قانون بنوا رہے
اگر یہی بات کسی غریب صحافی نے کی ہوتی تو آج اسکو معذرت کرنے کے باوجود بھی ٹی وی چینل سے ہٹا دیا جاتا، سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں بلا کر دھمکیاں دی جاتیں، اس پر مقدمے درج ہوتے
لیکن چونکہ یہ بات حامد میر کر رہا پے، اسلئے پاکستان میں مکمل خاموشی ہے۔
آئیں ان سب پر لعنت بھیجیں۔۔۔۔۔ جب بھی آپ پیٹرول یا ڈیزل ڈلوائیں یا مئی کا بجلی کا بل ادا کریں تو ان چاروں شخصیات کے آبائو اجداد، آل اولاد اور انکی بدترین گورننس کا دفاع کرنے والوں کے آبائو اجداد اور آل اولاد پر لعنت ضرور بھیجئے گا، انہیں بد دعائیں ضرور دیجئے گا۔۔۔۔
اس ملک میں ریٹارڈ ججوں تک کو 500لیٹر تیل مفت ملتا حاضر سروس منسٹر اور باقیوں کا تو حساب ہی نہی تو ان کی بلا سے ہزار روپے لیٹر ہو انہوں نے کونسا خریدنا ہے ؟
کیا جنگ کے بعد پیٹرول کی شارٹیج کے بعد ان کا دس لیٹر بھی پیٹرول بند ہوا ہے؟