میں اگر ن لیگ کی سربراہ ہوتی تو نقوی کے بیان کے بعد اگلے دن ہی اسمبلی کا اجلاس بلوا کو پورے ملک میں نئے صوبوں کی قرارداد پیش کردیتی۔
پی پی اور نقوی کی اسی وقت پھٹ کے گلے میں آجانی تھی
نوجوانوں سے ایک اہم اپیل!
آج کل ہمارے علاقے میں 40,000 سے 70,000 روپے تنخواہ، مفت ہاسٹل، مفت کھانا اور فوری نوکری کے نام پر جگہ جگہ پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔
میں نے خود اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اسلام آباد جا کر معلومات حاصل کیں۔ میری معلومات کے مطابق پہلے یہ Tiens Company کے نام سے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے تھے، بعد میں انہوں نے نام تبدیل کرکے Health & Education رکھا، شاھد اب تیسرا نام بھی رکھا ھو لیکن طریقۂ واردات وہی پرانا ھے۔
یہ لوگ پہلے 6,000 روپے رجسٹریشن کے نام پر لیتے ہیں، پھر دو دن کی ٹریننگ کروائی جاتی ہے اس کے بعد مختلف بہانوں سے 30 سے 40 ہزار روپے یا اس سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا کہا جاتا ہے۔ بعض متاثرہ افراد کے مطابق جب وہ اپنی رقم واپس مانگتے ہیں تو انہیں مزید سرمایہ لگانے کا کہا جاتا ہے، اور آخرکار وہ اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.
اس نظام میں شامل افراد کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ مزید لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کریں اور نئے گروپ بنائیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ جتنے زیادہ افراد وہ لائیں گے، ان کے "اسٹار" یا درجہ اتنا ہی بڑھے گا، زیادہ آمدنی ہوگی، اور مستقبل میں بیرونِ ملک مواقع بھی مل سکتے ہیں۔ انکو سہانے خواب دیکھائے جاتے ہیں جو کہ محض دھوکہ دہی ہے ، اسی امید میں بعض نوجوان اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس وقت بھی متعدد نوجوان اس نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق انہیں اس قدر قائل کیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے اور ہر تنقید کو غلط سمجھتے ہیں۔
یہ لوگ بہت پروفیشنل ھوتے ھیں وہ آپ کو ایسے مجبور کرتے ہیں کہ آپ کو اندازہ بھی نہیں ھوجاتا کہ وہ آپ کو لٹ رھے ھیں اور یہ اکثر نوجوان طبقے کو نشانا بنا رھے ھیں جن کی عمریں 18 - 30 سال تک ھیں بعض اوقات تو 35 سال تک بھی پھنسا چکے ہیں.
⚠️ اس پوسٹر پر درج نمبر پر رابطہ کرنے سے بالکل گریز کریں، پہلے ضرور تحقیق کریں۔ کوئی بھی ادارہ نوکری کے نام پر رقم یا سرمایہ کاری کا مطالبہ کریں تو انتہائی محتاط رہیں اور فوراً وھاں سے کوئی بہانا کرکے نکل جائیں۔۔
آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی بچا سکتی ہے۔
یہ کمانڈر فاروق کی جیپ سے گر کر زخمی ہونے کے بعد کی ویڈیو ہے دوسری طرف
یوتھیے اور ڈوگرے کہ رہے ہیں کمانڈر فاروق فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ہے،،،،مطلب روڈ ایکسیڈنٹ میں مرے بندے کی موت کو بھی فورسز کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں یہ بے شرم
#سرداری_نظام_نہیں_چلے_گا#حق_سے_پہلے_فرض
🚨🚨 اہم ترین ویڈیو سامنے آگئی، پروپگینڈہ دم توڑ گیا، عوامی ایکشن کمیٹی کے دہشتگرد کمانڈر فاروق کے حادثہ کا ملبہ سیکیورٹی اداروں پر ڈالتے رہے لیکن جس دن حادثہ ہوا اس دن ویڈیو ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر لگائی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کمانڈر فاروق گاڑی سے گرے، ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے غنڈوں پر لعن طعن جاری
آزاد کشمیر کی صورتحال پر جعلی تصاویر شیئر کرنا دراصل اپنے ہی مقدمے کو مشکوک بنانے کے برابر ہے۔ گزشتہ روز سے ایک تصویر وائرل کی جا رہی ہے جسے آزاد کشمیر کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ یہ تصویر وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک فوجی آپریشن کی ہے اور اکتوبر 2025 میں ایک پشتو ویب سائٹ پر تفصیلی خبر کے ساتھ شائع ہوئی ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں پر گولیاں چلیں اور انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جو قابلِ مذمت ہے۔ لیکن جب حقیقی واقعات کے ساتھ جعلی تصاویر یا گمراہ کن معلومات شامل کر دی جاتی ہیں تو اصل متاثرین کی آواز بھی مشکوک ہو جاتی ہے اور انصاف کا مطالبہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگر آپ واقعی آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں تو اپنے مؤقف کو جھوٹ یا فیک تصاویر سے نہیں، بلکہ مستند معلومات کے ساتھ مضبوط کریں۔ سچ خود اتنا طاقتور ہے کہ اسے جھوٹ کا سہارت کی ضرورت نہیں پڑتی۔
کامران الیاس زندہ ہے ۔۔۔
جن کا تعلق ضلع کوٹلی سے ہے ۔۔۔
سوشل۔میڈیا پر پولیس ۔کی فائرنگ سے قتل کی خبریں گردش کر رہی تھی آج اچانک مردہ زندہ ہو گیا اور ویڈیو بیان جاری کر دیا
میں زندہ ہوں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔ ساری خبریں بےبنیاد ہیں ۔۔۔۔
سوشل۔میڈیا پر چلنے والی 99% جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں شہری احتیاط کریں ۔۔۔ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے تحقیق ضرور کریں ،
پشاور یونیورسٹی کے اسٹیج پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جب سٹوڈنٹس سے عمران خان کے لئے تالیاں بجانے کا کہا تو کچھ خاص جوش نظر نہیں آیا،سہیل آفریدی نے اپنی طرف سے طنزیہ کہا اسٹبلشمنٹ کے لئے تالیاں بجاؤ گے،سٹوڈنٹس نے اتنے جوش و خروش سے تالیاں پیٹیں کہ وزیر اعلیٰ حیران رہ گئے
پاسداران جلاب کے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا اندازہ کیجئے یہ روات، راولپنڈی میں سبزی منڈی میں لگنے والی آگ کی وڈیو سعودی عرب میں ائیر بیس پر ایرانی مزائلوں کے حملوں سے جوڑ رہے ہیں، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے.
سعودی عرب میں ہنڈا سی ڈی 70 پر لوگ سڑک سے گزر رہے ہیں.
منیر نیازی اپنے ایک شیعہ دوست کے ہمراہ ایک مجلس میں شریک ہوئے۔
جب ذاکر نے مصائبِ اہلِ بیت بیان کرنا شروع کیے تو ان کے دوست پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، دل غم سے بھر گیا جذبات قابو میں نہ رہے
وہ بار بار سینہ کوبی کرتا اپنے مُنہ پر چانٹے مارتا اور رقت کے عالم میں اپنی کیفیت کا اظہار کرتا
یہاں تک کہ بے اختیاری میں موصوف نے اپنے کپڑے بھی پھاڑ دیے
وہ درد بھرے لہجے میں بار بار ایک ہی فقرہ دہراتا
ہائے میں کیا کروں۔۔۔ہائے میں کیا کروں
مجلس کا ماحول بھی سوگوار ہو گیا
یہ منظر دیکھ کر منیر نیازی آہستہ آہستہ اپنے دوست کے قریب پہنچے،
اُس کے کان میں دھیمی آواز میں کہا، پہنڑ یکا سُنی۔۔۔ ہو جا
ایکدفعہ میں نے ایک تھریڈ لکھا تھا 8 اکتوبر 2005 زلزلے بارے جس میں ماما کے کشمیری کک بارے بتایا تھا کہ وہ کہتا تھا کہ لوگوں نے بکریوں کو دبا کر قبریں بنا کر ایڈ وصول کی تھی۔۔
اب بھی یہی ہو رہا۔۔۔
ایسی ہی خصلت ہے انکی ۔۔
انکو الگ کر دیں انکی کھرک مٹھی ہو
بے غیرتی بے شرمی بے حسی اور پنجاب کی عوام پر ظلم یہاں سے شروع ہوا تھا اِس پر خاموش رہے تو اگلوں نے مارچ میں لیوی 84 سے بڑھا کر 105 اور پھر 113 غالباً کر دی
پچھلے سال جون میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی تو وزیراعظم نے اعلان کیا ہم پیٹرول سستا نہیں کریں گے بلکہ اس کُٹ سے بلوچستان کی شاہراہ بنائیں گے
آج پہلی جون ہے آج احسن اقبال کہہ رہا ہے ہم نے ترقیاتی بجٹ میں 125 ارب روپے N 25 شاہراہ کے لیے بجٹ میں رکھے ہیں
سوال یہ ہے کہ جو ایک سال میں عوام سے سڑک کے نام پر پیسہ جمع کیا وہ کہاں گیا ؟
بلوچستان کا بجٹ کہاں جاتا ہے ؟
عوام کے پیٹ سفارتی کامیابیوں اور راتوں کو جاگ کر ایران کو بچانے سے نہیں بھریں گے
میاں صاحب اللہ دی قسمے گراونڈ لیول تے حالات ٹھیک نہیں
ایک علاقے میں ایک خاتون کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ جس شخص سے اس کا نکاح ہوتا، وہ کچھ ہی عرصے بعد وفات پا جاتا۔
اسی طرح دوسرے علاقے میں ایک مرد کے متعلق بھی یہی تاثر عام تھا کہ جس عورت سے اس کا رشتہ جُڑتا، وہ زیادہ عرصہ سلامت نہیں رہتی۔
کچھ نیک دل لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان دونوں کا آپس میں نکاح کرا دیا جائے، شاید قسمت کا یہ عجیب کھیل خود ہی کسی انجام تک پہنچ جائے۔
دونوں کا نکاح ہوا ،صبح پورا گاؤں کسی ناگہانی خبر کے انتظار میں تھا سماعتوں کا قبلہ نکاح والا گھرانہ تھا ۔
اچانک مسجد سے اعلان ہوا کہ
مومنو وہ دونوں منحوس زندہ ہیں البتہ جنازے کی تیاری پکڑو نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب چل بسے ہیں ۔
ان دو منحوسوں کا نکاح بھی کوئی مولوی رسک لے کر پڑھائے تو کوچۂ فیس بک میں کچھ سکون ہو جاوے ۔
دونوں اپنے اپنے قبیلے اور فکری علاقے میں ایک سی پراگندہ فکر کے نمائندے ہیں۔