وزیراعظم صاحب ہم آپ کے ساتھ ہیں کیونکہ آپ حق پر ہیں؛ ہم آپ کو اور آئین پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
~مولانا اسعد محمود کا قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال۔
ہماری نظر میں سپریم کورٹ اور موجودہ بینچ اس کیس میں واضح طور پر فریق کا کردار ادا کر رہاہے۔دو صوبوں میں انتخابات سے متعلق فریق کےموجودہ کردار کے بعد عدالت پر کوئی اعتماد نہیں رہا،چیف جسٹس صاحب ہو یا انکے ساتھ شریک دومعزز جج صاحبان کی جانبدارانہ روش نےسپریم کورٹ کو تقسیم کردیا ہے۔
اس وقت ملک کو نیشنل اکنامک ایکشن پلان کی ضرورت ہے
ایکسٹینشن جیسے حساس معاملہ پر اس نااہل حکومت میں قانون سازی کی کوئی اہلیت نہیں ،متنازع حکومت کے فیصلے بھی متنازع ہی ٹھہریں گے
ملک کو درپیش بحرانوں سے نکلنے کیلئے ازسرنو صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہوچکا
سیاست دانوں نے تو عدالتی فیصلوں پر پھانسی اور نااہلی تک قبول کرلی ،
سیاست دانوں کے خلاف نیب اور عدلیہ کے فیصلے مبنی بر انصاف سمجھے جاتے ہیں مگر اسی عدلیہ کا فیصلہ آپ کیلئے ناقابل قبول کیوں !
اس طرح بالادستی کا جبری اظہار قوم کو کسی صورت قبول نہیں۔
پرویز مشرف ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت کےصدر ہیںیہ خود ہی کہا کرتے تھے کہ اب وہ سویلین ہیں،مگر اب فوج نے کیوں اس فیصلے کو ادارےکے خلاف فیصلہ سمجھ لیا،ہمیں تو کہا جاتا ہے احتیاط کی جائے مگر کیا اداروں کو احتیاط نہیں کرنا!
ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا
ہمیں اس ملک سے محبت ہے اور ہمیں اسکی ترقی اور استحکام کی فکرہے
مگر یہاںتو صرف خود کو ہی محب وطن تصور کیا جاتا ہے،
ایسے تمام کام جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان پر خاموشی معنی خیز ہے
نااہل حکومت کی وجہ سے ملک کے سنجیدہ معاملات بھی متنازع ہوچکے