واشنگٹن پاکستانی ایمبیسی کے سامنے ایک ڈیجٹل ٹرک کھڑا کر دیا گیا ہے جس پر عاصم منیر کی اسلام آباد قتل عام کو اجاگر کیا گیا ہے
عاصم منیر Butcher of Islamabad
پی ٹی آئی کے ان تمام امیدواروں کے لیے جنہیں جان بوجھ کر دھاندلی اور دباؤ کے ذریعے الیکشن میں اپنی جیت سے محروم کیا جا رہا ہے، ابھی مقابلہ کرنے کا وقت ہے، یہ چند گھنٹے آپ کے مستقبل کے لیے، خان صاحب کے مستقبل کے لیے، عوام کے لیے بہت اہم ہیں۔ دباؤ بنائیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں، آر او آفس کے باہر احتجاج کریں، آپ کو ہارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، عوامی قوت استعمال کریں۔ اگر آپ بڑی تعداد میں مزاحمت کرتے ہیں، تب ہی آپ اپنی سیٹ واپس جیت سکتے ہیں! کل بہت دیر ہو جائے گی، عدالتیں آپ کو انصاف نہیں دیں گی!
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں ہو
انا للہ و انا الیہ راجعون
وہ چچا جسے ہم ابا بلاتے تھے پولیس گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔نہایت سادہ لوح اور بے ضرر انسان تھے۔مال مویشی پالنا کھیتی باڑی کرنا ذریعہ روزگار تھا۔
کچھ سال پہلے مخالفین نے اپنے سیاسی تعلقات استعمال کرکے میرے سترہ سال کزن کے خلاف پر ایک جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی۔جس میں بعد میں بے گناہ قرار پائے۔.لیکن مخالفین کی فرمائش پہ پولیس اسے مسلسل ٹارگٹ کرتی رہی۔..اور چند مزید مقدمات میں شامل کر دیا۔..
مخالفین کا مقصد بھی پورا ہوتا رہا اور پولیس کی روزی روٹی بھی چلتی رہی۔..پولیس ہر دوسرے ہفتے ریڈ کرتی اور گھر کے کسی ایک فرد کو اٹھا لیتی۔.منہ مانگی رقم لے کر چھوڑ دیتے۔..پھر کچھ ہفتوں بعد ایسے ہی دوبارہ کیا جاتا۔..
اس سب سے تنگ آ کر چچا نے بیٹے سے اعلان لا تعلقی کر دیا کہ بار بار چاردیواری کے تقدس کی پامالی اور خواتین کے ساتھ بداخلاقی بند ہو جائے۔.عرصہ دو سال سے پولیس کو " مطلوب" کزن بھی کراچی میں مزدوری کر رہا اور گھر سے دربدر ہے۔
اس کے باوجود صرف سال 2023 میں بیس سے زیادہ دفعہ پولیس نے ریڈ کیا اور انکے ایک دو بیٹوں کو لے جاتے اور پیسے لے کر پھر چھوڑ دیتے۔..
پرسوں رات 2:30 بجے قاتل SHO جبران جیراڈ پولیس تھانہ پکالاڑاں تحصیل لیاقت پور نے ریڈ کیا تو میرا کزن موجود نہیں تھا موقع پر میرے بزرگ چچا موجود تھے انکو زدوکوب کیا گیا انکے اورانکے ایک بیٹے کے ہاتھ باندھ کر وین میں ڈال دیا گیا 65 سالہ بزرگ کوتشدد کے باعث صدمے , ہراسمنٹ کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہو گیا اور موقع پر انکی ڈیتھ ہوگئی ۔
پولیس انہیں قتل کے بعد گاڑی سے نیچے پھینک کر انکے بیٹے کو تھانے لے کر چلی گئی۔.لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ بزرگ کی ڈیتھ ہو گئی ہے تو اس رہا کر دیا گیا۔
بزرگ کو فوری طور ہر THQ لائے تو انچارج ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کر دی۔
ہم نے پولیس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا مقامی مجسٹریٹ کو پوسٹ مارٹم اور FIR کی درخواست دی۔
رات 3 بجے سے لے کر سارا دن ہمیں تھانے کچہری میں گھمایا جاتا رہا۔.اور پریشرائز کیا جاتا رہا اور پوسٹ مارٹم میں تاخیر کیلیے گھٹیا منفی حربے استعمال کیے گئے کہ صلح کر لیں۔
شام کو ہمیں ضلعی ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کیلیے ریفر کر دیا گیا۔رات کو 9-10 کے قریب پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔
پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے میرے انکل کی ڈیڈ باڈی کو اپنی تحویل میں لے کر کسی اور جگہ منتقل کر دیا جو صبح سے لے کر ابھی تک ہمیں ڈیڈ باڈی واپس نہیں کی گئی ۔
اب لاش حوالگی قاتل SHO جبران جیراڈ کی اجازت اور صلح سے مشروط ہے۔
پولیس ذرائع نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ آپ لوگ لواحقین کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں بصورتِ دیگر ڈیڈ باڈی واپس نہیں کی جائے گی ۔ پولیس گردی ظلم کی انتہا ہوگئی ہم صبح سے لے کر ابھی تک شدید ذہنی اذیت دکھ میں مبتلا ہیں پولیس نے ہمارے ساتھ انتہائی ظلم کیا اب مزید ایسے اقدامات کرکے اذیت پہنچائی جارہی ہے ۔
آپ سب دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پولیس گردی کے خلاف ہماری آواز کو آگے پہچانے تک ہماری مدد کریں اور تمام اعلیٰ حکام سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ پولیس کے اس ظالمانہ ، جابرانہ اقدام کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے ۔
جو آئینہ دکھائے یا تباہی سے روکنے کی کوشش کرے، اسے ارشد شریف کی طرح شہید کر دو، عمران ریاض کی طرح تشدد سے ذہنی مفلوج کر دو، یا عمران خان کی طرح جیل میں ڈال دو
لیکن کرپٹ ترین لوگوں کو حکومت دیکر ملک برباد کروا لو
یہ ہے انکی عقل اور ذہنیت جو اپنے آپکو کو ریاست کےمامے سمجھتے ہیں
لوگوں کی فلاح کا کام پاکستان میں کیسے کریں ان جھوٹے پروپیگینڈا مشینری کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ بڑے بڑے میڈیا سیل ہیں اور یہ غریب عوام کے دشمن ہیں ویڈیو دیکھئیے اور لازمی ری ٹوئیٹ کیجئیے
75 سال بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یہ حشر ہے کہ ایک عزت دار غریب کی بیوی کو بند کمرے میں رکھا جاتا اور اسکے خاوند کو کہتے تیری بیوی کو ننگا کر کے اسکی ویڈیو بنائیں گے اور سوشل میڈیا پر ڈال دیں گے....
کیا اس دن کے لیے 50 لاکھ لوگوں نے جان دے کر اسلام کے نام پر ملک حاصل کیا تھا.
"پاکستان دیوالیہ ہو نہیں رہا، ہو چکا ہے۔ ہم اس وقت ایک دیوالیہ ملک میں رہ رہے ہیں" -
وفاقی وزیر، خواجہ آصف کا اعتراف
اسحاق ڈار اور PDM حکومت کو مسلط کرنے والوں کا تہہ دل سے شکریہ !! 🙏
پشاور دھماکہ
میجر جنرل ندیم انجم سے گزارش ہے اپنی اور ISI کی توجہ ملکی سیاست اور عمران خان کو قابو یا نا اہل کرنےسے ہٹاکر دہشت گردوں کو کنٹرول کرنےپر لگائیں۔
دہشت گردی کےخلاف فوج کے جوانوں اور افسروں کی ہزاروں قربانیوں سےحاصل ہونے والی کامیابیاں پر آپ کے دورمیں پانی پھر رہا ہے۔
زردای فارمولا ناکام،شجاعت فارمولا ناکام،رانا فارمولا ناکام،میڈیاپراپیگنڈا مہم فارمولاناکام،بس کامیاب ہوا تو عمران فارمولا۔۔پرویزالہٰی جنکی تاریخ ہمیشہ اقتداری سیاست،اس بار اقتدار ٹھکرا کر تاریخ بدل دی۔۔
نوٹ۔۔اتنا کچھ ہوگیا مگر لندن سےرہبر،قائد،قائدِاعظم ثانی اور امام خمینی نہ آیا
اگر کسی کا احتساب نہیں ہونا اور سب نے 'باعزت' بری ہونا ہے تو احتساب کے ادارے ختم کر دیں تاکہ ان پر قوم کا پیسہ خرچ نہ ہو۔ ایک طرف قوم کا پیسہ لوٹا جاتا ہے، دوسری طرف اس کی واپسی کے نام پیسہ پانی کی طرح بہتا ہے اور ہاتھ کچھ نہیں آتا، ہر دو طرح سے قوم خسارے میں رہتی ہے