“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا!
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا!
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں!
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
#سر_بکف_میدان_میں
یہ جنگ صرف خان صاحب کی نہیں ہے۔ یہ جنگ ہر اس شخص کی ہے جسے ظلم نے ستایا۔ یہ جنگ ہر اس ماں کی ہے جس کا بیٹا مارا گیا۔ یہ جنگ ہر اس بہن کی ہے جس کی عزت لوٹی گئی۔ یہ جنگ ہر اس نوجوان کی ہے جس کا مستقبل چرایا گیا۔ یہ جنگ ہر اس غریب کی ہے جس کا حق مارا گیا۔ یہ جنگ پاکستان کی ہے۔ اور یہ جنگ 4 اکتوبر کو جیتی جائے گی۔
یہ جنگ ہماری ہے، ہم لڑیں گے، ہم جیتیں گے — 4 اکتوبر کو تاریخ گواہ ہو گی، عوام نے ظلم کو شکست دی، خان کو آزاد کروایا، پاکستان کو بچایا — خون کے انقلاب سے، انشاءاللہ!
#سر_بکف_میدان_میں
بہنیں! تمہارے آنسو ہمارے آنسو ہیں۔ تمہارا درد ہمارا درد ہے۔ تمہاری قید ہماری قید ہے۔ تمہاری آہ ہماری آہ ہے۔ تم نے اپنے بھائی کے لیے سب کچھ سہا — جیل، رسوائی، تکلیف، تنہائی۔ اب تمہاری باری نہیں، ہماری باری ہے۔ 4 اکتوبر کو ہم نکلیں گے، اور تمہیں تمہارا بھائی واپس دیں گے۔
بہنوں کی پکار ہماری آخری کال ہے — 4 اکتوبر کو ہر بھائی، ہر بہن، ہر ماں، ہر بیٹا سڑکوں پہ ہو گا، خان کو گھر لانے کے لیے!
كان هذا المستوطن الإسرائيلي يحاول تدمير أرزاق الفلسطينين وقطع المياه عن أراضيهم ومحاصيلهم وإرهابهم في فلسطين المحتلة
ولكنه شعر بالخوف بمجرد مشاهدة الكاميرا،
لذلك نقول النشر وفضحهم شيء مهم.
هذه هي المقابر الجماعية في أوكرانيا بسبب الحرب الروسية الأوكرانية والتي مات فيها مئات الآلاف.
هكذا تتعامل أوروبا المتحضرة مع جثث الجنود الذين امروهم بالقتال!