ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دینے والے جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دینے والے بہادر جج کو قتل کرنے والے دراصل بلوچستان میں انصاف کے دشمن ہیں
From Henry Kissinger to Ghassan Kanafani, Nelson Mandela to Noam Chomsky, discover the books Dr Mahrang Baloch is reading in prison.
Dr Baloch is serving a life sentence for her activism for the rights of the Baloch people. She must be released:
https://t.co/c3xWKgWpm4
Pakistan: Dad Shah was forcibly disappeared from his home in Karachi, Sindh, on 21 April by state officials allegedly belonging to the Counter Terrorism Department. Since then, his family has received no information about his whereabouts.
When his mother and sister tried to speak out, they were harassed and detained by the local police. His family believes he is being targeted in connection with his sister’s human rights activism.
📢 Authorities must immediately reveal his fate and whereabouts, ensure his safety, and end all reprisals against his family.
Take action NOW: https://t.co/YO45nRDPEj
#EndEnforcedDisappearances
ملیر ندی مر نہیں رہی بلکہ ہم اسے مار رہے ہیں
ماحولیاتی صحافت میں ایک اصطلاح ہے “سست تشدد”: وہ تباہی جو آہستہ آہستہ ہوتی ہے، جو فوری نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے کیمرے نہیں آتے، بریکنگ نیوز نہیں بنتی۔ لیکن وہ اتنی ہی حقیقی ہوتی ہے جتنی کوئی آنے والی تباہی۔
https://t.co/SxO07j5ajs
Malir Expressway Shahrah e Bhutto
The environmental toll on Karachi vs. toll collected
At what cost? Heatwaves and urban flooding, PKR 55 Billion spent
#SaveMalirRiver
نوشکی کلی مینگل ایریا میں حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ "ڈیتھ اسکواڈز" کی فائرنگ کے نتیجے میں براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب اور دانشور پروفیسر غمخوار حیات جاں بحق ہوگئے۔
#Nushki | #TBPNews
All political actors, human rights organizations, activists, and concerned voices are urged to engage in this campaign and advocate firmly for the safe recovery of Daad Shah Baloch . Sustained public pressure is essential to confront the ongoing pattern of enforced disappearances and to demand transparency and justice. Join and raise your voice on 25 April 2026, from 6 PM to 12 AM, to strengthen this collective demand.
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
Social Media Campaign
Today marks three days since Dad Shah Baloch was forcibly disappeared, and his whereabouts remain unknown. A social media campaign will be launched tomorrow, April 25, against the enforced disappearance of Dad Shah Baloch.
We urge all political and human rights organizations, activists, and concerned individuals to take part in this campaign and raise their voices for the safe release of Dad Shah.
Time: 6:00 PM to 12:00 AM
Date: 25 April 2026
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
فوزیہ بلوچ کو اُن کے اہلِ خانہ سمیت آرام باغ ویمن پولیس اسٹیشن میں غیر واضح بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ وکلاء کو اُن سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور ایک ایسی ایس ایچ او، جس کا اس تھانے کی حدودِ اختیار سے کوئی تعلق نہیں، یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ “یہ اوپر کا معاملہ ہے”، اور اسلئے تب تک بتایا نہیں جائیگا کہ فوزیہ بلوچ اور اُن کے خاندان کو کب تک زیرِ حراست رکھا جائے گا یا اُن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی بھی جائے گی یا نہیں۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پولیس خود بھی کسی نامعلوم “اوپر” سے آنے والے احکامات کی منتظر ہے، جو قانون کی حکمرانی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
فوزیہ بلوچ کے بھائی، داد شاہ بلوچ کو 21 اپریل کو دوسری مرتبہ ان کے گھر سے اہلِ خانہ کے سامنے، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ فوزیہ بلوچ اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف رپورٹ درج کرانے کے لیے تین مرتبہ قریبی پولیس اسٹیشن جا چکی ہیں مگر ان کی درخواست تک وصول کرنے سے انکار کیا گیا۔
پولیس، جو خود ان جبری گمشدگیوں میں براہِ راست ملوث دکھائی دیتی ہے، اس سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ متاثرہ خاندان کا ساتھ دے گی، مگرسوال یہ ہے کہ متاثرہ خاندان آخر کہاں جائے؟ کس دروازے پر دستک دے؟ نہ پولیس کوئی قانونی راستہ فراہم کرتی ہے، نہ ہی پریس کلب متاثرین کو اپنی آواز اٹھانے کے لیے جگہ دیتے ہیں، متاثرہ خاندان اپنے گمشدہ پیارے کے لئے در بدر ہے، بجائے خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے کے، کوئی بھی متاثرہ خاندان کی آواز تک سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔
پورے بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں کسی اتفاقیہ عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کے تحت جاری ہیں۔ آئے روز انسانی حقوق کی ان سنگین پامالیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، اور یہی ریاستی جبر اب کراچی میں بلوچ آبادیوں تک پھیل چکا ہے۔
8 اپریل کی رات شرافی گوٹھ کے علاقے شاہ علی گوٹھ میں ریاستی فورسز نے گھروں پر چھاپے مار کر ایک ہی خاندان کے 9 افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔ ان میں کمسن بچے اور شکیلہ نامی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ اس طرح کی رروائیاں نہ صرف آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے تصور کو بھی چیلنج کرتی ہیں، اور بلوچوں کو اس طرح انکے گھروں سے حراست میں لینا اس تصور کو بھی مضبوط کرتی ہیکہ کوئی بھی قانون سے ماورا ہو کر شہریوں پر مسلط کیا جا رہا ہے، جہاں احتساب اور شفافیت کا کوئی وجود نظر نہیں آتا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک طویل عرصے سے ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ رہی ہیں، مگر اب اس کا دائرہ اس حد تک خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے کہ جس میں بلوچ عورتیں اور بچے تک شامل ہیں، اور یہ صرف ریاستی جبر نہیں ہے بلکہ وہ منظم اور خاموش نسل کشی ہے، جسے دنیا کی بے حسی اور خاموشی مزید تقویت دے رہی ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
سچ کی قیمت: جب رپورٹنگ گناہ اور ریاست فریق بن جائے
مجھے صحافت کی راہداریوں میں دو دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں، جن میں سے زندگی کے بہترین 16 سال میں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے گزارے۔ میری صحافت ہمیشہ سے ایک کھلی کتاب رہی ہے، ایک ایسی کتاب جس کے دامن پر نہ کبھی سو روپے کی رشوت کا داغ لگا اور نہ ہی کسی کو بلیک میل کرنے کا دھبہ۔ میں نے ہمیشہ ان کانٹوں بھری راہوں کا انتخاب کیا جہاں لوگ قدم رکھنے سے بھی کتراتے ہیں۔ چاہے وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ہو یا توہینِ مذہب کے مبینہ کیسز میں سسکتے وہ سینکڑوں خاندان جن کے بچے جیلوں میں پڑے ہیں؛ میں نے ہر معاملے کو صرف اور صرف انصاف اور صحافتی اصولوں کی بنیاد پر رپورٹ کیا۔
میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مجھ سے کبھی غلطی نہیں ہوئی ہوگی، لیکن میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری کسی بھی رپورٹنگ کے پیچھے کبھی "بدنیتی" شامل نہیں تھی۔
جنوری 2025 میں جب مبینہ بلاسفیمی کیسز کے متاثرہ خاندانوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، تو مین اسٹریم میڈیا کے کیمرے وہاں موجود تو تھے مگر ان کی سکرینیں مصلحت کا شکار ہو گئیں۔ میں نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا اور نابینا حافظ زم زم کی والدہ اور ایمان مزاری کا انٹرویو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر کر دیا۔ سچ کی تپش اتنی تیز تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر ایک کہرام مچ گیا۔
صحافتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے میں نے دوسرے فریق، مبینہ بلاسفیمی گینگ کے وکیل راؤ عبدالرحیم کو بھی 27 منٹ کا بھرپور وقت دیا تاکہ وہ اپنا موقف پیش کر سکیں۔ مگر سچ کا سامنا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
اس دوران مجھے حافظ طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ (جو اب میرے خلاف درخواست گزار ہیں) نے فون کیا اور مذہبی جذبات کے نام پر مجھے قائل کرنے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے "ایمان اور عشق" کی بات کی تو میرا جواب بڑا واضح تھا:
"حضور! یاد رکھیں میرے بڑے بیٹے کا نام محمد اور اکلوتی بیٹی کا نام فاطمہ ہے۔ مجھے عشقِ رسول ﷺ کے اسباق نہ پڑھائیں، مجھ سے انصاف اور قانون کی بات کریں۔ اگر کوئی واقعی مجرم ہے تو آپ کو فون کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"
میں نے انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی براہِ راست نشریات کے دوران بھی موقف دینے کا کہا، مگر صاحبِ موصوف کیمرے کے سامنے آنے کے بجائے شام کو کسی اچھے ہوٹل میں کھانے کی پیشکش کرتے رہے۔
فتووں کی زد میں میری زندگی:
جب دلائل ختم ہوئے تو بزدلانہ حربے شروع ہوئے۔ لال مسجد کے ترجمان حافظ احتشام نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مجھ پر "ختمِ نبوت کے باغیوں کا ترجمان" ہونے کا لیبل چپکا دیا۔ جب میں نے ان سے اس بہتان کی وجہ پوچھی تو جواب ملا: "آپ کو جواب دینا توہین سمجھتا ہوں۔" یہ صرف ایک ٹویٹ نہیں تھا، بلکہ میری اور میری فیملی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا ایک کھلا پروانہ تھا۔
میرے ساتھ کیا ہوا؟:
• میری گاڑی کے شیشے توڑے گئے۔
• بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں نے میرا پیچھا کیا اور مجھے ہراساں کیا۔
• اب این سی سی آئی (NCCIA) کے ذریعے مجھ پر نوٹسز کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے۔
ریاست سے میرے چند سوالات
آج میں این سی سی آئی اے اور حکامِ بالا سے پوچھنا چاہتا ہوں:
1. ہراساں کرنے کا یہ انداز کیوں؟ میں پچھلے 25 سال سے گاؤں چھوڑ چکا ہوں اور 16 سال سے اسلام آباد میں مقیم ہوں، پھر میرے گاؤں کے پتے پر نوٹس بھیجنے کا کیا مقصد ہے؟ کیا میرے بوڑھے والدین اور خاندان کو خوفزدہ کر کے مجھ پر دباؤ ڈالنا مقصود ہے؟
2. یکطرفہ کارروائی کیوں؟ کیا یہ ادارہ حافظ احتشام جیسے لوگوں کو بھی نوٹس جاری کرے گا جنہوں نے مجھے نشانہ بنا کر میری جان کو حقیقی خطرے میں ڈالا؟
3. صحافت جرم ہے؟ کیا اب صرف متاثرہ خاندانوں کا موقف پیش کرنا ہی بغاوت قرار پائے گا؟
میرا عزم
میں حکومت اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے یا میرے اہل خانہ کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچا، تو اس کے ذمہ دار وہ تمام محرکین ہوں گے جو اس مہم کے پیچھے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں! یہ نوٹسز، یہ پتھر اور یہ دھمکیاں نادر بلوچ کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ میرا ایمان اس قول پر پختہ ہے کہ: "جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں، اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں۔" میں اپنا کام اور اپنے فرائض اسی بے باکی سے انجام دیتا رہوں گا، کیونکہ میں بکنے اور جھکنے کے لیے صحافت میں نہیں آیا تھا۔
ہاں اگر کسی کےپاس اپنے دعووں کی حقیقت میں کچھ کہنے کو ہے وہ میرے پلیٹ فارم پر آئے اور اپنا وقف پیش کرے۔ فیصلہ عوام کریں گے۔
26 December 2025 will mark seven years since Rashid Hussain’s enforced disappearance. His niece @Mahzeb_Shafiq was in Islamabad just a few months ago exercising her right to peaceful protest in demanding his release.
Today, young Mahzeb’s father has also been forcibly disappeared!
#EndEnforcedDisappearances