تیسری آگ کی دہلیز
خدا پیغمبر بھیجنا بند کر چکا ہے
موٹے پیٹ والا سفید سانپ
فاختاؤں کے انڈے غڑپ کر گیا ہے
کبوتروں کی چونچوں پر خون ملنے کی سازش
لومڑی کے پیٹ میں ہضم ہو رہی ہے
لاشوں کی گرمائش سے
گِدھ کے پر اور زیادہ چوڑے ہو گئے ہیں
جامِ تعیش میں قید شاہین کی پرواز
آسودگی کے نشے میں سو گئی ہے
معصوم پرندے بے گھری کے خلاف
انڈوں کی ہڑتالوں پر ہیں
ماؤں کو چاہیئے کہ بچے جننا بند کر دیں
زمین کو خون کی بو سے ابکائیاں آنے لگی ہیں!
ضروری تو نہیں بچھڑنے کی شرط بے وفائی ہو، منافقت ہو، دھوکہ بازی ہو کبھی کچھ رشتے جان سے بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں مگر وقت کی مصلحت اسی میں ہوتی ہے انکی بہتری کیلیے ان سے دور چلا جانا اچھا ہوتا ہے ۔ ہاں میں مانتی ہوں وہ وقت بہت مشکل ہوتا ہے مگر خدا کی رضا میں راضی رہنا ہی عبادت ہے
وہ کسی اور کاہوگا تو قیامت ہوگی
پھر کسی کوبھی کسی سےنہ محبت ہوگی
اُسے دیکھےکوئی اچھا نہیں لگتا مجھ کو
اُس سےبڑھ کر بھی کوئی محبت ہوگی
رات کل چاند کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
وہ اکیلا ہے اُسےمیری ضرورت ہوگی
اے خدا اُس کوکسی اور کا ہونے نہ دینا
زندگی بھر مجھےپھر تجھ سےشکایت ہوگی
زندگی ہونی چاہیے تھی، لیکن شہر نہیں ہونے چاہیے تھے کوئی بھی قصبہ بیس ہزار سے زیادہ آبادی کا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
بڑے بڑے شہروں کے عین وسط میں رہنا، اپنے وجود کی نفی ہے
جبکہ انسانوں کے باہر کی دنیا خاموش اور خوبصورت ہے
دنیا میں جتنی خوبصورتی ہے وہ فطرت کی ہے
اور جتنی گندگی ہے وہ انسانوں کی پھیلائی ہے۔
☹️
سنا ہے زمیں پر وہی لوگ ملتے ہیں
جن کو کبھی آسمانوں کے اُس پار
روحوں کے میلے میں
اک دوسرے کی محبت ملی ہو
مگر تم ۔۔۔۔
کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیرے میں
ہنستی ہوئی روشنی ہو
لہو میں رچی !
رگوں میں بسی ہو
ہمیشہ سکوت ِ شب ِ غم میں آواز ِ جاں بن کے
چاروں طرف گونجتی ہو
اگر آسمانوں کے اُس پار
روحوں کے میلے میں بھی مل چکی ہو
تو پھر اس زمیں پر
مری چاہتوں کے کھلے موسموں سے گریزاں
مری دھوپ چھاؤں سے کیوں اجنبی ہو
کتابوں میں لکھی ہوئی
اور کانوں سنی
ساری باتیں غلط ہیں
کہ تم دوسری ہو
تصویر !
محبت کو دیکھنے کیلئے بصیرت چاہیے ہوتی ہے
دل کی بصیرت
جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی
اکثر انکو بھی نہیں جو مبتلائے محبت ہوتے ہیں
ایک بصیرت
جو محبت کو دیکھ بھی لیتی ہے اور محسوس بھی کر لیتی ہے
ہزار رویوں کے پردوں میں چھپا
ایک خالص رویہ
جس میں محبت کی روح ہوتی ہے
دل کی بصیرت اس روح کو دیکھ لیتی ہے
ہزار الفاظوں کی قطار میں
چھپا ایک لفظ
جو محبت کی ترجمانی کرتا ہے
جیسے کوئی ہزار باتیں کہہ چکا ہو
ان ہزار باتوں کو کہنے کا وقت
وہ وقت محبت کی گواہی ہے
کہ بغیر محبت کے کسی کو ایک لمحہ بھی نہیں دیا جاسکتا!
ہوسکتا ہے کسی کے پاس یہ بصیرت ہو
پر ایک تمنا ہے کہ سب کے پاس یہ بصیرت ہو
تاکہ محبت مکمل ہو
مکمل فقط وہ ہوتا ہے
جسے دیکھا جاسکتا ہو
جسے دیکھا نہیں جاسکتا
وہ نامکمل ہے
ایک تصویر
جس میں محبت کے ہر روپ کا عکس ہو
میں کینوس لے آیا ہوں
سارے رنگ میرے ہاتھ میں ہیں
لیکن کالا رنگ کہتا ہے کہ
محبت کی بصیرت فقط سیاہ میں ملتی ہے
میں نے محبت کی ایک تصویر بنائی
اور سب کے سامنے رکھ دیا
اسے فقط وہ ہی دیکھ سکتا ہے
جو صاحب بصارت ہو
یہ خدا کی نعمت بھی ہے اور رحمت بھی
خدا بڑا نےنیاز ہے
کچھ سے وہ سوال کرے گا
کچھ کو جانے دے گا
سوال ان سے ہونگے جو خود سوال کرتے رہے
جانے انکو دیا جائے گا جو خاموش رہے
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ
محبت کی تصویر کو ادب میں رہ کر دیکھا جاسکتا ہے
محبت سامنے مسکرا رہی ہو تو
اس کے پاس جا کر بیٹھ جاؤ
اور بصیرت کا ترازو نکال لو
اور پھر دیکھو کہ
تم کس قدر قابل ہو یا قابل ہی نہیں ہو
جو تم ہو وہ تمہاری سچائی نہیں ہے
جو تم نہیں بن پائے وہ تمہاری سچائی ہے
یہ مشکل باتیں ہیں
خوشی کی بات بس ایک ہے کہ
میں نے محبت کی تصویر بنائی ہے!
عباس
خواجہ سرا اور نامکملیت !
(پہلا حصہ )
اماں جی آج کیا ہم قورمہ بنا سکتے ہیں ؟
مہنگائی دیکھی ہے کتنی بڑھ چکی ہے (اماں نے بےرخی سے جواب دیا )
باجی ایک تو ہم آپ کی فرمائشیں پوری کر کر کے ہی پورے ہوگئے ہیں (اماں جی کی بہو مسرت نے بیچ میں نوالہ دینا ہمیشہ کی طرح اپنا حق سمجھا اور اماں جی کی بیٹی ہاجرہ کچھ وقت کیلئے خاموش ہوگئی )
اماں جی (ہاجرہ آہستہ سے بولی)
بول منحوس اب کیا موت پڑ گئی ہے تجھے !(اماں اب کی بار غصے میں بولی )
میرے سلائی کے پیسے ابھی آئے نہیں ہیں جب پیسے آئیں گے میں قورمے کے پیسے دے دونگی !(ہاجرہ کی آنکھ میں آنسو کم ہی آتے تھے اسکی آنکھیں اب پتھر کی ہوچکی تھیں اور شاید وہ خود بھی )
ایسی کون سی میت پڑ گئی ہے جو قورمے کی دیگ کے پیچھے پڑ گئی ہے (اماں اگر کڑاھی نہ کر رہی ہوتی تو یقیناً وہ ہاجرہ کو چپل اٹھا کر ضرور مارتی )
اماں جی ایسی فضول باتیں مت کیا کریں آپ (ہاجرہ ایک لمحے کو بھول گئی تھی کہ وہ اپنی ماں سے بات کر رہی ہے )
دیکھ لیں اماں جی یہ اب آپ سے زبان درازی کرنا شروع ہوگئی ہے منحوس کاموں کا یہ ہی نتیجہ ہوتا ہے اماں جی (مسرت جلتی پر تیل چھڑک رہی تھی )
اماں جی آج میرے شعیب کی سالگرہ ہے اسکو قورمہ بہت پسند ہے(ہاجرہ کی آواز میں ایک التجا تھی جیسے کوئی بھکاری بھیک مانگ رہا ہو )
تو طلاق نہ لیتی اپنے شوہر سے تب خیال نہیں آیا اب روتی پھر رہی ہے !
پھر میرے پاس شعیب نہیں ہوتا اماں !
دیکھیں باجی جی آپ بہت غلط جگہ انویسٹ کر رہی ہیں یہاں سے آپکو کوئی منافع نہیں ملے گا !
اپنی اولاد کی پرورش کرنا اسکی دیکھ بھال کرنا اسکی ضروریات پوری کرنا کوئی کاروبار نہیں ہے مسرت !
ایک تو آپ کی ہوائی سوچیں جس کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے آپ کی وجہ سے لوگ ہم پر بھی شک کرتے ہیں !
تو لوگوں کے منہ توڑ دو مسرت !
ہم سے یہ نہ ہوگا باجی جی (مسرت طنزیہ انداز میں بولی )
شعیب میری کُل دنیا ہے اس کیلئے اگر مجھے آپ سب کی زبان کھینچی پڑی تو وہ بھی کھینچ سکتی ہوں اور یہ سب آپ اچھے سے جانتے ہیں !
دیکھ ہاجرہ کسی کالج اسکول میں لگ جا سلائی سے زیادہ پسے آئیں گے پھر تجھے ہمارے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی (اماں جی اب اپنی بیٹی ہاجرہ کو مشورہ دے رہی تھی)
اچھا میں کام پر لگ جاتی ہوں اور جب گھر آؤں گی تو میرا شعیب گھر پر نہیں ہوگا یا تو اسکو آپ کا شوہر مار دے گا یا مسرت کا شوہر یا کسی کچرے میں پھینک کر آجائے گا !
چپ کر گھٹیا اولاد میرا شوہر تیرا باپ ہے اور مسرت کا شوہر تیرا بھائی جو مکمل مرد ہیں !
لیکن انسان پھر بھی نہیں ہیں اور میرے پاس مکمل انسان ہے میرا شعیب !(ہاجرہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی جہاں کھڑکی سے اسکا شعیب اسکو آتا دیکھ رہا تھا اسکا آٹھ سال کا شعیب جس پر نا مکملیت کا دھبہ تھا )
_____
الٹراساؤنڈ کروا لو ہاجرہ تاکہ پتہ چلے کہ بیٹا ہے یا بیٹی !(ہاجرہ کی ساس بولی )
ماں جی کرواچکی ہوں !
کیا بنا پھر ؟
آپ کے بیٹے کو بتا دیا ہے !
تجھے بتاتے شرم آتی ہے ؟
میں طلاق لے رہی ہوں آپ کے بیٹے سے !
ہائےے او میرے خدایا یہ کیسی بات کر رہی ہے اللہ تجھے پندرہ سال بعد اولاد سے نواز رہا ہے اور تو ایسی باتیں کر رہی ہے !
یہ بات اپنے بیٹے کو سمجھائیں کہ اولاد اولاد ہوتی ہے چاہے بیٹا ہو یا بیٹی یا پھر خواجہ سرا ؟
کیا مطلب ہے تیرا صاف صاف بول !
میں ایک خواجہ سرا کو جنم دوں گی اور آپکا بیٹا چاہتا ہے کہ اسکو جنم دینے سے پہلے مار دوں !
ہاجرہ ہوش کے ناخن لے یہ کیا فضول بولی جا رہی ہے !
میں اپنے گھر جا رہی ہوں !
اس وقت جا رہی ہے ؟وقت دیکھ رات کے تین بج رہے ہیں !
اپنے بیٹے کو کہہ دینا کہ دوسری شادی کرے اور مکمل بچے پیدا کرے اور اسکو کہہ دینا کہ میرا بچہ ان تمام بچوں سے بہتر انسان ہوگا کیونکہ وہ میری اولاد ہوگا !
اتنا غرور اچھا نہیں ہاجرہ !
ًغرور نہیں یقین ہے ماں جی !
اپنے شوہر کی بات مان لے ہاجرہ !
ناممکن ہے !
تُو خود کو اجاڑ رہی ہے ہاجرہ !
خود کو اجاڑ کر اپنی اولاد کو آباد کرونگی!
تو پچھتائے گی ہاجرہ !
اچھا ( ہاجرہ اپنا سامان پیک کرچکی تھی اور اب وہ برقعہ پہن رہی تھی )
اپنے شوہر کو بتا کر جا !
آج سے وہ میرا شوہر نہیں ہے !
( ہاجرہ نے پہلا قدم جب اپنے شوہر کے گھر سے باہر رکھا تو زمانے نے اس کے منہ پر رکھ کر پہلا طمانچہ مارا )
بدچلن مت بن لڑکی ( اب اسکی ساس کا انداز بدل چکا تھا)
اللہ حافظ ماں جی ( ہاجرہ نے مسکرا کر جواب دیا)
منحوس عورت تیری منحوسیت کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے تیری منحوسیت کی وجہ سے میرا بیٹا اولاد سے محروم رہا ( دروازے پر کھڑی ساس اونچا اونچا بول رہی تھی اور ہاجرہ زمانے کے رواج توڑ رہی تھی )
عباس
خواجہ سرا نا مکملیت !
(دوسرا حصہ )
دیکھ ہاجرہ تُو نے خود اپنے پاؤں میں کلہاڑی ماری ہے !
نہیں کلہاڑی آپ سب نے مجھے ماری ہے میں تو پھول لائی تھی (یہ اب روز کا معمول تھا اماں جی ہاجرہ کو روز سمجھانے سے شروع کرتی تھیں اور آخر میں ناختم ہونے والی بحث شروع ہوجاتی تھی )
باجی اسکو پھول کہتے ہیں (مسرت نے کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں سے شعیب جھانک رہا تھا )
اماں اسکو منع کر دیں میری اولاد کے بارے کچھ نہ بولا کرے اس سے دور رہا کرے (ہاجرہ برہم ہوچکی تھی )
چپ کر مسرت کبھی چپ بھی رہ لیا کر !(اماں نے اپنی بہو کو کہا )
باہر جا رہی ہوں تین چار گھنٹوں میں آجاؤں گی !
کہاں جا رہی ہو ؟(مسرت کے شوہر نے ہاجرہ سے سوال کیا جو بہت دیر سے موبائل میں لگا تھا )
شعیب کی سالگرہ ہے کچھ چیزیں لینی ہیں !
اچھا جاؤ !
ابھی تو باجی آپ کے پاس قورمے کے بھی پیسے نہیں تھے( مسرت نے ایک بار پھر بات کو بڑھاوا دیا)
اللہ وسیلہ بنا دیتا ہے !
_____
امی ؟
جی !
ہم کہاں جا رہے ہیں ؟
کچھ سامان لینے !
امی ؟
جی !
ایک فرمائش کر سکتا ہوں ؟
ہاں کیوں نہیں !
مجھے بھی ایک گڑیا چاہیے جیسے مامی کی بیٹی کے پاس ہے وہ مجھے اپنے ساتھ کھیلنے نہیں دیتی !
اور مامی کے بیٹے کے پاس گاڑی بھی ہے وہ نہیں چاہیے کھیلنے کیلئے ؟
وہ بہت مہنگی ہے امی ( شعیب بڑی معصومیت سے بولا اور اسکی معصومیت دیکھ کر اسکی ماں نے اسکا ماتھا چوما )
ہاجرہ نے ضرورت کی ساری چیزیں لے لی تھیں اس نے مشکل وقت کیلئے پیسے جمع کیے تھے پھر سوچا کہ اللہ مشکل وقت اگر دے گا تو سنبھال بھی خود لے گا وہ دونوں بس میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوچکے تھے شعیب کے ہاتھ میں ایک گڑیا تھی
امی وہ سامنے دیکھیں ! ( شعیب نے بس کی کھڑکی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں ایک خواجہ سرا سج دھج کر تالیاں بجا بجا کر بھیک مانگ رہا تھا ) امی یہ اور میں ایک جیسے ہیں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں!
لیکن مامی کہتی ہیں کہ میں بھی بڑا ہوکر تالیاں بجانے کا کام کرونگا !
اور کیا کہتی ہیں مامی ؟
کہتی ہیں کہ یہ سب سے آسان کام ہے تالیاں بجا کر پیسے ملتے ہیں!
اچھا !
امی ؟
جی !
مجھے تالیاں نہیں بجانی ہیں ( شعیب کی آنکھ میں آنسو تھے وہ فقط آٹھ سال کا تھا )
اچھا سن یہ تالیاں اس لیے بجا رہا ہے کیونکہ اس کے پاس اسکی امی نہیں ہے لیکن شعیب کے پاس تو اسکی امی ہے نا !(ہاجرہ اب پیار سے شعیب کو سمجھا رہی تھی )
جس کے پاس امی نہیں ہوتی وہ تالیاں بجاتے ہیں ؟
ہاں !
انکے پاس امی کیوں نہیں ہوتی ہے ؟
کیونکہ ۔۔۔(ہاجرہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ خالی آنکھوں سے شعیب کو دیکھ رہی تھی )
کیا انکی امی کو یہ پسند نہیں ہوتے ہیں ؟(شعیب نے ایک اور سوال کیا اور ہاجرہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا )
امی (شعیب نے اب اپنی امی کو دیکھتے ہوئے کہا )
جی !
آپ میرے ساتھ رہنا ورنہ میرے پاس امی نہ رہی تو مجھے بھی تالیاں بجانی پڑیں گی !
نہیں تو کبھی تالیاں نہیں بجائے گا تیری امی ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گی !
آج ہم قورمہ کھائیں گے نا ؟
ہاں !
آج بہت مزہ آنے والا ہے (شعیب اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا وہ آج بہت خوش تھا )
(ہاجرہ نے اس معاشرے کے خلاف جانے والے سمت پر اپنا راستہ بنایا تھا وہ جانتی تھی کہ یہ سب آسان ہرگز نہیں ہوگا ایک ڈر جو دل میں ہر وقت موجود رہتا تھا ہاجرہ جو راتوں کو سو نہیں پاتی تھی ہاجرہ کی شادی سترہ سال کی عمر میں ہوئی تھی اور بتیس سال کی عمر میں اللہ نے اسکو اولاد سے نوازا تھا یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ وہ اپنے بچے کو پھینک دے کیونکہ ہاجرہ جانتی تھی کہ ماں اگر اپنی ممتا پر آئے تو صفا و مروہ کے چکر تاقیامت لگا سکتی ہے )
_____
تُو اس وقت؟ (ماں نے دروازہ کھولا تو سامنے حاملہ ہاجرہ تھی ، صبح کے چھ بج رہے تھے )
ہاں کیا میں نہیں آسکتی ؟
آسکتی ہے اندر آجا (ہاجرہ کا اٹھواں مہینہ چل رہا تھا )
شوہر کدھر ہے تیرا ؟
اب وہ میرا شوہر نہیں ہے !
کیا مطلب ؟
کل ہسپتال میں اس نے مجھے دو طلاقیں دے دی ہیں !
ہوش میں تو ہے ہاجرہ کیا بکواس کر رہی ہے(ماں ہاجرہ کی باتیں سن کر ہکا بکا رہ گئی تھی گھر میں شور برپا ہوگیا تھا سب کے سب ہاجرہ کے اردگرد آ کر بیٹھ چکے تھے اور ہاجرہ پتھر کی مورت بن کر بیٹھی تھی )
تیری ساس سے پوچھتی ہوں !
ان سے مت پوچھیں انکو کہہ کر آئی ہوں کہ میں ان کے بیٹے سے طلاق لے رہی ہوں !
وجہ تو بتا کہ ہوا کیا ہے ؟(ہاجرہ کا باپ اب ہاجرہ سے پوچھ رہا تھا جب کہ ایک چارپائی پر اسکا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر کسی بات میں لگا ہوا تھا )
وجہ میرا بچہ ہے !
کیا مطلب تیرا بچہ (اماں نے سوال کیا )
وہ کہہ رہا تھا کہ میں بچہ گرا دوں اسکو مار دوں !
کیوں ؟
کیونکہ میری کوکھ میں ایک خواجہ سرا ہے !
عباس
شفا ہر وقت مانگنی چاہیے صرف انسانوں سے نہیں ، حد سے بڑھی ہوئی خواہشات سے
کسی کے خلاف پیدا ہونے والے بغض اور حسد سے ، دل کو گرد آلود کر دینے والی سوچوں سے ، اور ذہنی سکون چھین لینے والے انسانوں سے
مرد اور دوست !
( تیرہواں حصہ )
زندگی آگے بڑھنا شروع،ہوگئی تھی لیکن سست رفتار سے یہ واحد فرق ہے مرد اور عورت میں یعنی کہ زندگی کی رفتار کا!
مرد بظاہر آگے بڑھ جاتا ہے لیکن اسکی باقیات پیچھے ہی کہیں رہ جاتی ہیں وہ باقیات پہلے گلنا سڑنا شروع ہوتی ہیں پھر وہ خشک ہوکر خاک بنتی ہیں اور وہ خاک پھر کسی ہوا کے جھونکے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے !
اس انہونی کو ہوئے پانچ مہینے ہوچکے تھے اماں کی عدت ختم ہوچکی تھی شروع کے تین مہینے ابراہیم اور یحییٰ نے ایک اسکول میں کام کیا اس کے بعد ابراہیم کے ایک عدد انٹرویو کے بعد ابراہیم کو ایک کمپنی میں ملازمت مل گئ یہ وہ ہی جگہ تھی جہاں یحییٰ نے اسکی سی وی جمع کروائی تھی یحییٰ پورا دن اب کتابوں میں غرق رہتا تھا صبح اسکول پڑھانے جاتا تھا اورشام میں ٹیوشن پڑھاتا تھا محلے کے اب سارے بچے تقریباً یحییٰ کے پاس پڑھنے آتے تھے ابراہیم جاب سے واپس آکر یحییٰ کے پاس آجاتا تھا !
زندگی چل رہی تھی لیکن ابھی بہت کچھ اور باقی تھا !
باورچی ہفتے میں تین بار اپنے گھر سے کھانا بنا کر لاتا تھا یحییٰ گلی میں بیٹھ کر وہ کھانا کھاتا تھا اور ہر راہ چلتے کو کھانے میں بیٹھا لیتا تھا وہ اب برکت بنتا جا رہا تھا !
_______
سن ابراہیم !
ہاں بول !(وہ لوگ کالونی کے پیچھے والی پہاڑی پر موجود تھے رات کے گیارہ بج رہے تھے )
میرا نا قرآن پڑھانے کا بڑا دل کرتا ہے !
تو پڑھایا کر (ابراہیم نے اسکی طرف حیرت سے دیکھا تھا )
لیکن مجھے خود قرآن سہی سے پڑھنا نہیں آتا ہے مجھے تجوید تک نہیں آتی ہے!
میرے پاس آسان حل ہے اسکا !
کیا حل ؟
صبح فجر میں مجھ سے پڑھا کر اور جو میں پڑھاؤں وہ باقی سب کو پڑھایا کر !
کیا میرے پاس کوئی دین سیکھنے کو آئے گا ؟
تیرے پاس ہی تو آئیں گے !
میرا بڑا دل کرتا ہے میں قرآن کی آیات پڑھوں انکا ترجمہ پڑھوں اور سب کو بتاؤں کہ قرآن کیا کہتا ہے خدا کیا چاہتا ہے !
بس اپنی بات پر قائم رہنا سب اچھا ہوگا !
لیکن ابراہیم ۔۔۔۔
تو یہ کر سکتا ہے !
میں نےدین نہیں سیکھا ہےمجھے دین نہیں آتا ہے ابراہیم !
اب سن میری بات میں نے سیکھ کر دین کی بات کرنا شروع کی ہے تو نے بغیر سیکھے ہی دین پر عمل کیا ہےاس لیے تو صالح ہے یحییٰ اور صالح لوگ صالحین لوگوں کو پروان چڑھاتے ہیں تجھ سے بہتر یہ اور کوئی نہیں کرسکتا ہے !
میں بس بہتر بننا چاہتا ہوں ابراہیم !
تو سب سے بہتر ہے جانی اب بس کل سے بسم اللہ کرتے ہیں !
_______
یحییٰ کے مدرسے میں پہلا بچہ اس کے باورچی کا تھا جس کا نام بھی یحییٰ تھا دس سال کا معصوم بچہ وہ ہی بچہ جو اس کے پاس ٹیوشن بھی پڑھتا تھا حتی کہ باورچی نے اپنے بیٹے کا اسکول بدل کر وہاں ایڈمشن کروایا تھا جہاں یحییٰ پڑھاتا تھا ، یحییٰ کو اور جگہ سے آفرز آئی تھیں لیکن وہ صرف ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو پڑھانا چاہتا تھا
______
اماں کے سابق شوہر گھر کے باہر کھڑے تھے یحییٰ نے انکو کھڑکی سے دیکھا تو باہر دروازے پر آکر سلام کیا
السلام و علیکم انکل !
وعلیکم السلام !
تیری اماں سے بات کرنی ہیں مجھے!
انکل وہ بات نہیں کریں گی آپ مجھے بتا دیں (پیچھے سے ابراہیم آچکا تھا )
السلام و علیکم ابا سب خیریت ہے ؟
ہاں تمہاری امی سے کچھ بات کرنی ہیں !
جی ابا بولیں !
میرا ایک پیغام دے دو اپنی اماں کو میں حلالہ کروانا چاہتا ہوں (سابق شوہر کی بات سن کر یحییٰ کا چہرہ مکمل سرخ ہوچکا تھا اس نے زور سے مٹھیاں بند کر لی تھیں جب کہ ابراہیم پرسکون تھا )
یحییٰ تو ابو کو اپنے گھر پر بیٹھا چائے پانی دے میں جب تک اماں سے پوچھ کر آتا ہوں (اور ابراہیم بغیر کسی تاثر کے اماں کے پاس پہنچ چکا تھا )
اماں ابا آئیں ہیں !
اچھا کیوں ؟(اماں نے پانی کا گلاس ابراہیم کو پکڑاتے ہوئے کہا )
آپ کیلئے ایک پیغام لائیں ہیں !
کہ میں حلالہ کرلوں ؟
جی اماں !
تو نے کیا جواب دیا ؟
کوئی جواب نہیں دیا !
تو کیا چاہتا ہے ؟
کیا میں آپ کیلئے کافی نہیں ہوں اماں ، اماں یہ بڑا غلط ہے ظلم ہے !
اگر تو یہ نہ کہتا تو آج مجھے میری تربیت پر شک ہوتا جا اپنے باپ سے کہہ دے کہ میں دنیا چھوڑ چکی ہوں میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گی جس پر خدا کی لعنت ہو کہ یہ لعنت میری اولاد پر پڑے گی !
اماں آپ خوش ہو نا ؟
ہاں بیٹا اور میں خوش ہوں کہ خدا نے مجھے میری زندگی کا اجر تیری صورت میں دے دیا ہے !
(ابراہیم یحییٰ کے گھر گیا اور ابا کے سامنے بیٹھ گیا )
اماں نے انکار کردیا ہے !
تو کیا چاہتا تھا ؟
میں بھی یہ ہی چاہتا تھا کہ امں انکار کریں !
اپنی اماں کو کہنا کہ مجھے معاف کردے (ابا اٹھ کر چلے گئے تھے )
یہ گناہ ہے نا ابراہیم ؟(یحییٰ بولا )
گناہ کی سب سے بدترین قسم ہے مرد عورت پر سب سے بڑا ظلم اس سے زیادہ اور کوئی کر ہی نہیں سکتا ہے !
عباس
اگر کبھی میں اپنی
منزل بھول جاؤں
تاریکیوں میں کھو جاؤں
اور تمہیں مجھ پر
احسان کرنے کا موقع ملے
تو ہچکچانا مت!
میرے رستے میں کھڑے ہو کر
پورے یقین سے کہنا کہ
واپس چلو
یہ اندھیروں کی دنیا ہے!
یہ گمراہی کا راستہ ہے
جبکہ تم
صراط مستقیم پر چلتے اچھے لگتے ہو۔
🥀