آج خواجہ آصف کو پاکستان میں اور پاکستان آرمی میں اسرائیل کی طاقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا۔ ن لیگی ٹرولز ابھی بے وقوف ہی بنے رہیں گے۔ فوج کے ٹاؤٹ صحافی رات کو یہ جواز پیش کریں گے چونکہ پاکستان مزاکرات “کروا” رہا ہے اس لیے غیر جانبداری کے تاثر کیلیے ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا ضروری تھاجبکہ اسرائیل مزاکرات کا حصہ ہی نہیں۔
https://t.co/0TFndpnIZZ
Imran Khan’s son, Kasim Khan, attends a conference to revoke Pakistan’s GSP+ status with the European Union, calling into account “human rights violations”: specifically with regard to his father’s imprisonment.
آج اور کل عمران خان کے انتہائی اہم کیسز لگے ہیں عدالت میں۔ ہسپتال منتقلی، توشہ خانہ اور القادر یونیورسٹی کیسز کی سماعت ہوگی۔
سوشل میڈیا پر ہم میں سے کافی لوگ ایک بار پھر بہت امید لگائیں گے اور اگر فیصلے عمران خان کے حق میں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہ آئے تو کافی دن اداس بھی رہیں گے۔
اداس ضرور ہوں مگر واپس ضرور آئیے گا۔ یہ جدوجہد اور لمبی ہوسکتی ہے۔ چار سال اس میں survive کرنا کافی مشکل تھا مگر آپ سب جو یہ کارنامہ سرزد کرگئے ہیں، بہت خاص لوگ ہیں۔ کوئی کتاب میں یا ڈاکیومنٹریز میں ذکر کرے یا نہ کرے، جو عزت ایک دوسرے کے لیے دل میں ہے، وہ کسی بھی recognition سے بڑھ کر ہے۔ سب سے زیادہ اسپیشل ہیں آپ کیونکہ آپ کو اس جدوجہد کے بدلے میں کچھ نہیں چاہیے سوائے بہتر پاکستان کے۔
جو لوگ صرف یہ پڑھ سکتے ہیں اور جواب دینے کی اجازت نہیں ہے پھر سے گرفتاری یا اغواہ کی دھمکیوں کی وجہ سے، ان سب کو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو کوئی نہیں بھولا۔ کبھی افسردہ نہ ہوں ۔۔۔ آپ میں سے بہت سے لوگ پاکستان میں مقیم ہیں یا پھر آپ کی قریبی فیملی پاکستان میں ہے جسے عاصم منیر اور ٹیم استعمال کرتے ہیں دھمکانے کے لیے ۔۔۔آپ جتنا کر سکتے تھے آپ نے کیا، باقی کی جدوجہد آپ کے بہن بھائی جو اللہ کے کرم سے ابھی تک آزاد ہیں، وہ کر رہے ہیں، بس آپ دعا میں سب کو یاد رکھیں!
یہ نہیں پتہ کہ کتنے دن یا کتنے سال اور لگ جائیں ، مگر یہ پتہ ہے کہ آخر میں جیت عمران خان اور عوام کی ہی ہوگی۔ finish line پر سب ملیں گے انشاءاللہ۔ اور اس وقت تک #ChallengeAccepted رکھیں!
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"عنقریب شام، عراق اور مصر کی فَے (یعنی مال و غلہ) بند ہو جائے گی، اور تم وہیں لوٹ جاؤ گے جہاں سے تم پہلے آئے تھے، وہیں لوٹ جاؤ گے، وہیں لوٹ جاؤ گے۔"
حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث نمبر: 2887
🚨🚨 اہم ترین، عمران خان نے کئی بار پیغام بھیجا ہے کہ میرے وکیل عدالتوں میں جا کر بیٹھ جائیں اور میرے کیسز لگوائیں لیکن وکلا عدالتوں میں نہیں جاتے ، آج سینئر وکلا کہاں ہیں ؟
سہیل آفریدی ، سلمان اکرم راجا ، سلمان صفدر اور ہم بہنیں یہاں موجود ہیں لیکن وکیلُ کہاں ہیں ؟
حامد خان سینیٹر ہیں وہ کہاں ہیں ؟، لطیف کھوسہ ، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر ، علی بخاری کہاں ہیں ؟ علیمہ خانم
عمران خان نے آخری دو ملاقاتوں میں بہت تکلیف سے زور دے کر کہا کہ میں اتنی مشکل جیل کاٹ رہا ہوں اور میرے وکیل عدالتوں تک نہیں جا سکتے ؟ کہ وہ میرے کیسز لگوانے کے لیے عدالتوں میں بیٹھ جائیں ، عمران خان نے خاص طور پر سینئر وکلا کے لیے حکم بھیجا کہ وہ عدالتوں سے اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک کیسز لگ ناں جائیں ، میں نے بار بار پرسنلی پیغامات بھیجے ، ڈاکٹر عظمی
عمران خان صاحب کو ایک دفعہ پھر اُن کی فیملی کو بتائے بغیر اور اُن کے ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں PIMS لایا گیا۔ جو قانوناً جرم ہے۔ PIMS میں آنکھ کے بہترین علاج کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہے اور ایسے میں پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم کا وہاں سے آنکھ کا علاج کرانا اُن کی صحت کے ساتھ مذاق ہے۔
ہمارا مطالبہ اب بھی وہی ہے کہ عمران خان صاحب کا علاج اُن کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی اور فیملی ممبر کی موجودگی میں ہو۔ اگر اس جعلی حکومت کی یہی ہٹ دھرمی جاری رہتی ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ قوم سے کچھ چُھپایا جا رہا ہے۔
Imran Khan is saying, “I am unable to see from my eye, and I should be given immediate access to my personal doctors,” said Aleema Khan.
I appeal to human rights organizations to raise their voice for Imran Khan’s health.
@hrw@UNHumanRights
#WhatAreTheyHiding
From the news, we found out that Imran Khan was taken to PIMS again in the middle of the night, supposedly for his second injection in the eye.
When the law requires that family be informed before any medical procedure is conducted on a prisoner, why was the family not informed?
We do not trust the diagnosis or test reports from Government medical facilities. There are already reports coming from PIMS that the doctors are being threatened with serious consequences if any information is leaked about Imran Khan.
What are they Hiding?
Our family rejects their reports even if they issue these doctored reports to the public. We stand by our demand that Imran Khan be examined and treated in Shifa International (Islamabad) by specialists, under the supervision of Imran Khan’s personal doctors and in the presence of his family.
PIMS (Govt Hospital) is not equipped to treat anyone for the alleged condition that has developed in Imran Khan’s eye.
It is criminal what this Government is doing, and they will be held accountable for each and every violation and crime they are committing against Imran Khan.
#ShiftKhanToShifaInternational
عمران خان کی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی، ابہام یا سمجھوتہ ناقابلِ برداشت ہے۔ان کے اہلِ خانہ کو کسی سرکاری ہسپتال پر اعتماد نہیں تو یہ ان کا آئینی اور بنیادی حق ہے کہ ان کا علاج مکمل شفافیت کے ساتھ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کروایا جائے۔
#ShiftKhanToShifaInternational