Leaked document shows that the Pakistani military-backed government stopped polling results from coming out in Gilgit-Baltistan elections. Reports of massive rigging have poured in from the region.
Alleged Girl Abduction Reported in Rahim Yar Khan
رحیم یار خان میں لڑکی کا مبینہ اغوا؟
ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، جس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ رحیم یار خان میں لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا۔
#Pakistan#RahimYarKhan#CrimeNews
خدا کاواسطہ ہے مجھے چھوڑ دو ۔۔تمھیں اللہ کاواسطہ ہے مجھ پر رحم کھاو ۔۔ میں منٹ کر رہی ہوں ۔۔ مگر ظالمو نے اک نہی سنی ۔اور اپنی ح و س کا نشانہ بنا ڈالا۔۔
وہ کانپتے ہاتھ جن کی دعا آسمان تک تو پہنچی مگر زمین پر کسی نے انکی سنی ۔۔
ایک ماں کے کانپتے ہوئے ہاتھ کیا ہوتے ہیں؟ وہ ہاتھ جو صبح سویرے اٹھتے ہیں اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے، وہ ہاتھ جو اینٹوں کے بھٹے کی آگ میں جھلستے ہوئے بھی نہیں رکتے، وہ ہاتھ جو رات کو سوتے بچوں کے ماتھے پر پیار سے رکھے جاتے ہیں اور ��ہ ہاتھ جو اس روز اللہ کی طرف اٹھے تھے، بار بار اٹھے تھے، لرزتے کانپتے ہوئے اٹھے تھے، مگر درندوں کو کوئی خوف نہ آیا، کوئی رحم نہ جاگا۔
لاہور کے گجرپورہ میں ایک غریب مزدور عورت اپنے پسینے سے اپنے بچوں کا رزق کماتی تھی۔ وہ عورت جسے معاشرے نے کبھی پوچھا نہیں، جسے سیاست کے گلیاروں نے کبھی نہیں دیکھا، جس کا نام کسی طاقتور کی فہرست میں نہیں تھا، آج اس عورت کی چیخیں پوری انسانیت کے ضمیر کو جگا رہی ہیں۔
تین اوباشوں نے اسے زبردستی کھیتوں میں گھسیٹ لیا۔ اور جب وہ بار بار کہتی رہی کہ اللہ کے واسطے مجھے چھوڑ دو، اللہ کے واسطے، تو ان درندوں نے اس واسطے کی بھی پرواہ نہ کی۔ ظلم ڈ��ایا اور پھر اس ظلم کی ویڈیو بنا کر اسے ہمیشہ کے لیے زنجیروں میں جکڑ دیا۔
یہ ویڈیو ایسی ہے تکلیف دہ ہے کس طرح سے عورت منٹ سماجت کر رہی ہوتی اس کے ہونٹ کانپ رہے ہوتے ہیں کبھی کسی کے پاوں مپر ہاتھ لگا رہی تھی تو کبھی کسی کے ۔
یہ ویڈیو خود نہ صرف جرم کا ثبوت ہے بلکل اس پورے نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے جو غریب کو ہر روز پیس کر رکھ دیتا ہے اور طاقتور کو ہر روز آزاد چھوڑتا ہے۔
جب ایک صحافی خاتون نے اس مظلوم سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے تو اس نے جو کہا وہ کوئی جملہ نہیں تھا، وہ ایک پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ تھا۔ اس نے کہا کہ میں انہیں معاف کرنا چاہتی ہوں۔
یہ معافی نہیں تھی۔
یہ ایک ایسی عورت کی بے بسی تھی جو جانتی ہے کہ اس کے پاس لڑنے کے لیے نہ پیسہ ہے نہ اثر و رسوخ، نہ کوئی سفارشی نہ کوئی وکیل۔ اس کا شوہر ذہنی طور پر معذور ہے، گود میں ڈیڑھ سال کا بچہ ہے اور سینے میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا۔
اس نے کہا کہ میری عزت واپس نہیں آ سکتی۔
اس نے کہا کہ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔
جب ایک ماں یہ جملہ بولتی ہے تو سمجھ لو کہ پورا معاشرہ اپنی آزمائش میں ناکام ہو چکا ہے۔
این اے ایک سو بیس اور پی پی ایک سو اکاون کے نمائندو، آپ عوام کے ووٹوں پر اسمبلیوں تک پہنچے ہو۔ شاید اس عورت نے آپ کو ووٹ نہیں دیا، شاید اسے ووٹ کی طاقت کا علم بھی نہ ہو، مگر وہ آپ کے حلقے کی ایک بیٹی ہے اور آج وہ تنہا کھڑی ہے۔
کیا آج آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
یہ گجرپورہ کی زمین کا المیہ ہے کہ چند سال پہلے سیالکوٹ موٹروے پر بھی یہاں کے قریب ایک ماں کو اس کے بچوں کے سامنے ظلم کا نشانہ بنایا گیا تھا، مناواں میں ایک معذور خاتون کو ایک وردی پوش نے درندگی کا نشانہ بنایا اور آج پھر وہی کہانی، وہی درد، وہی بے بس عورت، وہی خاموش نظام۔
آخر کب تک؟
آخر کب تک اس خطے کی سڑکیں اور کھیت عورتوں کے خوف کی علامت بنتے رہیں گے؟
جو خوف ان درندوں کے دلوں میں ہونا چاہیے تھا، وہ خوف آج معصوم عورتوں کے دلوں میں ہے۔ یہ ترتیب بدلنی ہوگی۔ قانون کو اتنا مضبوط اور اتنا تیز ہونا چاہیے کہ کوئی ملزم ظلم کی ویڈیو بنانے سے پہلے اپنے انجام کو یاد کرے اور ہر درندہ یہ جان لے کہ اس کا کوئی رشتہ دار�� کوئی سفارشی، کوئی جیب میں رکھا نوٹ اسے اس آگ سے نہیں بچا سکے گا۔
اور کوئی ماں یہ جملہ نہ بولے کہ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔
کیونکہ اگر ایک بھی ماں یہ جملہ بولے تو ہم سب ناکام ہیں ہمارا معاشرہ ناکام ہے، ہمارا نظام ناکام ہے اور ہم سب اس ناکامی کے حصہ دار ہیں۔
جھنگ ایشال فاطمہ کیس
خصوصی رپورٹ کے مطابق
17/18 سالہ ایشال فاطمہ سلطان کالونی سے اغوا کے بعد قتل ہوئی۔
خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا۔
لڑکی کو خلیل حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے جایا گیا۔
گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔
سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔
بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔
حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔
خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔
والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔
سب انسپکٹر ملک علی رضا CCD نے امیش جوگی کو فوری گرفتار کیا۔
انچارج اسد دھولکہ، انسپکٹر حافظ عثمان ہراج ریڈ کر رہے ہیں۔
SHO سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کی۔
باقی ملزمان حسیب، حسن، خلیل الرحمان کی تلاش جاری ہے۔
CCD کیس میں محنت سے کام کر رہی ہے، ایک ملزم گرفتار، باقیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
جھنگ میں اک 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ صرف اپنی رول نمبر سلپ لینے گھر سے نکلی تھی
اک معصوم کام، ایlک چھوٹا سا قدم اور یہی آخری قدم ثابت ہوا
راستے میں چار درندوں نے اسے اغوا کر لیا اور تین دن تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے
جب اس کی حالت انتہائی خراب ہوگئی تو انہوں نے اسے نجی ہسپتال میں پھینک دیا،
جہاں سے DHQ ہسپتال جھنگ ریفر کیا گیا
لیکن وہ بچ نہ سکی اور گزشتہ رات اس دنیا سے چلی گئی
وہ پڑھنا چاہتی تھی
امتحان دینا چاہتی تھی اپنی زندگی بنانا چاہتی تھی
اور ان درندوں نے تین دن میں اس کی پوری زندگی چھین لی
یہ چار ملزمان ابھی تک کہاں ہیں؟ کیا گرفتار ہوئے؟
کیا پولیس نے کوئی کارروائی کی؟
یا یہ کیس بھی فائلوں میں دب جائے گا ؟
پولیس ڈیپارٹمنٹ، قانونی اداروں، وزیراعلیٰ مریم نواز، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے مطالبہ ہے کہ ان چاروں درندوں کو فوری گرفتار کیا جائے
اور سرعام ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی اور درندہ کسی کی بیٹی کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کر سکے
والدین سے گزارش خدارا اپنی بیٹیوں کو اکیلا نہ نکلنے دیں، ان کے ساتھ جائیں یا کسی قابل اعتماد شخص کو ساتھ بھیجیں
بیٹیوں کو سیلف ڈیفنس ضرور سکھائیں یہ معاشرہ اب محفوظ نہیں رہا
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں، بلکہ ہم اور زیادہ چوکس ہو جائیں
کاکول اکیڈمی کے ان درندوں کی اسی سوچ نے آج راولاکوٹ میں نہتے کشمیریوں کے خون کی ندیاں بہائی ہیں
فوج کے" ریٹائرڈ کیپٹن" کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی بنا کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کیلئے تعینات کیا گیا ھے
We ask for wheat and electricity and you give us bullets. What kind of sham democracy is this? Asks a young Kashmiri girl living in Pakistan occupied Jammu and Kashmir.
جھنگ میں طالبہ کے اغوا اور زیادتی کیس کا مرکزی ملزم لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔ انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ طالبہ اب اس دنیا میں نہیں رہی، والدین سے وعدہ ہے کہ ��ن کو ضرور انصاف ملے گا
🚨🚨Breaking News: Aabpara/Rawalpindi issues directive to all TV/Media to only take the listed below ‘experts’ ‘analysts’ to speak on what’s happening and AJK and remember they’re to highlight loss of official lives only and no mention of civilian casualties and NOT A SINGLE KASHMIRI on the list‼️
ایک اور درندگی ۔۔
جھنگ میں ایک 17 سالہ بچی کے ساتھ گینگ ر ی پ کیا گیا جب حالت غیر ہوئی تو ملزمان بچی کو ہسپتال چھوڑ کر فرار CCTV فوٹیج میں ملزمان واضح دیکھے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
راولا کوٹ فوج لوگوں کے گھروں میں گھس گئی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گ��ا
خواتین مدد کے لیے پکار رہی ہیں، عورتوں بچوں پر بدترین تشدد، کیا عاصم منیر آزاد کشمیر میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے؟
چار روز قبل لاپتہ 17 سالہ لڑکی کو زیادتی کے ملزمان ہسپتال چھوڑ گے جہاں دوران علاج طلبہ جان کی بازی ہار گی
یہ ملک انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے اور انسان یہاں سے نکل جائیں اتنے وسائل انسانوں کے پاس نہیں ہیں